صدر ٹرمپ، تین طیارے اور خوف

‘آٹھ جولائی کی رات، انقرہ، ترکیہ کے قریب ایک بوئنگ سیون فور سیون ریڈار پر نمودار ہوا۔ ابتدا میں اس کا کوئی کال سائن نہیں تھا۔ پھر درمیانِ پرواز اس نے وہ نام اختیار کر لیا جو دنیا میں صرف اس طیارے کے لیے مخصوص ہے جس پر امریکی صدر سوار ہو۔ ایئر فورس ون۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ صدر اس میں نہیں تھا۔ ‘

یہ منظر ممتاز امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس تحقیقاتی رپورٹ کا ہے جو گیارہ اگست کے شمارے میں پہلے صفحے پر شائع ہوئی۔ چار رپورٹروں نے مہینے بھر کی محنت سے اس سٹوری کو بے نقاب کیا۔ خاکسار نے یہ رپورٹ پڑھی تو پہلا تاثر دلچسپی کا تھا، دوسرا تاثر حیرت کا اور تیسرا، جو سب سے دیر تک رہا، وہ ایک عجیب سی طمانیت کا تھا۔ اس لیے کہ اس رپورٹ نے وہ چیز کھول دی جسے امریکی برسوں سے بڑی مہارت سے چھپاتے آئے ہیں۔ اپنا خوف۔ پس منظر یہ ہے کہ ٹرمپ انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں شریک تھے۔ اس سے ایک رات پہلے ان کے حکم پر امریکی افواج نے ایران پر نئے حملے کیے تھے، کیونکہ جنگ ختم کرانے کے مذاکرات ٹوٹ چکے تھے۔ عین اسی موقع پر امریکی خفیہ اداروں کو صدر کے قتل کی ایک ایرانی سازش کی (ان کے بقول )قابلِ اعتبار اطلاع ملی۔ اس کے بعد جو ہوا، امریکی اہلکار اسے دھوکے کی کارروائی کہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی روانگی کے وقت انقرہ کے ہوائی اڈے پر تین طیارے موجود تھے۔ ایک وہ نیا بوئنگ سیون فور سیون ایٹ جو قطر نے تحفے میں دیا اور جسے اب صدارتی طیارے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دوسرا وہی پرانا نیلا سفید ایئر فورس ون جو نصف صدی سے امریکی طاقت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ تیسرا ایک چھوٹا فوجی طیارہ، سی تھرٹی ٹو اے۔

روانگی سے پہلے ٹرمپ نے خود سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ وہ پرانے ایئر فورس ون پر جائیں گے، محض پرانی یادوں کی خاطر۔ یعنی جھوٹ جہاز کے حرکت میں آنے سے پہلے شروع ہو چکا تھا۔ پھر کیمروں کے سامنے ٹرمپ لیموزین سے اترے، سیڑھیاں چڑھے، ہاتھ ہلایا اور پرانے ایئر فورس ون میں داخل ہو گئے۔ چند منٹ بعد، جب صحافی اسی جہاز کے پچھلے حصے سے سوار ہو رہے تھے، ایک شخص سوٹ میں ملبوس کیٹرنگ ٹرک کے کیبن میں داخل ہوا۔ یہ وہی بلند ہونے والا کیٹرنگ ٹرک ہے جس میں جہازوں تک کھانا وغیرہ پہنچایا جاتا ہے۔ ٹرک ایئر فورس ون سے ہٹا اور چھوٹے جہاز کی طرف چل پڑا۔ کچھ دیر بعد سوٹ میں ملبوس ایک شخص اس کے کیبن سے نکل کر سی تھرٹی ٹو اے کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگزتھ الگ سے، باہر کی سیڑھیوں سے، اسی جہاز پر سوار ہوئے تاکہ پرواز معمول کی لگے۔

