ایران کاایک ہزاراسرائیلی،سینکڑوں امریکی اہلکاروں کو مارنے کا دعویٰ

تہران/واشنگٹن:ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایک ہزار اسرائیلی اہلکار ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔

ان کا مزید کہناتھا کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ابوالفضل شکارچی نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی اصل تعداد ظاہر نہیں کررہے۔

ان کے مطابق ماضی میں افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران بھی امریکی فوج کی ہلاکتوں کے بارے میں مکمل معلومات فوری طور پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے ماضی کی جنگوں میں ہلاک ہونے والے بعض فوجیوں کی باقیات بعد میں ان کے اہل خانہ کے حوالے کیں جس کے باعث ہلاکتوں کی مکمل تفصیلات بعد میں سامنے آئیں۔

بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی فوج پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ”ہالی ووڈ اور پروپیگنڈا فوج” قراردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا مسلم ممالک کے وسائل کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ نے امریکی فوج اور اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کے بارے میں ایران کا مؤقف دنیا کے سامنے واضح کردیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی طاقت کے بارے میں کیے جانے والے دعوے عملی میدان میں مختلف نظر آئے۔

ابوالفضل شکارچی نے ان ممالک کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی اڈے رکھنے والے ممالک کو یہ سمجھ آگئی ہے کہ امریکا انہیں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرسکتا۔

ادھر ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے سینئر مشیر بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران نقصان پہنچنے والے ایرانی فوجی مراکز کو زیادہ محفوظ مقامات پر دوبارہ قائم کردیا گیا ہے اور وہاں پہلے سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ زیادہ تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔

الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ محمد رضا نقدی نے جنگ کے بعد ایران کی فوجی تنصیبات اور دفاعی پیداوار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جن مراکز کو جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا، انہیں نئے اور نسبتاً محفوظ مقامات پر منتقل کرکے دوبارہ فعال کردیا گیا ہے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ان مراکز میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے جبکہ بعض مقامات پر دفاعی پیداوار کی رفتار جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔

رضا نقدی نے ایران کی میزائل صلاحیتوں میں کمی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل بدستور موجود اور محفوظ ہیں۔جنرل محمد رضا نقدی کا کہنا تھا کہ ایران نے اب تک روایتی جنگ لڑی ہے لیکن اگر ہم غیر روایتی جنگ کے مرحلے میں داخل ہوئے تو اس کا ٹکراؤ وال اسٹریٹ یا مین ہٹن میں بھی دیکھنے کو ملے گا۔

دریں اثناء آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو تین نامعلوم پروجیکٹائلز کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے جس کے بعد اہم سمندری گزرگاہ کی سکیورٹی صورتحال پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے۔برطانوی میری ٹائم ایجنسی کے مطابق یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا جب تین نامعلوم پروجیکٹائلز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا۔

علاوہ ازیںخبر رساں ادارے فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی آئل ٹینکر سیڈر کو آبنائے ہرمز میں روک دیا گیا۔فارس کے مطابق سعودی ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزر رہا تھا کہ اسے اچانک روک دیا گیا جبکہ جہاز کی جانب سے خودکار شناختی نظام بھی اچانک فعال کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل تک تیل لے جانے کی گنجائش ہے جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔

ادھر امریکا آبنائے ہرمز میں ایران کے میزائل اور ریڈار نظام کی دوبارہ تعمیر روکنے کیلئے محدود فوجی حملوں کے آپشن پر غور کررہا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایسے ایرانی نظام کو دوبارہ فعال ہونے سے روکنا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق تین امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے گزشتہ ہفتے کے دوران محدود فوجی کارروائی کا منصوبہ تیار کیا تھا جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کو حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی نئی جھڑپوں سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری حاصل نہیں تھی تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تازہ فوجی کشیدگی کے بعد صدر اس منصوبے کی منظوری دینے پر غور کرسکتے ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق مجوزہ کارروائی کا بنیادی مقصد ایرانی میزائل اور ریڈار صلاحیتوں کو دوبارہ مضبوط ہونے سے روکنا اور آبنائے ہرمز میں موجود امریکی و تجارتی بحری جہازوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

رپورٹ میں ایک عہدیدار نے اس حکمت عملی کو گھاس کاٹتے رہنے سے تشبیہ دی، یعنی ایسی محدود اور وقفے وقفے سے کارروائی جس کا مقصد ایران کو اپنے فوجی نظام دوبارہ تعمیر کرنے کا موقع نہ دینا ہو۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل ا سٹاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف کسی حملے کے لیے خطے کے ممالک کی سرزمین استعمال کی گئی تو تہران ایسے حملوں کے ذرائع کو بھی نشانہ بنائے گا۔

ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض علاقائی ممالک اپنے سابقہ مؤقف کے باوجود امریکا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لئے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی اہلکاروں پر ایرانی حملوں کے بعد ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایرانیوں کو مزید سختی سے نشانہ بنائیں گے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت، فوج اور قیادت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ چکا ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا ایران کو دوبارہ نشانہ نہیں بنائے گا۔

اوول آفس میں ایک تقریب کے دوران ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا وہ ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرا سکتے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایسی یقین دہانی کے الفاظ میں وعدہ نہیں کریں گے، تاہم انہوں نے واضح طور پر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کردیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین سے ایران کے جزائر خارک اور ابوموسیٰ پر راکٹ حملے کیے۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ رات ایران کے دونوں جزائر کو HIMARS راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

عراقچی کے مطابق ایرانی فورسز نے حملوں کے لانچ پوائنٹس کا سراغ لگایا جن میں راس الخیمہ اور دبئی کے قریب ایک مقام شامل تھا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اگر امریکا جون میں ہونے والے عبوری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پر واپس آتا ہے تو ایران بھی فوری طور پر اسی کے مطابق جواب دے گا۔

غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بیان کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر دیا۔

صدر پزشکیان نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع اور معاہدے سے متعلق ایران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ ہونے والے عبوری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کیلئے تیار ہے، تاہم اس کیلئے واشنگٹن کو بھی اپنی ذمہ داریوں کی طرف واپس آنا ہوگا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین اپنی خودمختاری، قوانین اور اقدار امریکا کے پاس گروی رکھوا چکی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ یورپی یونین ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کی حمایت کر رہی ہے، 1996ء میں یورپی یونین نے امریکی پابندیوں کے خلاف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا تھا۔

ادھر امریکی فوج کے سیکرٹری ڈین ڈرسکول نے اچانک استعفا دیدیا ۔ ڈین ڈرسکول اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ میں کافی عرصے سے اختلافات تھے جس کے بعد ڈین ڈرسکول نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو استعفا بھیج دیا۔

وہ نائب صدر جے ڈی وینس کے دوست بھی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ڈرسکول کے استعفے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی جبکہ امریکی فوج نے بھی فوری طور پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ڈرسکول کے ترجمان نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران تیل اور گیس کی ترسیل میں خلل ڈالنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت پاگل ہے، ایرانی جنگی اقدامات میں کوئی واضح اسٹریٹجک حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ اندازہ تھا کہ ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا، ایران کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو بھی نشانہ بنانا ہمارے لئے حیران کن ہے۔