غزہ امن معاہدہ،حماس دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر رضامند

غزہ/قاہرہ/بیروت:غزہ امن معاہدے پر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے حماس سربراہ خلیل الحیہ کے بعد نیتن یاہو سے مذاکرات کیے۔حماس امن معاہدے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر رضامند ہوگیا، ثالثوں اور ٹرمپ انتظامیہ سے اسرائیل کو معاہدے کی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔

حماس کو معاہدے کے تحت غیر مسلح ہونا ہوگا جبکہ اسرائیل کو غزہ سے نکلنا ہوگا۔عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق حماس نے ثالثوں اور ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی تمام ذمے داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جائے۔

حماس نے کہا کہ فلسطینیوں پر حملے اور غزہ میں فوجی کارروائیاں روکی جائیں۔حماس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مصر میں جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامن ممالک کے وفود سے ملاقات میں فریقین نے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

فلسطینی گروپ نے کہا کہ اس نے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل کیا ہے۔دریں اثنائامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الوقت غزہ کی پٹی پر حملے نہ کرے۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے معاملے میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور انہوں نے اس بات کا اشارہ بھی دیا کہ امریکا کے حماس کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ٹرمپ کے بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر حملے روکنے کے لیے ان کا مطالبہ جنگ بندی کے راستے پر چلنے کا اعادہ ہے۔ قاسم نے امریکی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ قابض حکومت کو معاہدے پر عمل درآمد کرنے کا پابند بنائے اور غزہ کے لیے ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھائے۔

علاوہ ازیںحماس نے متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے۔

حماس نے کہا کہ اس بیان میں شامل واضح موقف جس میں قابض اسرائیل کی حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد مکمل کرنے کے روڈ میپ کو مسترد کیے جانے کی مذمت کی گئی ہے، جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے لیے ایک حمایتی موقف کی نمائندگی کرتا ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں حکومتی میڈیا آفس نے پیرکو بے گھر افراد کی تباہ کن رہائشی اور معاشی صورتحال کو بچانے کے لیے ایک ہنگامی اپیل جاری کی ہے۔

میڈیا آفس نے بین الاقوامی برادری کو ان انسانی بحرانوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جو قابض اسرائیل کی طرف سے پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔

حکومتی میڈیا آفس نے اپنے ایک بیان میں نیشنل شیلٹر سسٹم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بے گھر خاندانوں کی تعداد 5 لاکھ 9 ہزار 393 ہو چکی ہے جن میں 2.15 ملین سے زائد افراد شامل ہیں، جو انتہائی کربناک رہائشی اور انسانی حالات کا شکار ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ 10 لاکھ 27 ہزار 396 بے گھر افراد پناہ گزین مراکز کے اندر مقیم ہیں جبکہ 11 لاکھ 22 ہزار 566 افراد مراکز سے باہر رہ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً 1 لاکھ 96 ہزار 287 خاندان جن میں 8 لاکھ 67 ہزار 228 افراد شامل ہیں، ایسی بوسیدہ اور ابتدائی خیموں میں رہ رہے ہیں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔

میڈیا آفس نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں زیادہ تر خیمے اب انسانی رہائش کے قابل نہیں رہے اور انہیں فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے پیش نظر یہ خیمے عارضی پناہ گاہ کا حقیقی متبادل نہیں بن سکتے۔

بیان میں اسرائیلی ویٹو کی شدید مذمت کی گئی ہے جو پناہ کے لیے بنیادی ضروریات، بالخصوص کیراوان، تعمیراتی مواد اور کرائے کے پروگراموں کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

ادھریہودی آبادکاروں نے قابض اسرائیلی فوج کی سخت سیکورٹی میں باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ میں دراندازی کی۔مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے ادارے کے مطابق156 آباد کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دراندازی کی، وہاں اشتعال انگیز چکر لگائے اور مسجد کے مشرقی حصے میں تلمودی رسومات ادا کیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر سخت اقدامات نافذ کر دیے اور فلسطینیوں کے داخلے پر پابندیاں مزید سخت کر دیں جبکہ بیرونی دروازوں پر متعدد نمازیوں کے شناختی کارڈ بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں5 شہداء اور 18 زخمی ہسپتال پہنچائے گئے ہیں۔وزارت نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ہسپتال پہنچنے والے شہداء میں دو نئے شہید اور 3 وہ افراد شامل ہیں جن کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئی ہیں جبکہ اب بھی کئی متاثرین ملبے اور راستوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ادھراسرائیل کے قومی سلامتی مشیر اتمار بن گویر نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کو غزہ میں ہر رات 30 سے 40 افراد کوشہید کرنا چاہیے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے ایک انٹرویو میں غزہ کے لوگوں سے متعلق اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہااسرائیلی فوج کو یہ کارروائی صرف خطرے کا سبب بننے والوں تک ہی محدود نہیں رکھنی چاہیے۔

اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو زندہ رہنے کے قابل نہیں، ان لوگوں کو زندہ نہیں رہنا چاہیے، وہ انسان ہی نہیں ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر کے اشتعال انگیز بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قومی سلامتی وزیر نے غزہ میں قتلِ عام کیلئے یومیہ 30 سے 40 افراد کی حد مقرر کر دی ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ صہیونی مجرم بیک وقت فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودی بستیوں کی تعمیر کی بات کر رہا ہے، ان اعترافات کو ثبوت کے طور پر محفوظ اور ان کا ریکارڈ رکھنا چاہیے تاکہ انہیں اسرائیلی مجرموں کے احتساب اور مقدمے کے دن پیش کیا جا سکے۔

کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے فلسطینی ریاست کے فوری قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے دوریاستی حل ضروری ہے۔

پوپ لیو نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جاری تشدد فوری طور پر ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے فلسطینی شہری آبادی کے خلاف تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیاکہ فلسطینیوں کے لیے دیرپا امن کے قیام کی کوششیں تیز کی جائیں اور مغربی کنارے میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے موثر کردار ادا کیا جائے۔

مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں اسرائیلی آبادکاروں نے ایک فلسطینی خاندان کے گھر کو 3 گھنٹے سے زیادہ دیر تک گھیرے میں رکھا۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق آبادکاروں نے محمد ثابت ماجد حسون نامی فلسطینی شہری کے گھر کو گھیرے میں لے لیا جس کے باعث خاندان کے 9 افراد گھر میں محصور ہو گئے۔

عرب میڈیا کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی فوج نے گھر میں پھنسے تمام 9 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔فوجی اہلکاروں نے گھر سے روانہ ہونے سے قبل اس گھر کے گھریلو قیمتی سامان کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔

ادھر اسرائیلی فوج لبنان میں دوبارہ جنگ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جنوبی لبنان میں مزید حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

برطانوی خبر رساںادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل تباہ کرنا چاہتا ہے، جنوبی لبنان کے علاقے جبل علی الطاہر میں حزب اللہ کے درجنوں ارکان زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 4 ہزار 300 سے زائد افرادجاں بحق ہو چکے ہیں۔