اب منظر کو دوسری طرف سے دیکھیے۔ پرانے ایئر فورس ون میں وائٹ ہاؤس کا عملہ اور امریکی صحافی بیٹھے ہیں۔ انہیں حفاظت کی غرض سے کھڑکیوں کے پردے گرانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ انہیں یقین ہے کہ صدر ان کے ساتھ ہے۔ کسی کو نہیں بتایا گیا کہ صدر جہاز بدل چکا ہے۔ اس رات کی پریس رپورٹ میں لکھا گیا کہ پرواز پرسکون رہی اور پریس کیبن میں کوئی ملاقاتی نہیں آیا۔ آتا بھی کیسے؟ اُدھر چھوٹے جہاز نے ایک بے ضرر سا نام اختیار کیا جو عام طور پر فوجی سامان ڈھونے والی پروازوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس کے وہ نظام بند کر دیے گئے جن سے فضا میں اس کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ اِدھر خالی ایئر فورس ون نے راستے میں صدارتی نام اپنا لیا۔ برطانیہ کے مِلڈن ہال اڈے پر یہ خالی جہاز اتر کر ٹھیک اسی جگہ جا کر رکا جہاں کچھ دیر پہلے چھوٹا جہاز کھڑا تھا، تھوڑی دیر بعد ٹرمپ اسی پرانے ایئر فورس ون کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے کیمروں کے سامنے آ گئے۔ اسی رات وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ صدر پرانے ایئر فورس ون پر پہنچے ہیں اور ساتھ اسی جہاز کی تصویر لگا دی۔ یعنی معاملہ صرف سکیورٹی کی خاموشی کا نہیں تھا۔ امریکی عوام کو ایک غلط بات تصویر لگا کر بتائی گئی۔

صدر ٹرمپ یا امریکی انتظامیہ کا کیا گیا یہ کام کس قدر مختلف اور عجیب ہے، اسے سمجھانے کے لیے واشنگٹن پوسٹ نے خود ایک مثال دی ہے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکی حکام نے صدر جارج ڈبلیو بش کا مقام بتانے سے انکار کر دیا اور صرف اتنا کہا کہ وہ کسی محفوظ جگہ پر ہیں مگر بش کے بارے میں یہ جھوٹ نہیں بولا گیا کہ وہ فلاں جگہ موجود ہیں۔ اسی طرح مارچ 2000ء میں صدر بل کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر کلنٹن ایک اور طیارے سے آئے، مگر اسلام آباد میں کلنٹن خود اس سادہ سفید جہاز سے اُترے جس میں وہ واقعی سوار تھے۔ خاموشی اور جھوٹ میں یہی فرق ہے۔ اس بار امریکا نے دوسرا راستہ چنا۔ ایک اور پہلو بھی ہے۔ نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ قطر کے تحفے میں ملنے والے جہاز میں وہ دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں جو پرانے صدارتی طیارے میں تھیں، حالانکہ اس پر کروڑوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ اس خبر پر انتظامیہ نے کئی صحافیوں کو سمن جاری کر دیے تاکہ ان کے خفیہ ذرائع کا سراغ لگایا جا سکے، بعد میں غلطی تسلیم کر کے یہ سمن واپس لے لیے۔ یہ وہی ملک ہے جو ساری دنیا کو آزادی صحافت کے لیکچر دیتا ہے اور اسی نے ایک ہی سفر میں اپنے صحافیوں کو دو بار استعمال کیا۔ پہلے انہیں ایسے جہاز میں بٹھا کر جسے دشمن صدارتی طیارہ سمجھ کر نشانہ بنا سکتا تھا، پھر ان کے ذرائع ڈھونڈنے کے لیے ان پر قانونی دباؤ ڈال کر۔

خود ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ صحافیوں کو پردے گرانے کا حکم کیوں دیا گیا تھا تو جواب یہ تھا کہ شاید آپ ایک خطرناک پرواز پر ہیں، ان کمینوں کی وجہ سے جن سے ہمیں واسطہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے اور وہ ایران کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں۔ پھر وہ جملہ آیا جو اب پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے: ‘لیکن اگر میں گیا تو آپ بھی گئے، ہے نا؟’ اس کے بعد ٹرمپ کے مخصوص طنزیہ لہجے میں ایک اور فقرہ اچھالا گیا: ‘شاید کسی دن آپ اپنا پیشہ بدلنا چاہیں’۔ یہ سب اُن بے چارے صحافیوں کے سامنے کہا گیا جنہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ کچھ گھنٹے پہلے وہ چارے کے طور پر اڑ رہے تھے۔ یہاں تک تو ہم نے واشنگٹن پوسٹ کی اسٹوری کا نچوڑ بیان کیا۔ اب اصل سوال کی طرف آئیے۔

