وفاقی بجٹ میں عوام کے لیے کیا ہے؟

463 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کے ساتھ وفاقی بجٹ کافی بحث و مباحثے کے بعد قومی اسمبلی میں منظور ہو چکا ہے۔پاکستانی حکومت کے لیے رواں مالی سال کا بجٹ پیش کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ وجہ یہ تھی کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط اور مطالبات کا تازیانہ لیے سر پر کھڑا تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو صرف غریبوں کو دیے جانے والی مراعات پر اعتراض ہوتا ہے۔مثلاً مختلف اشیاء پر دے جانے والی سبسڈیز ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافہ، زرعی اور صنعتی ترقی کے لیے درآمدی و ٹیکس چھوٹ ، تعلیم و صحت پر اخراجات اور ترقیاتی بجٹ کو زیادہ رکھنے پر اس کی کڑی نظر ہوتی ہے ، البتہ اشرافیہ کو جتنی مراعات ملتی ہیں، ان سب سے یہ ادارہ صرف نظر ہی کر رہا ہوتا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستان 4.2فیصد کی ترقی چاہتا ہے لیکن آئی ایم ایف کی شرائط اور مطالبات پر چلتے ہوئے اس ہدف کا حصول بہت مشکل ہے ۔ زراعت ہو یا صحت یا تعلیم یا عوامی فلاحی منصوبے، ان سب پر خرچ میں کوئی معقول اضافہ نظر نہیں آرہا۔ وزیر خزانہ 4.2فیصد شرح نمو کا خواب تو دکھا رہے ہیں لیکن اس کے لیے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ملک کا زرعی شعبہ آئندہ برس بھی کوئی خاص کارکردگی دکھاتا نظر نہیں آ رہا ۔ لارج اسکیل انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہے اور دیگر صنعتوں کی سست کار کردگی اور دیگر امور نے مل کر شرح نمو کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں اخراجات میں کمی کا رخ غریب طبقہ کی طرف کرنے کی بجائے اشرافیہ اور کروڑوں روپے بطور تنخواہ لینے والوں کی طرف کیوں نہیں کیا جاتا؟ بہت سے بیورو کریٹس اور افسران کو ماہانہ مفت بجلی، حاضر سروس بیورو کریٹس کے لیے پروٹوکول اور بہت سی مراعات بدستور جاری ہیں۔ ایک غریب ملک جو کہ قرض پر چل رہا ہے، جس کے بجٹ پر آئی ایم ایف کی نگرانی ہے۔ وہ اشرافیہ کو اتنی زیادہ مراعات کیسے دے سکتا ہے؟

