قرض لینے سے پہلے عوام کو اعتماد میں لینے کا نظام ناگزیر

پاکستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی نئی قسط ملنے کی امید ہے اور حکومت نے اس کیلئے تیاری بھی شروع کردی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ستمبر میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت اگلے اقتصادی جائزے پر مذاکرات ہوں گے، جن میں پروگرام کی پیشرفت، اصلاحات، بجلی و گیس کے شعبوں میں گردشی قرضے، نجکاری، زرمبادلہ کے ذخائر، پالیسی ریٹ، مہنگائی اور نئے بجٹ پر عمل درآمد سمیت مختلف امور زیر بحث آئیں گے۔ مذاکرات کامیاب ہونے اور آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط جبکہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق پروگرام کے تحت مزید 20 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔

قرض خواہ بھلے کوئی فرد ہو، جماعت ہو یا ملک و قوم، قرض بہرحال قرض ہی ہوتا ہے۔ قرض اپنی اصل میں کمزوری، احتیاج اور دوسروں پر انحصار کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سمجھ دار فرد قرض صرف اس وقت لیتا ہے جب اس کے بغیر کوئی راستہ باقی نہ رہے اور قرض لیتے وقت سب سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ اسے واپس کیسے کرنا ہے، کب کرنا ہے اور اس کی ادائی کا ذریعہ اور طریقہ کیا ہوگا۔ ملکوں کے معاملے میں بھی یہی اصول ہے۔ قرض عیاشی، شاہانہ اخراجات یا وقتی سیاسی کامیابی کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ قرض صرف ناگزیر ضرورت کیلئے ہوتا ہے، وہ بھی اتنا جتنا واقعی ضروری ہو۔ اس سے بھی بڑھ کر قرض لینے سے پہلے حساب سود و زیاں اچھی طرح کرکے اس کی واپسی کا قابل عمل منصوبہ بنانا چاہیے۔ اگر کوئی ملک ایک قرض اتارنے کیلئے دوسرا قرض لے، دوسرے کو چکانے کیلئے تیسرا قرض لے اور پھر چوتھے قرض کے ذریعے پچھلے قرضوں کی ادائی کرے تو یہ کوئی کامیابی نہیں بلکہ کولہو کے بیل کی طرح قرض کے دائرے میں ہی مسلسل گھومتے رہنے کا عمل ہے۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ قرض اور بھیک میں کوئی بڑا فرق نہیں، بھیک کی طرح قرض بھی اپنی مجبوریاں بتا کر مانگا جاتا ہے، اس کیلئے درخواست دی جاتی ہے، شرائط قبول کی جاتی ہیں اور قرض دینے والا اپنے اطمینان کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ قرض دینا ہے یا نہیں۔ جس طرح ایک فرد اپنی ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے، اسی طرح ایک خوددار اور مضبوط قوم کو بھی عالمی مالیاتی اداروں کے دروازے پر جانے سے پہلے اپنی معاشی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینا اب غیر معمولی واقعہ نہیں رہا بلکہ ہماری قومی معاشی زندگی کا معمول بنتا جارہا ہے۔ ہر حکومت آتی ہے تو خزانہ خالی ہونے، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور ادائیوں کے بحران کا ذکر کرکے آئی ایم ایف کی طرح دیکھنے لگتی ہے، پھر مذاکرات شروع ہوتے ہیں، شرائط طے ہوتی ہیں، بجلی، گیس، ٹیکس، سبسڈی اور دیگر شعبوں میں فیصلے کیے جاتے ہیں، کچھ عرصے کیلئے سانس بحال ہوتی ہے اور پھر چند سال بعد ملک دوبارہ اسی مقام پر کھڑا نظر آتا ہے۔یہاں آئی ایم ایف کو ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔ آئی ایم ایف کسی ملک کے دروازے پر جاکر اسے قرض لینے پر مجبور نہیں کرتا۔ جو ملک قرض لینے کیلئے درخواست دیتا ہے، وہ خود اس عمل کا آغاز کرتا ہے۔ ایک عام قرض دینے والے فرد کی طرح یہ ادارہ بھی اپنی شرائط رکھتا ہے اور قرض لینے والا ملک ان شرائط کو قبول کرکے معاہدہ کرتا ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ آئی ایم ایف ہم پر شرائط کیوں عائد کرتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو بار بار ایسی صورتحال کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے کہ اسے آئی ایم ایف کی شرائط پر جھکنے کی نوبت آتی ہے؟ یہ سوال حکومتوں سے کرنے کا ہے۔ اگر ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت ناگزیر ہے تو دوسری طرف یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اس ضرورت کو مستقل طور پر ختم کیسے کیا جائے گا۔ محض نئی قسط حاصل کرلینا کامیابی نہیں، اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب پاکستان کو اپنی معیشت چلانے، درآمدی ادائیاں کرنے یا بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کیلئے کسی عالمی قرض دہندہ کے سامنے نئی درخواست پیش نہ کرنا پڑے۔

سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ قرض کا اصل بوجھ اِن حکمرانوں کی ذاتی جیب سے ادا نہیں ہوتا جو قرض لینے کے فیصلے کرتے ہیں۔ قرض عوام کو واپس کرنا ہوتا ہے۔ قرض پر عائد شرائط کا اثر بھی عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ بجلی مہنگی ہوجاتی ہے، گیس کے نرخ بڑھتے ہیں، ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا ہے، کاروباری لاگت بڑھتی ہے اور مہنگائی عام شہری کی قوت خرید کو متاثر کرتی ہے، چنانچہ قرض کا فیصلہ حکومت کرتی ہے، مگر اس کی قیمت غریب قوم ادا کرتی ہے۔اسی لیے ضروری ہے کہ قرض لینے کے معاملے میں پارلیمنٹ، اپوزیشن اور عوام کو اعتماد میں لینے کا نظام بنایا جائے۔ کسی بھی حکومت کو محض حکومتی حیثیت میں اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جب چاہے قوم کے نام پر عالمی اداروں کے سامنے قرضوں کیلئے ہاتھ پھیلائے۔ حکومت اگر محسوس کرے کہ ملک کو قرض کی ضرورت ہے تو اس کی پوری تفصیل قوم کے سامنے کھل کر بتائے کہ کتنی رقم درکار ہے، کس مد میں چاہیے، رقم کہاں خرچ ہوگی، اس سے ملک کو کیا فائدہ ہوگا، قرض کی مدت کیا ہوگی، اس پر مجموعی مالی لاگت کتنی آئے گی اور اسے واپس کرنے کیلئے وسائل کہاں سے پیدا کیے جائیں گے؟

پاکستان کو اب قرض لینے کی صلاحیت بڑھانے کی بجائے قرض سے نجات کی استعداد پیدا کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔ ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا، برآمدات بڑھانا، درآمدی انحصار کم کرنا، سرکاری اداروں کے خسارے ختم کرنا، توانائی سیکٹر میں اصلاحات اور سب سے بڑھ کر حکومتی اخراجات میں حقیقی اور لازمی کفایت شعاری لانا وہ اقدامات ہیں جو ملک کی معاشی سمت بہتر کرسکتے ہیں۔ حکومت کو ستمبر کے آئی ایم ایف مذاکرات سے قبل قوم کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس قسط کے حصول کے بعد اگلا قدم کیا ہوگا۔ کیا ہم چند ماہ یا چند سال بعد پھر ایک نئی قسط کیلئے اسی میز پر بیٹھیں گے یا اس دوران ایسی معاشی بنیاد قائم کی جائے گی جس سے ملک بتدریج قرض کے چکر سے نکل سکے؟ قرض اگر واقعی مجبوری ہے تو اسے مجبوری کی حد تک ہی رکھا جائے، عادت نہ بنایا جائے۔ عوام کی گردن پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں، ٹیکسوں اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اس پر مزید قرض اور اس کی قیمت کا بوجھ ڈالنے سے پہلے حکومت کو قوم کو اعتماد میں لینا ہوگا۔