ایران کوئی سپر پاور نہیں، اس کا دفاعی بجٹ امریکا کے مقابلے میں مذاق ہے۔ اس پر برسوں سے پابندیاں ہیں۔ اس کے کئی اہم فوجی اور سیاسی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ ایران کے پاس ویسی فضائیہ ہے، نہ ویسی بحریہ، نہ ویسی ٹیکنالوجی۔ اس کے باوجود صرف ایک ‘اطلاع’ نے امریکا کو یہ سب کرنے پر مجبور کر دیا۔ اپنے صدر کو اپنے ہی صدارتی طیارے سے نکالنا، اسے کھانا پہنچانے والے ٹرک میں چھپانا، وزیردفاع کو چوری چھپے دوسرے جہاز پر سوار کرانا، ایک جہاز کا سراغ رساں نظام بند کرانا، دوسرے جہاز سے جھوٹا نام اختیار کرانا، اپنے صحافیوں کو اندھیرے میں رکھنا اور اپنے عوام کو غلط خبر دینا۔ جنگ کی زبان میں دیکھا جائے تو ایرانیوں نے ایک پوائنٹ اسکور کرلیا۔ کمزور فریق طاقتور دشمن سے اس کے میدان میں نہیں لڑتا، بلکہ وہاں ضرب لگاتا ہے جہاں طاقت کا روایتی حساب کام نہیں آتا۔ ایران نے کوئی طیارہ گرایا، نہ کسی کو نقصان پہنچایا۔ اس نے صرف امریکیوں کے لیے ایک خطرہ بلکہ ممکنہ خطرہ پیدا کیا اور ان کا پورا دفاعی نظام اور خوداعتمادی ایکسپوز ہوگئی۔

دلچسپ بات یہ کہ اتنے اہتمام کے باوجود یہ آپریشن چھپ نہ سکا۔ چند صحافیوں اور شوقیہ کیمروں نے مہینے بھر میں سب کھول کر رکھ دیا۔ میری رائے میں اس کہانی کا سب سے اہم حصہ اس واقعے کی ڈرامائی تفصیل نہیں، بلکہ وہ نفسیاتی سچائی ہے جو اس نے بے نقاب کر دی۔ ہمیں برسوں سے یہ سبق پڑھایا جاتا رہا ہے کہ امریکا کے سامنے کھڑا ہونا حماقت ہے، کہ اس کی طاقت لامحدود ہے، اس سے ٹکرانے والا مٹ جاتا ہے۔ آٹھ جولائی کی وہ رات مگر ہمیں بتاتی ہے کہ خوف صرف کمزور کے حصے میں نہیں آتا۔ طاقتور بھی ڈرتا ہے اور بسا اوقات زیادہ ڈرتا ہے، کیونکہ اس کے پاس کھونے کو زیادہ ہوتا ہے۔ دو سوالوں کے ساتھ بات ختم کرتا ہوں۔ اگر پابندیوں میں جکڑا ہوا، محاصرے میں گھرا ہوا ایران امریکی صدر کو ایک کیٹرنگ ٹرک میں چھپنے پر مجبور کرسکتا ہے تو کل امریکا کا سامنا کسی حقیقی برابر کی طاقت (جیسے چین) سے ہوا تو کیا ہوگا؟ دوسرا سوال جو شاید زیادہ اہم ہے۔ جو حکومت اپنے صدر کو بچانے کے لیے اپنے ہی صحافیوں کو چارہ بنا سکتی ہے اور اپنے ہی عوام کو جھوٹی تصویر دکھا سکتی ہے، وہ ہمارے جیسے ملکوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوگی؟ اس رات ایک جہاز فضا میں تھا۔ اس پر امریکی جھنڈا تھا، اس پر امریکا کا نام لکھا تھا، اس نے راستے میں صدارتی نام بھی اختیار کرلیا تھا اور اس میں امریکا کے صحافی بیٹھے تھے، بس صدر اس میں نہیں تھا، وہ ڈرا سہماایک چھوٹے فوجی طیارے میں دبکا بیٹھا تھا۔ یہ ایک امرِ واقعہ، ایک بے رحم حقیقت ہے۔