ہمارے دیہی معاشرے کی ایک پرانی تصویر ہے جو وقت گزرنے کے باوجود زیادہ نہیں بدلی۔ کسی خان، چودھری یا وڈیرے کی بیٹھک ہو، اونچی چارپائی ہو، اردگرد مسلح لوگ کھڑے ہوں اور درمیان میں وہ چند چہرے جو وڈیرے کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر وقت اپنے سردار کے شانہ بشانہ رہتے ہیں، اس کے اشارے پر چلتے ہیں، اس کے جھگڑے نمٹاتے ہیں، اس کے مخالفین کو سمجھاتے ہیں اور اس کے ہر جائز و ناجائز کام کے گواہ بھی ہوتے ہیں۔
بظاہر یہ لوگ بااختیار دکھائی دیتے ہیں۔ لوگ انہیں قابل رشک نگاہ سے اس لیے بھی دیکھتے ہیں کہ یہ اپنے آقاؤں کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں۔گاؤں میں ان کا رعب بھی ہوتا ہے، ان کی بات بھی سنی جاتی ہے اور لوگ ان سے خوف بھی کھاتے ہیں۔ مگر اگر آپ ان کے گھروں کی طرف رخ کریں تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ کچی دیواریں، بوسیدہ دروازے، بچوں کی ادھوری تعلیم اور گھریلو پریشانیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ گویا جو شخص پورے علاقے کے فیصلے کرتا پھرتا ہے، وہ اپنے ہی گھر کا نظام سنبھالنے سے قاصر ہے۔
ایک لطیفہ ہے کہ ایک شخص ہر وقت دوسروں کے جھگڑے نمٹانے میں مصروف رہتا تھا۔ کسی نے پوچھا: بھائی، تم اپنے گھر کے مسائل کب حل کرو گے؟ وہ ہنس کر بولا: میرے گھر میں کوئی جھگڑا ہی نہیں ہوتا! پوچھنے والے نے حیران ہو کر کہا: کیوں؟ جواب آیا: کیونکہ میں گھر جاتا ہی نہیں! اس ہلکے پھلکے لطیفہ میں ایک گہری حقیقت چھپی ہے کہ جب انسان اپنی ساری توانائیاں دوسروں کو خوش کرنے اور دوسروں کے معاملات سنبھالنے میں لگا دیتا ہے تو اس کے اپنے معاملات بکھرنے لگتے ہیں اور یہ بکھراؤ آہستہ آہستہ اس کی پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔اب ذرا اس تصویر کو وسیع کریں۔ گاؤں میں خان یا کسی وڈیرے کی بیٹھک سے نکل کر ملک کی بڑی بیٹھک تک آئیں۔ یہاں کردار بدل جاتے ہیں، لباس بدل جاتا ہے، زبان بدل جاتی ہے مگر رویہ وہی رہتا ہے۔ مسئلہ عوام کا نہیں سیدھا اہلِ اقتدار کا ہے۔ وہی جو فیصلے کرتے ہیں، ترجیحات طے کرتے ہیں اور قوم کا رخ متعین کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے کہ موجودہ جنگ کے بظاہر وقتی خاتمے میں پاکستان نے ایک مثبت اور فعال کردار ادا کیا۔ صلح صفائی اور ثالثی کی اسلام بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ یقینا بڑی فضیلت کا کام ہے اور اس میدان میں پاکستان نے نہ صرف ذمہ داری دکھائی بلکہ عالمی سطح پر اپنا نام بھی روشن کیا۔ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہت خوب! سوال مگر پھر بھی لوگ وہی کرتے ہیں کہ اپنے گھر کا کیا حال ہے؟ ہماری گلیوں میں اسکول ہیں، مگر تعلیم نہیں۔ ہمارے شہروں میں اسپتال ہیں مگر علاج نہیں۔ ہمارے نظام میں عدالتیں ہیں مگر انصاف کہیں گم ہو چکا ہے۔ خارجہ محاذ پر کامیابیاں اپنی جگہ مگر اندرونِ ملک مسائل بدستور توجہ کے منتظر ہیں۔ایک دوست نے کبھی طنزاً کہا: ‘ہم دنیا کے مسائل حل کرنے نکلے ہیں، اپنے مسائل کو چھٹی دے کر!’ بات ہنسی میں اُڑا دی جاتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم نے ترجیحات کا توازن کھو دیا ہے۔دنیا میں ایسے کئی ممالک ہیں جن کا نام شاید ہماری زبان پر آسانی سے نہ آئے مگر وہاں کے اہلِ اقتدار نے اپنے عوام کو اولین ترجیح بنایا ہے۔ انہوں نے اپنے ‘گھر’کو سنبھالا، اس کی بنیاد مضبوط کی اور پھر دنیا میں اپنی جگہ بنائی۔ جبکہ ہم نے دنیا میں نام کمانے کے باوجود اپنے گھر کو قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
اصل مسئلہ طاقت نہیں، اس کا استعمال ہے۔ طاقت اگر خدمت کے لیے ہو تو برکت بن جاتی ہے اور اگر نمائش کے لیے ہو تو زوال کا سبب۔ ہمارے ہاں طاقت کا توازن اکثر نمائش کی طرف جھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اہلِ اقتدار کو چاہیے کہ جس بصیرت اور فعالیت کا مظاہرہ انہوں نے عالمی سطح پر کیا اسی سنجیدگی کو اپنے داخلی معاملات میں بھی دکھائیں۔ کیونکہ قومیں صرف سفارتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ اندرونی استحکام اور عوامی فلاح سے مضبوط ہوتی ہیں۔
ہمارے چراغ تلے اندھیرا شاید اِس لیے ہے کہ ہم نے روشنی کا رخ باہر کی طرف کر رکھا ہے۔ اگر ہم اس روشنی کو ذرا سا موڑ کر اپنے گھر، اپنے لوگوں اور اپنے نظام پر بھی ڈال دیں تو شاید اندھیرا کم ہونا شروع ہوجائے۔ ورنہ ہم دوسروں کے درمیان ہزار بار صلح صفائی کرلیں ہمارے اپنے ملک پر چھایا ہوا اندھیرا کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

