سی سی ڈی پنجاب کا خوف، جرائم میں نمایاں کمی

اپریل 2025ء میں وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ( سی سی ڈی) کا قیام عمل میں آیا جو پنجاب پولیس کا خصوصی شعبہ ہے۔ اس کے قیام کا مقصد صوبہ بھر میں قتل، اغوائ، ڈکیتی، دہشت گردی اور خواتین و بچوں سے جنسی زیادتی جیسے سنگین جرائم کی بیخ کنی اور ان کا خاتمہ ہے۔ محکمہ پولیس میں مرد آہن ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کو اس شعبہ کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا جن کا کہنا تھا کہ ”جرائم پیشہ عناصر کو زمین کے پاتال سے ڈھونڈ کرکیفر کردار تک پہنچائیں گے، پنجاب کو جرائم پیشہ افراد سے پاک کرکے یہاں مثالی امن و امان اور عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنا اولین ترجیح ہے۔ بہت جلد صوبہ پنجاب شریف شہریوں کے لیے امن کا گہوارہ اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے انگاروں کی سیج بنا دیں گے۔” اور پھر اس نئے ڈیپارٹمنٹ نے وجود پاتے ہی صوبے بھر میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف منظم طریقے سے ”مربوط کارروائیوں” کا آغاز کر دیا، سنگین جرائم میں مطلوب دہشت گردوں کو گرفتاری دینے پر مجبور اور مزاحمت پر مار دیا گیا اور کہیں جنسی زیادتی و ہراسانی کرنے والے ملزمان جن کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج سے ہوئی دوران گرفتاری ان کے نیفے میں رکھا پستول چل گیا جس کے بعد ملزم کو زخمی حالت میں علاج معالجے کیلئے مقامی اسپتال پہنچا دیا گیا۔ ایسے افراد بھی کیفر کردار کو پہنچے جو اسکولوں، کالجوں کے باہر اور محلوں میں طالبات اور دیگر خواتین کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے تھے۔ نتیجتاً سی سی ڈی کی محنت سے پنجاب میں جرائم کی شرح میں واضح کمی آئی اور افسروں اور جوانوں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں عوام میں پہلی دفعہ حقیقی احساس تحفظ پیدا ہوا۔

آج گلیوں، کوچوں، چوراہوں، چوکوں اور بازاروں میں سی سی ڈی سے متعلق بات ہو رہی ہے، ایک گھمبیر خوف ہے جو جرائم پیشہ افراد میں پایا جاتا ہے، بہت سے جرائم پیشہ ملک چھوڑ گئے یا زیر زمین چلے گئے ہیں۔ اس اسپیشل ونگ نے اب تک جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں، ا س نے ہر جرم کرنے والے پر سی سی ڈی کی دھاک بٹھا دی ہے۔ خوف کا ایساعالم، ہم نے آج تک جرم کرنے والوں پر نہیں دیکھا۔ ایسے واقعات بھی مشاہدے میں آئے ہیں کہ بہت سے سنگین مقدمات میں ملوث، حتیٰ کہ مقامی پولیس کو مطلوب اشتہاری بھی اپنی جان بچانے کے لیے سی سی ڈی کو گرفتاریاں دے رہے ہیں، معافیاں مانگ رہے ہیں اور جرائم کی دنیا سے توبہ تائب ہونے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کررہے ہیں۔

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے انچارج سہیل ظفر چٹھہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں ایسا وقت آنے والا ہے جب خواتین زیورات پہن کر گھر سے باہر نکلیں گی تو انہیں کوئی ڈر اور خطرہ محسوس نہیں ہوگا۔ کسی شاپنگ مال، بازار یا مارکیٹ میں کسی کی جرات نہیں ہو گی کہ میلی آنکھ سے انہیں دیکھ سکے۔ ان کا کہنا تھا مریم نواز نے پنجاب سے جرائم ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، ان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ عادی اور بدنام زمانہ جرائم پیشہ افراد کو نہ چھوڑا جائے بلکہ ہر حال میں ان کی سرکوبی کی جائے۔ بلاشبہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے مطابق صوبے کو کرائم فری بنانے پرسی سی ڈی پر عزم دکھائی دے رہی ہے۔ پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے عوام میں احساس تحفظ پیدا کرنے کیلئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے قیام کا تجربہ کامیاب رہا۔ ہر دور میں پولیس نے کچھ اچھا کرنے کا سوچا ہی تھا لیکن سی سی ڈی نے وہ سب کر دکھایا جو ہر مہذب و پرامن شہری کا خواب تھا۔ اس کے پیچھے بہترین افسران کا انتخاب ہے۔

حالیہ دنوں میں سی سی ڈی کی تیز ترین کارروائیوں کے دوران لگ بھگ پانچ سو پولیس مقابلوں کے دوران چار سو کے قریب خطرناک ملزموں کو مار دیا گیا اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ تھانوں میں پانچ سوسے زائد مقدمات کا اندراج بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ کنٹریکٹ اور ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے چھپے کردار اور شوٹروں کے ذریعے قتل وغارت اور بدامنی پھیلانے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی بھی تیار کرلی گئی ہے۔ اسکول اورکالجز میں منشیات کا استعمال عام ہونے سے نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی، سی سی ڈی ایسے تمام تر کریمنلز کے لئے بھی خوف کی علامت بن کر سامنے آچکی ہے۔ ایسے جرائم پیشہ افراد جو اپنے اپنے شہروں میں دہشت کی فضا پیدا کرنے کیلئے جرم کی دلدل میں دھنس چکے تھے، ان کو اس دلدل میں گھس کر آپریشن جاری کر دیا ہے جس کے مثبت نتائج بھی فوری سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جرم کی نمائش کرنے والے بھی گرفت میں آ رہے ہیں، اسلحہ کی نمائش جو کہ عام تھی وہ اب کہیں نظر نہیں آرہی۔ غرضیکہ جگہ جگہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی گونج اور چرچے ہیں، پنجاب کے شہری مطالبہ کررہے ہیں کہ برائی کو جڑ سے ختم کرنے کا بیڑا جو سی سی ڈی نے اٹھایا ہے آخری مجرم کے خاتمے تک جاری رہنا چاہیے۔