بَیْتُ اللّٰہ

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”بے شک لوگوں کے لیے اللہ کی عبادت کے واسطے جو پہلاگھر بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور تمام جہانوں کے لیے ذریعہ ہدایت ہے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں، مقامِ ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہوا،وہ بے خوف ہوگیا، بیت اللہ کا حج کرنا ان لوگوں پر اللہ کا حق ہے جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جس نے کفر کیا تو بے شک اللہ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے، (آل عمران)”۔

اس مرکزِ عبادت کو ”بیت اللہ” اور” کعبة اللہ” کہتے ہیں۔”بیت اللہ” نہ مسجود ہے، نہ معبود۔ مسجود ومعبود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے اور وہ زمان و مکان کی تحدیدات سے ماورا ہے۔ بیت اللہ کی عمارت پتھروں کی بنی ہوئی ہے ۔یہ ہمارے لیے جہتِ عبادت ہے تاکہ مسلمانوں کے درمیان ایک مرکزیت قائم ہو۔فرمایا:”بے شک ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف اٹھنا دیکھ رہے ہیں،سو ہم آپ کواسی قبلے کی طرف ضرورپھیر دیں گے جو آپ کو پسند ہے،پس آپ اپنا چہرہ مسجدِ حرام کی طرف پھیر لیں اور(مسلمانو!) تم جہاں کہیں بھی ہو(نماز کے وقت )اپنا چہرہ اُسی کی طرف پھیر لیاکرو، (البقرہ)”۔ بیت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت اُس کے شرف کو ظاہر کرنے کے لیے ہے جیسے معجزے کے طور پر حضرت صالح علیہ السلام کے لیے جو دس ماہ کی گابھن اونٹنی چٹان سے پیدا کی گئی تھی،اسے قرآن کریم نے ‘نَاقَةُ اللہ ‘ کہا ہے۔ اسی معنی میں حدیث پاک میں مساجد کو ”بیوت اللہ” کہا گیا ہے۔

بیت اللہ کو ابتدا میں ملائکہ نے تعمیر کیا، پھر جب طویل مدت گزرنے کے بعد بیت اللہ کی عمارت منہدم ہوتی رہی تو اُسے ازسرِ نو تعمیر کیا جاتا رہا۔ علامہ احمد قسطلانی تعمیر ِ بیت اللہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”بیت اللہ کوپہلی بار فرشتوں نے بنایا، دوسری مرتبہ حضرت آدم علیہ السلام ، تیسری بار حضرت شیث بن آدم ، چوتھی بار حضرت ابراہیم علیہ السلام ، پانچویں بار قوم عمالقہ ، چھٹی باربنی جُرہم ، ساتویں باررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِّاعلیٰ حضرت قُصَیِّ بِن کِلَاب، آٹھویں بار قریش اور نویں بار حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا پوری کرنے کے لیے کعبة اللہ کو منہدم کرکے دوبارہ بنائے ابراہیمی پر بنایا۔ پھر دسویں بار عبدالملک بن مروان کے حکم سے حجاج بن یوسف نے اس کو پھر منہدم کر کے بنائے قریش کے مطابق بنادیا۔” (اِرشَادُ السَّارِی،ج:3)

اس سے معلوم ہوا کہ مختلف ادوار میںحادثاتِ زمانہ کے نتیجے میں بیت اللہ کی عمارت منہدم ہوتی رہی یا اُسے نقصان پہنچتا رہا ہے، اسی سبب اُسے بار بار تعمیر کیا جاتا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ کعبة اللہ کی دوبارہ تعمیر بنائے ابراہیمی پر ہو لیکن آپ نے حکمتِ دین کے تحت وسائل ہونے کے باوجود اپنی خواہش پر عمل نہیں فرمایا۔

حدیث پاک میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم تازہ تازہ کفر کو چھوڑ کر اسلام میں نہ داخل ہوئی ہوتی تو میں کعبة اللہ کومنہدم کرکے زمین سے ملا دیتا اور پھر (تعمیرِ نو کے بعد) اس کے دو دروازے بناتا: ایک شرقی جانب اور ایک غربی جانب اور اس میں حِجر (حطیم) کی جانب تقریباً تین گز کا اضافہ کرتا، کیونکہ قریش نے جب کعبہ بنایا تو عمارت کے احاطے میں کچھ کمی کردی تھی۔” (صحیح مسلم)

الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی اور اُس وقت آپ کو وسائل بھی میسر تھے لیکن آپ نے دینی حکمت کے تحت اپنی خواہش پر عمل نہ کیا کہ کہیں بیت اللہ کی عمارت پر کدال اور ہتھوڑے چلاتے ہوئے لوگوں کی عقیدت کو ٹھیس نہ پہنچے، کیونکہ وہ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ان کے ذہنوں میں بیت اللہ کی تقدیس کاایک تصور تھا۔ پھر جب حجاز میں حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت قائم ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کی تکمیل کی خاطر بیت اللہ کومنہدم کرکے از سرِ نو بنائے ابراہیمی پر تعمیر کیا۔

پھر اُموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف کے ذریعے کعبة اللہ کی عمارت کو شہید کرکے دوبارہ بنائے قریش پر تعمیر کیا گیا۔ پھر عباسی خلیفہ ہارون الرشیدنے امام مالک سے رائے لی : کیا میں بیت اللہ کو ایک بار پھر منہدم کر کے بنائے ابراہیمی پر تعمیر کرادوں تو امام مالک نے فرمایا: ”میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ کعبة اللہ کو اسی طرح رہنے دیں، بار بار منہدم کرنے سے اس کی ہیبت اور جلال میں کمی آئے گی۔(تفسیر قرطبی ،ج:2،ص:124) امام مالک کی رائے بصیرت اور دُوراندیشی پر مبنی تھی کیونکہ اگر ایک بار اس کا دروازہ کھول دیا جاتا توپھر ہرآنے والا حاکم یہ چاہتا کہ وہ اپنے دور میں نئی شان کے ساتھ بیت اللہ کی تعمیر کرے تاکہ یہ عمارت اس کی طرف منسوب ہو۔ اس طرح ممکن ہے کہ بیت اللہ کی عمارت سونے اور چاندی کی اینٹوں کی بن جاتی، لیکن یہ بازیچہ اطفال بن کر رہ جاتا اور اس کی جلالت و حرمت میں کمی آتی۔ پس امام مالک کا امت پر احسان ہے کہ انہوں نے اپنی دینی بصیرت سے آئندہ رونما ہونے والے فتنوں کاسدِّباب کردیا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی تربت پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔

سورة الدخان: 37 میں ‘قومِ تُبَّع’ کا ذکر ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ‘تُبَّع ‘یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا، اسی لیے تُبَّع حِمیَری کہا جاتا ہے، جیساکہ روم کے بادشاہوں کا لقب قیصر، فارس کے بادشاہوں کا کِسریٰ، حبشہ کے بادشاہوں کا نجاشی، قبطیوں کے بادشاہوں کا فرعون، ترکوں کے بادشاہوں کا خاقان، مصر کے بادشاہوں کا عزیز تھا اور مسلمان حکمرانوں کا لقب امیرالمومنین یاخلیفہ تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک معیّن شخص کا نام ہے اوریہی قول زیادہ درست ہے۔ حدیث پاک میں ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُبَّع کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اسلام قبول کرچکا تھا۔ (مسنداحمد) بعض روایات میں ہے: ‘تُبَّع’ کعبة اللہ کو ڈھانے کے ارادے سے آیا تھا، اُسے ایک لاعلاج بیماری لاحق ہوگئی، اُسے ایک دانا شخص نے بتایا کہ بُرے ارادے کو دل سے نکال دو، تمہیں شفا مل جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ پھر اُسے نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰة و السلام کی بابت معلوم ہوا تو وہ اسلام لے آیا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مدینہ طیبہ میں ایک دومنزلہ گھر بنایا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام حسبِ ذیل مکتوب لکھا:

”حمد و صلوٰة کے بعد! میں آپ اور آپ پر اُتاری جانے والی کتاب پر ایمان لایا۔ میں آپ کے دین اور سنّت پر ہوں، میں آپ کے رب اور ہرچیز کے رب پر ایمان لایا۔ آپ اپنے رب کی طرف سے جو احکام لائیں گے میں اُن سب پر ایمان لایا۔ اگر میں نے آپ کا زمانہ پایا توبہت اچھا ہوگا اور اگر میں نے آپ کا زمانہ نہ پایا تو آپ میری شفاعت فرمانا اور قیامت کے دن مجھے بھول نہ جانا، کیونکہ میں آپ کی اُمت کے اوّلین میں سے ہوں۔ آپ کی آمد سے پہلے میں نے آپ کی بیعت کی، میں آپ اور آپ کے والد ابراہیم علیہ السلام کی ملّت پر ہوں اور پھر اس نے خط کے آخر میں مہر لگائی۔ اس مہر پر یہ نقش تھا: ”اول و آخر حکم اللہ کے لیے ہے” اورخط کا عنوان یہ لکھا: ”اللہ کے نبی، اس کے رسول، خاتم النبِیّن محمد بن عبداللہ کے نام تُبَّعِ اول کی جانب سے۔” (تفسیر قرطبی، جز:16،ص:146)

امام ابن عساکر لکھتے ہیں: ”پھرتُبَّع مدینہ منورہ گیا اور وہاں سے ہندوستان کے کسی شہر میں چلا گیا اور وہیں فوت ہوگیا۔ تُبَّع کی وفات کے ٹھیک ایک ہزار سال بعد سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، جن اہل مدینہ نے ہجرت کے وقت نبی علیہ السلام کی نصرت کی تھی، وہ سب ان علماء کی اولاد میں سے تھے جو مدینہ منورہ میں تُبَّع کے بنائے ہوئے گھروں میں رہتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو وہ لوگ آپ کی اونٹنی کے گرد آکر اکٹھے ہوگئے اورہر ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے جانے پر اصرار کرنے لگا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اس اونٹنی کو چھوڑ دو، یہ اللہ کے حکم کی پابند ہے” حتیٰ کہ وہ اونٹنی حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے آکر بیٹھ گئی تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھرپر قیام فرمایا۔ حضرت ابوایوب انصاری اُس عالِم کی اولاد سے تھے جس نے خیرخواہی کے جذبہ سے تُبَّع کو نصیحت کی تھی اور اس کو کعبہ منہدم کرنے کے ارادہ سے باز رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب کے جس گھر میں ٹھہرے تھے یہ تُبَّع ہی کا بنایا ہوا تھا۔” (تاریخ دمشق، ج:11، ص:67-77، خلاصہ)