اطلاعات کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے اہم سیاسی و عسکری حکام کا اجلاس ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور مسلح افواج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ترکیہ پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اہم ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ یہ امر واضح ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کی سلامتی اور دفاع کے محافظ بن چکے ہیں جس کے بعد محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر متعدد تبدیلیوں کے رونما ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں استنبول میں منعقد ہونے والا اجلاس نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اجلاس ایک ایسے موقع پر منعقد ہو رہا ہے جب ایک طرف امریکا نے ایران پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں تو دوسری جانب ایران امریکا کو سبق سکھانے کے دعوے کر رہا ہے اور اس کشیدہ اور تناؤ سے بھرپور صورتِ حا ل میں گاہے گاہے دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں جن میں ایران کو خاصی تباہی کا سامنا ہے جبکہ ایرانی حملوں سے حریف کا بہت کم نقصان ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں خطے کی مجموعی صورت حال میں بھی تصادم اور بدامنی کے محرکات نمایاں ہیں، جیساکہ ایک جانب اسرائیل کی جارحانہ پالیسیاں اور توسیع پسندانہ عزائم علاقائی ممالک کے لیے خطرے کی تلوار بنے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ایرانی پراکسی وار نے بھی عرب ریاستوں کا ناطقہ بند کیے رکھا ہے۔
ان حالات میں جنگ، پراکسی وار، تشدد اور انارکی کا کوئی بھی کھیل اچانک شروع ہو سکتا ہے اور خطے کے حالات غیر معمولی تغیرات کا سامنا کرسکتے ہیں۔ ایسے میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فوراً بعد یمن میں حوثیوں کے خلاف سرکاری افواج اور قبائل نے مشترکہ پیش قدمی کرکے متعدد اہم مقامات ان سے واپس حاصل کرلیے ہیں۔ شام میں بھی ایرانی پراکسی حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمت ہوجاتی ہے تو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی بدولت عرب ر یاستیں گریٹر اسرائیل کے خطرات کا آسانی سے مقابلہ کرسکتی ہیں۔ دراصل مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ عالمِ اسلام کے تین بڑے اور ممتاز ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع، سلامتی اور تحفظ کا ایسا معاہدہ ہے جس کے تحت افواج کی تربیت، مشاورت اور انٹیلی جنس کا تبادلہ، مشترکہ فوجی مشقیں اور ایک دوسرے کی عسکری اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی کوششیں، دفاعی صنعت میں تعاون اور امن واستحکام اور مسلم دنیا کی سلامتی کے لیے مشترکہ عملی اقدامات جیسے امور طے کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی، انارکی، بیرونی مداخلت اور پراکسی وار کے خلاف یہ اتحاد مل جل کر کام کرے گا۔ غیر ریاستی مسلح گروہوں کو ریاست کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی جائیں گی۔ دفاعی مقاصد میں اتحاد اور اشتراک سے تزویراتی اہداف حاصل ہوں گے۔
ان تینوں مسلم ریاستوں کے مشترکہ تزویراتی مقاصد ان کے جغرافیائی محل وقوع سے ہم آہنگ ہیں۔ اس خطے میں تیل و گیس کے وسیع ترین ذخائر اور اہم ترین آبی تجارتی گزرگاہیں ہیں جن میں نہر سوئز، آبنائے ہرمز اور باب المندب شامل ہیں۔ بحر روم، خلیج فارس، بحرِ احمر اور بحرِ عرب جیسے مصروف سمندر ہیں۔ اسرائیل اور ایران کی جارحیت اور پر تشدد سرگرمیوں کی وجہ سے خلیج فارس اور بحرِ احمر میں سلامتی کے شدید خطرات موجود ہیں جن سے تحفظ خطے کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بحرِ عرب پر واقع کراچی اور بالخصوص گوادر پورٹ چین کے لیے مشرقِ وسطیٰ تک سمندری رسائی کا دروازہ اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے مرکزی گزر گاہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی راستے سے وسطِ ایشیا تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے جس کے لیے پاکستان مسلسل کوشاں ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت مسلم ممالک کو ملنے والے تحفظ کی وجہ سے علاقائی ممالک کو دہشت گردی، پراکسی وار اور جارحیت سے نجات مل سکتی ہے جس کے بعد مسلم ریاستوں کے درمیان باہمی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کو عروج حاصل ہوگا اور عوامی ترقی اور خوش حالی جیسے اہم مفادات حاصل کیے جاسکیں گے۔ اس معاہدے کا اہم ترین فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے حرمین شریفین کا تحفظ آسانی سے کیا جاسکے گا جو کہ مسلم امہ کے لیے سب سے بڑا مفاد ہوسکتا ہے۔ مسلم امہ کے مقدس ترین مقامات اور زائرین کی حفاظت کی بدولت خود ان تینوں ملکوں میں امن، استحکام اور ترقی کے بے شمار مواقع پیدا ہوں گے اور مسلم ممالک کے درمیان تعاون، یکجہتی اور اتحاد کا مضبوط پیغام دنیا کو ملے گا جس کے بعد بھارت اور اسرائیل کے لیے اپنے ایجنٹوں کی مدد سے پاکستان اور دیگر اسلامی ریاستوں میں فتنہ و فساد پھیلانا آسان نہیں رہے گا۔
یہاں یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور مسجدِ اقصیٰ کو درپیش انہدام کے خطرات مسلم ممالک کے لیے سوہانِ روح کی مانند ہیں۔ عالم ِاسلام کے مضبوط ممالک کے درمیان دفاعی اشتراک اور باہمی تعاون کی بدولت فلسطین کے مسلمانوں کی کمر بھی مضبوط ہوگی اور وہ اپنا مقدمہ مزید قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں یہ معاہدہ ایک بہت بڑی رکاوٹ بن چکا ہے جس کا فی الحال اسرائیل کے پاس کوئی حل نہیں ہے۔ اس معاہدے کی وجہ سے فلسطین کی تحریکِ آزادی کو تقویت مل سکتی ہے اور شام کی مانند لبنان اور دیگر قریبی ملکوں میں اسرائیل مخالف اتحاد مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی وجہ سے مسلم امہ میں اتحاد و یکجہتی کی وہ فضا وجود میں آسکتی ہے جس کی امنِ عالم کو اشد ضرورت ہے۔ غزہ پر اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ جارحیت اور اس کے بعد ایران پر امریکی حملے سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ خطے میں امن کے لیے امریکا پر انحصار خوش فہمی یا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس دفاعی معاہدے کی بدولت مسلم امہ میں خود انحصاری، خود کفالت اور خود مختاری کی علامات مستحکم اور نمایاں ہوں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ا س معاہدے کو سازشی عناصر، غداری اور دھوکہ دہی اور فریب سے محفوظ رکھا جائے۔ مشترکہ مقاصد کے لیے متحد اور منظم ہوکر جدوجہد کی جائے۔ اس معاہدے سے حاصل ہونے والے فوائد کو تینوں ریاستوں کے عوام کے لیے بارآور بنایا جائے۔ عوام کی تعلیم و تربیت اور جدید عسکری مہارتوں اور اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں وسعت لائی جائے۔ اس معاہدے کی کامیابی مسلم امہ میں امن، استحکام اور خوش حالی کی ضامن ہوسکتی ہے۔ پاکستان اس معاہدے پر عمل کی صورت میں متعدد اقتصادی فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو بھارت اور افغانستان سے تزویراتی نوعیت کے خطرات درپیش ہیں۔ قوی امید ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تو اسے قرار واقعی سبق سکھا دیا جائے گا اور عن قریب یہی حالت ان دہشت گرد گروہوں کی ہوگی جوکہ بھارت اور اسرائیل کی ایما پر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف جنگ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

