دنیا بھر میں ہر سال 3 مئی کو آزادیٔ صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزاد صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ مہذب معاشروں کی بقا کی ضمانت ہے۔ اس دن کا آغاز 1993ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے بعد ہوا جبکہ یونیسکو ہر سال اس موقع پر ایک عالمی تھیم پیش کرتا ہے۔ امسال 2026ء کا سلوگن ‘ Shaping a Future at Peace’ہے۔ یعنی امن پر مبنی مستقبل کی تشکیل۔ یہ تھیم محض ایک خوبصورت جملہ نہیں بلکہ ایک گہرا پیغام ہے: اگر دنیا کو امن کی طرف لے جانا ہے تو سچائی، شفافیت اور ذمہ دار صحافت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ جہاں معلومات مسخ ہو جائیں وہاں نفرت جنم لیتی ہے اور جہاں سچ دب جائے وہاں امن کا خواب بھی ادھورا رہ جاتا ہے۔
صحافت کو بجا طور پر ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں اقتدار کے ایوانوں سے لے کر معاشرے کے ہر طبقے تک سب اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ صحافی نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ وہ عوام کے مسائل، مصائب اور مشکلات حکومت تک پہنچاتے ہیں اور عوامی فلاح کے اقدام و منصوبہ جات کے بارے میں عوام کو آگاہی دیتے ہیں۔ صحافت ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر کوئی اپنا چہرہ واضح طور پر دیکھ سکتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ آمریت ہو یا جمہوریت ہر دور میں طاقتور حلقوں نے اس آئینے کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ سچ لکھنے والوں پر پابندیاں لگائی گئیں، آوازیں دبائی گئیں اور دھمکیاں دی گئیں۔بعض صحافیوں پر قاتلانہ حملے کروائے گئے، انہیں مارا پیٹا گیا اور کچھ کو تو جان سے بھی مار دیا گیا لیکن اس کے باوجود قلم نے ہار نہیں مانی کیونکہ سچ کی طاقت وقتی طور پر دب تو سکتی ہے کمزور تو ہوسکتی ہے لیکن ختم نہیں ہو سکتی۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صحافیوں کو سنگین خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر بااثر گروہوں تک کئی قوتیں ایسی ہیں جو سچ کو سامنے آنے سے روکنا چاہتی ہیں۔ متعدد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، کئی زخمی ہوئے اور کئی خاموش کر دیے گئے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ایک صحافی سچ سامنے لانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے نہ صرف پیشہ ورانہ مشکلات بلکہ جان کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر اس کے باوجود نظریاتی صحافت سے وابستہ افراد آج بھی حرمتِ قلم کے لیے سربکف ہیں۔ 2026ء کا تھیم ہمیں ایک اہم حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ امن اور صحافت لازم و ملزوم ہیں۔
ایک ذمہ دار میڈیا ہمیشہ نفرت انگیزی کے بجائے مکالمے کو فروغ دیتا ہے۔ غلط معلومات کے بجائے حقائق کو سامنے لاتا ہے اورتصادم کے بجائے ہم آہنگی کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر میڈیا غیر ذمہ دار ہو جائے تو معاشرے میں انتشار بڑھتا ہے جبکہ ذمہ دار صحافت قوموں کو جوڑتی ہے، شعور بیدار کرتی ہے اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے۔ آج کا دور روایتی صحافت سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ سوشل میڈیا، فیک نیوز اور مصنوعی ذہانت جیسے عوامل نے صحافت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب صرف خبر دینا کافی نہیں بلکہ خبر کی تصدیق، سیاق و سباق اور ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ اس تناظر میں Shaping a Future at Peace ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بھی صحافت کو اپنی اخلاقی حدود اور ذمہ داریوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
یہ لمحہ فکریہ ہے کہ صحافیوں کی جانوں کو لاحق خطرات کے باوجود ان کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کبھی نہیں کیے گئے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں گیا۔ دیگر پیشوں کی طرح صحافت کا پیشہ بھی ریاست سے تحفظ اور تعاون کا متقاضی ہے۔ ایک مہذب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قوانین بنائے۔ آزادی اظہار کو یقینی بنایا جائے اور میڈیا کو دباؤ سے آزاد رکھا جائے کیونکہ جب قلم محفوظ ہوگا تو سچ بھی محفوظ ہوگا اور جب سچ محفوظ ہوگا تو معاشرہ بھی مستحکم ہوگا۔
جرمن مفکر مارٹن لوتھر نے کہا تھا کہ ‘اگر آپ دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں تو اپنا قلم اٹھائیں اور لکھنا شروع کریں’۔ آج کے دن یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ معنی رکھتی ہے۔ آزادی صحافت صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا اجتماعی حق ہے۔ اگر ہم واقعی ایک پُرامن مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں قلم کی آزادی، سچ کی حرمت اور صحافت کی خودمختاری کو ہر حال میں یقینی بنانا ہوگا کیونکہ جہاں قلم آزاد ہوتا ہے وہاں معاشرے امن کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔

