گفتار کا زیاں اور معاشرتی زوال

انسانی رویوں کے اس بازار میں ایک چیز ایسی ہے جو خرچ کرنے سے گھٹتی نہیں، بلکہ پھیلتی اور زہر اگلتی چلی جاتی ہے اور وہ ہے بے لگام گفتگو۔ ایک عام سی بات جب بنا تولے زبان سے نکلتی ہے تو وہ وہیں ختم نہیں ہوتی۔ وہ ایک سرسری جملے سے کہانی بنتی ہے، کہانی سے اختلاف، اختلاف سے دشمنی اور دشمنی سے ایسی مستقل قطع تعلقی میں بدل جاتی ہے جہاں فریقین کو یہ یاد بھی نہیں رہتا کہ اس سب کا آغاز کس بات سے ہوا تھا۔ ہمارے معاشرے کے موجودہ حالات پر نظر دوڑائیں تو یہ المیہ روزِ روشن کی طرح عیاں نظر آتا ہے۔ ہمارے ہاں زبان کی حفاظت کو محض ایک اخلاقی مشغلہ یا دین کی کوئی ثانوی نصیحت سمجھ لیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انسانی نجات اور معاشرتی بقا کی بنیادی اساس ہے۔ ایک شخص زندگی میں مالی نقصان یا کسی ضائع شدہ موقع پر پچھتا سکتا ہے لیکن شدید ترین پچھتاوا اور ندامت اس لمحے ہوتی ہے جب انسان یہ سوچے کہ کاش! میں اس وقت خاموش رہتا۔ اس وقت خاموش رہنا جہاں بولنا نہ تو واجب تھا، نہ مفید اور نہ ہی منصفانہ۔

ہمارے ہاں روزمرہ کی محفلوں، چائے خانوں اور ڈرائنگ رومز کا یہ چلن بن چکا ہے کہ بات اپنی اصل جسامت میں نہیں رہتی۔ کسی تنگ مجلس میں کہی گئی بات جب باہر نکلتی ہے تو پہاڑ بن جاتی ہے۔ کبھی جسے محض ‘مذاق’ کہہ کر اڑایا جاتا ہے وہ دوسرے کی عزتِ نفس پر گہرا زخم لگا جاتا ہے۔ کبھی ‘نصیحت’کے نام پر سرِعام تذلیل کی جاتی ہے اور کبھی کسی غیرتصدیق شدہ بات کو ‘معلومات’ کے نام پر آگے بڑھا کر کسی بے گناہ پر ظلم اور بدگمانی کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ زبان حجم میں کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، اس کا وار اور اثر معاشرے کو جڑوں سے ہلا دیتا ہے۔ پھر یہ معاملہ اس وقت اور بھی سنگین ہوجاتا ہے جب زبان دین، مسلک یا مذہبی وابستگی کے دفاع کے نام پر استعمال ہونے لگے۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا فطری حصہ ہے۔ علم کی دنیا میں تو اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے اور رہے گا۔ بڑے بڑے اہلِ علم نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا، دلائل پیش کیے، فتاویٰ پر نقد کیا، آرا کو رد کیا، مگر اختلاف اور دشمنی، تنقید اور تذلیل، دلیل اور دشنام کے درمیان ایک واضح حد قائم رکھی۔ بدقسمتی سے آج ہم نے اس حد کو مٹا دیا ہے۔ کسی عالم کی رائے سے اختلاف ہو، کسی سیاسی جماعت کے موقف پر اعتراض ہو، کسی مذہبی شخصیت کی بات ناقابلِ قبول محسوس ہو یا کسی مسلکی مسئلے میں دوسری رائے زیادہ مضبوط دکھائی دے، تو جواب دلیل سے دینے کے بجائے بعض اوقات زبان کو تلوار بنا لیا جاتا ہے۔ مخالف کو دلیل سے قائل کرنے کے بجائے اسے ذلیل کرنا، اس کی نیت پر حملہ کرنا، اس کے علم کا مذاق اڑانا اور حتی کہ گالی تک پر اتر آنا گویا حق کے دفاع کا لازمی حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نے ہمیں برا کہا بھی ہو تو کیا ہمیں بھی برا کہنے کا حق مل جاتا ہے؟ اسے ‘ردعمل’ کا خوب صورت نام دے کر اپنے لیے اخلاقی جواز تلاش کرنا کس قدر درست ہے؟ اور اگر واقعی کسی نے پہل کی ہو، تب بھی ایسے لوگوں کو جن کی نسبت دین سے ہو، جن کے سامنے قرآن و سنت کی تعلیمات ہوں اور جو نفاذ شریعت کے دعوی دار ہوں، زیب نہیں دیتا کہ وہ ہر اشتعال کا جواب اسی لہجے میں دیں۔ دین کا حسن صرف اس وقت نہیں دکھائی دیتا جب سامنے والا مہذب ہو، اصل امتحان تو اس وقت ہوتا ہے جب سامنے والا ہماری زبان آزمانے پر تلا ہوا ہو۔ مفتی محمد شفیع کی سوانح حیات میں کہیں پڑھا تھا کہ زندگی کے آخری حصے میں انہوں نے بعض فروعی اختلافات پر فتاوی نویسی اور فقہی موشگافیوں میں صرف کیے ہوئے وقت کو یاد کرتے ہوئے حسرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ کاش یہ وقت اللہ کے ذکر، قرآن کریم کی تلاوت اور تزکیہ نفس میں صرف کیا ہوتا۔ اگر خالص علمی مباحث میں صرف کیے ہوئے وقت پر یہ حسرت تھی تو یہاں ٹھہر کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنے مخالف کو شکست دینے کے لیے گھنٹوں دلائل جمع کرتے ہیں، پوسٹیں لکھتے ہیں، کمنٹس کرتے ہیں، جواب در جواب دیتے ہیں، طنز کرتے ہیں، طعنے دیتے ہیں اور کبھی گالی تک پہنچ جاتے ہیں، لیکن اسی معاملے میں اپنے دل کا جائزہ لینے کے لیے چند منٹ بھی نہیں نکالتے؟