معاشی ترقی میں اضافے کا ایک اہم مطلوبہ کردار ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافہ بھی ہے لیکن اس سال زرعی ترقی کوئی خاص نہ ہونے کا ایک اثر یہ ہوا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی ہوگئی، حتیٰ کہ بین الاقوامی منڈی کو اس مرتبہ صرف 6لاکھ میٹرک ٹن سے زائد کپاس درآمد کر سکے ہیں حالانکہ اس سے پہلے بہت بڑی مقدار میں ہم کپاس برآمد کرتے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، ناقص بیج، جعلی اسپرے اور نہری ٹوٹ پھوٹ نے کپاس کی پیداوار کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا اور اب کپاس کی درآمد تجارتی خسارہ جو پہلے ہی بڑھ رہا ہے ،اسے مزید بڑھاوا دے گا، یوں زراعت و صنعت دونوں دباؤ میں ہوں گے۔ اس کے ساتھ جب آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہو کہ بجلی گیس کے نرخ بڑھتے رہیں، ایسے میں 4.2فیصد شرح نمو کا حصول فی الحال ایک خواب ہی محسوس ہو رہا ہے۔ ہاں اگر حکومت ترقیاتی پروگرام، تعلیم، صحت اور دیگر کے بجٹ میں اضافہ کرے اور غریب عوام کی ذاتی استعداد اور قوت خرید کو بڑھانے کا پروگرام بنائے تو ایسی صورت میں ہم ہدف سے کچھ قریب ہو سکتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ زرعی ترقی کے لیے درست اقدامات کیے جائیں۔ کسانوں کو درست معلومات کے ساتھ ان کے لیے سستے کھاد، اصلی ادویات، پانی وافر مقدار میں فراہمی ان کی فصلوں کی خریداری، بلاسود قرضے اور زرعی پیداوار یعنی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے درست نتیجہ خیز اقدامات کی ضرورت ہے۔ زرعی اور صنعتی سیکٹر دونوں میں پبلک ڈیولپمنٹ اسپیڈنگ بڑھائی جائے، تمام طبقوں کی طرف سے اشیاء کی طلب پیدا ہو جس کے لیے ضروری ہے کہ غریب عوام اور مظلوم طبقے کو پہلے سہارا دیں، کم ازکم تنخواہ کا اعلان پنجاب نے 40ہزار روپے کا کیا ہے۔ اسی طرح وفاقی حکومت ملک بھر کے لیے اپنے اعلان کردہ کم ازکم تنخواہ کے نفاذ کے لیے سخت قوانین بناکر حقیقی طور پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور پینشرز جن کے پنیشن کو محض 7فیصد بڑھایا گیا ہے، کو مزید ریلیف دیا جائے کیونکہ عمومی مہنگائی کے ساتھ دوا ؤںکی قیمتوں میں اضافے نے ان کی قوت خرید کو گھٹا دیا ہے۔ کم ازکم گریڈ 17تک کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کو دگنا کیا جائے۔ جن لوگوں کی پنیشن سالانہ کروڑوں میں بنتی ہے یا پھر ان کی تنخواہیں اتنی زیادہ ہیں اوپر سے مراعات، پروٹوکول، بجلی کے کئی ہزار یونٹ مفت، پیٹرول کا خرچہ وغیرہ ملتا ہے، ان کو بے شک ایک طرف رکھیں مگر چھوٹے پینشنرز کی مجبوریوں کا ضرور احساس کریں۔

463ارب روپے کے ہدف لیے مزید ٹیکس لگا دیے گئے ہیں، یہ سارا بوجھ اب غریب کے کندھے پر ہوگا۔ جھونپڑی میں بیٹھا ہوا مزدور، کھیتوں میں کام کرتا ہوا ہاری کسان، دوا کی پرچی تھامے پینشرز، سب کے سب نئے ٹیکس کے بوجھ میں دب کر رہیں گے۔ اب ہر وہ نجی ملازم چاہے وہ دفتر میں کام کرتا ہو یا کارخانے میں یا دکانوں پر ملازمت کر رہا ہو، یا ریڑھی چلا رہا ہو یا رکشہ چلا رہا ہو، سب کے سب متاثر ہوکر رہیں گے۔

یہ دوسرا بجٹ ہے جو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا ہے اور آج بروز منگل یکم جولائی سے اس کا نفاذ عمل میں آ چکا ہے۔اس بجٹ میں عوام کے لیے کیا ہے؟ اس کا اندازہ آج مارکیٹ میں جاکر اشیاء صرف کی قیمتوں کا حال معلوم کرکے کیا جاسکتا ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق تعلیم، صحت، عوامی فلاح وبہبود اور ترقیاتی اخراجات کے معاملے میں ہم بہت پیچھے ہیں۔بجٹ میں قومی آمدنی کا آدھے سے زائد حصہ تو صرف قرضوں پر سود کی ادائی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ حقیقت میں سود کی اس لعنت نے ہی ہماری معیشت کی بیخ کنی کر دی ہے اور اس مد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا پہلا مرحلہ یہ ہونا چاہیے کہ اس سود کو کس طرح سے ہم پہلے کم سے کم سطح پر لائیں اور بالآخر اس سے چھٹکارا پا لیں۔ جب ملک سود سے پاکستانی معیشت کی جان نہیں چھوٹے گی معیشت کبھی مضبوط نہیں ہوسکتی۔