ہم یہ تو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میری بات درست ہے، لیکن یہ دیکھنے کی فرصت نہیں کہ میرا انداز درست بھی ہے یا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علمی اختلاف آہستہ آہستہ نفسانی جنگ بن جاتا ہے۔ ابتدا ایک مسئلے سے ہوتی ہے، پھر شخصیت درمیان میں آتی ہے، پھر جماعت، پھر مسلک، پھر انا اور آخر میں دین کا نام صرف اپنے غصے کو مقدس بنانے کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔ رہی سہی کسر موجودہ دور کے ڈیجیٹل انقلاب اور سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے۔ اب ‘لسان’ یا زبان کا دائرہ صرف منہ سے نکلنے والے الفاظ تک محدود نہیں رہا بلکہ آج ہماری تحریریں، لائیک، شیئر، کمنٹس اور کسی کی تضحیک پر مبنی میمز پر کلک کرنا بھی اسی زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ پرانے وقتوں میں کوئی غلط بات کسی محفل میں ہوتی تھی تو وہیں دفن ہو جاتی تھی مگر آج کا سوشل میڈیا گواہ ہے کہ یہاں لکھی گئی ایک سطر یا شیئر کی گئی ایک ویڈیو انسان کی موت کے بعد بھی زندہ رہ سکتی ہے۔ جی ہاں! یہ ڈیجیٹل نقوش وہ گواہ ہیں جو انسان کے جانے کے بعد بھی اس کے نام اعمال میں برائی کا اضافہ کرتے رہتے ہیں۔

اس لیے ہمیں یہ خوب سمجھنا ہوگا کہ ہر اختلاف کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اعتراض کا جواب غصے سے دینا تو بالکل ضروری نہیں اور ہر اشتعال کا جواب اسی زبان میں دینا کسی طور دانش مندی نہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنا شروع کیا۔ آپ خاموش رہے، مگر تیسری بار جواب دے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر چلے گئے۔ حضرت ابوبکر نے وجہ پوچھی تو فرمایا: جب تک تم خاموش رہے، ایک فرشتہ اس شخص کو جواب دیتا رہا، لیکن جب تم نے جواب دیا تو شیطان آ گیا اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ (ابوداؤد) اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حق بات سے منہ موڑ لیا جائے۔ مطلق خاموشی یا صوفیانہ گوشہ نشینی حل نہیں۔ حق بات سے منہ موڑ کر خاموش رہنا بزدلی اور عجز ہے جبکہ باطل پر زبان کھولنا صریحاً فتنہ اور تباہی ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ حق کہا جائے مگر حق کے نام پر اخلاق نہ چھوڑے جائیں۔ اس کے لیے ہر بات کہنے یا لکھنے سے پہلے ایک سادہ اور سنہرا ترازو استعمال کرنا ہوگا کہ کیا یہ بات سچ ہے؟ کیا یہ نفع بخش ہے؟ کیا یہ اس بات کا مناسب وقت ہے؟ کیا یہ لگی ہوئی آگ کو بجھائے گی یا اسے مزید بھڑکائے گی؟ اور سب سے بڑھ کر کیا میں کل اس بات کی ذمہ داری اپنے سر لینے کی ہمت رکھتا ہوں؟ ہر وہ بات جو ہم جانتے ہیں، کہنے کے لائق نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر کہی گئی بات ہماری عزت میں اضافہ کرتی ہے۔ بات چیت بالکل پانی کی طرح ہے۔ اگر یہ اپنی مقررہ حدود اور راستے کے اندر بہے تو زندگی بخشتی ہے اور اگر کناروں سے باہر نکل کر سیلاب بن جائے تو بستیاں غرق کر دیتی ہے۔ جو انسان اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے، وہ اپنا اثر و رسوخ نہیں کھوتا بلکہ معاشرے میں اپنا وقار اور مرتبہ محفوظ کر لیتا ہے اور شاید ہمیں آج سب سے زیادہ اسی بات کی ضرورت ہے کہ ہم دوسروں کو خاموش کرانے سے پہلے اپنی زبان کو خاموش کرنا سیکھیں، مخالف کو زیر کرنے سے پہلے اپنے نفس کو زیر کریں اور ہر اختلاف میں یہ یاد رکھیں کہ ممکن ہے بحث ہم جیت جائیں مگر اگر اس جیت کے راستے میں کسی کا دل توڑ بیٹھے، کسی کی عزت پامال کر دی یا اپنی زبان سے ایسی بات کہہ دی جس پر کل شرمندہ ہونا پڑے تو شاید یہ جیت نہیں بلکہ ایک ایسا نقصان ہے جس کا حساب دنیا میں نہیں آخرت میں ہوگا۔