بھارت کا آئین مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور مختلف مذہبی برادریوں کو اپنے شخصی قوانین کے مطابق عائلی معاملات چلانے کا حق دیتا ہے،مسلم پرسنل لاء بھی اسی آئینی اور قانونی نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت نکاح، طلاق، وراثت اور تعددِ ازدواج جیسے مسائل کا فیصلہ کیا جاتا ہے، ایسے میں اگر مودی حکومت بار بار ان ہی امور کو سیاسی اور انتظامی مداخلت کا موضوع بنائے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ مسلمانوں کو اور مسلم پرسنل لاء کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ خبر، جس میں ‘تعددِ ازدواج سے متاثرہ مسلم خواتین”سے درخواستیں طلب کرنے کی بات کی گئی ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے،گزشتہ چند برسوں میں بھی ایسے متعدد اقدامات سامنے آئے جنہیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے مذہبی تشخص اور شخصی قوانین میں مداخلت کے طور پر دیکھاہے، طلاقِ ثلاثہ کو جرم قرار دینے والا قانون، بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں بتدریج یکساں سول کوڈ کا نفاذ، مذہبی مقامات اور وقف سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں، اور دیگر اقدامات نے اس احساس کو مزید تقویت دی ہے کہ موجودہ حکومت کی زبان پر بھلے ہی سب کے وکاس اوروشواس کی بات ہو لیکن اس کا طرز عمل اور برتائو جمہوریت کے نام پر اکثریت کے جبر کو اقلیت پر مسلط کرناہے،برسراقتدار پارٹی ان اقدامات کو اصلاحات قرار دیتی ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابی سیاست، اکثریت کے جذبات کی تسکین کا ذریعہ اورسنگھ پریوار کے ایجنڈہ کو نافذ کرنے کے مرحلہ وار اقدامات ہیں۔
گھریلو تشدد، جہیز، ازدواجی استحصال، ترکِ زوجیت اور دیگر مسائل ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں، اگر حکومت واقعی خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے تمام طبقات کی خواتین کے لیے یکساں اور غیر امتیازی اقدامات کرنے چاہیے، نہ کہ صرف ایک مذہبی برادری کے شخصی قوانین کو بار بار موضوع بنایا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ تعددِ ازدواج کا مسئلہ کئی پہلوؤں سے قابل غور ہے : مذہبی ، سماجی اوراخلاقی ،مذہبی اعتبار سے یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں تعدد ازدواج کو جائز قرار دیا گیا ہے ، ڈاکٹر مالک رام نے رگ وید کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ایک مرد کے لئے بیک وقت ایک سے زیادہ نکاح کرنا درست ہے اور بیویوں کی کوئی تحدید نہیں ہے۔
یہودی مذہب میں بھی تعدد ازدواج کی گنجائش ہے ؛ چنانچہ خود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں ، ایک حضرت صفورہ ، جو حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی تھیں (تورات ) ۔آپ کا دوسرا نکاح ایک کوشی خاتون سے ہوا تھا ، (گنتی) خود بائبل میں حضرت داؤد علیہ السلام کی چھ بیویوںکا ذکر آیا ہے(تورات )۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں تورات کا کہنا ہے کہ ان کی سات سو بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں(سلاطین) عیسائی مذہب چوںکہ اپنی اصل کے اعتبار سے تورات ہی کی شریعت پر ہے اس لئے سمجھنا چاہئے کہ اصلاً عیسائی مذہب میں بھی تعدد ازدواج کی اجازت ہے ؛ چنانچہ شیخ محمود عقاد نے لکھا ہے کہ سترہویں صدی تک خود اہل کلیسا نے تعدد ازدواج کی حمایت کی ہے ، فرماتے ہیں :
مختلف انسانی نظام ازدواج کی تاریخ کا مستند عالم وسٹر مارک (Vister Marc) نے بیان کیا ہے کہ کلیسا اور حکومت دونوں ہی سترہویں صدی کے نصف تک تعدد ازدواج کو مباح قرار دیتے تھے اور ان کے یہاں بکثرت اس کا رواج تھا۔ (الفلسفة القرآنیہ)
غرض دنیا کے مشہور مذاہب میں شاید ہی کوئی مذہب ہو، جس نے تعدد ازدواج کو جائز نہ رکھا ہو ، اسلام نے بھی تعدد ازدواج کی اجازت دی ہے ؛ لیکن اس کے لئے بنیادی طور پر دوباتوں کی تحدید رکھی ہے ، اول : یہ کہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار تک ہی تعدد ازدواج کی اجازت ہے ، دوسرے : یہ اجازت عدل کے ساتھ مشروط ہے ، یعنی جو شخص ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان حقوق کی ادائیگی اور سلوک و برتاؤ میں برابری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ، اسی کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت ہے ، پس اسلام نے ایک طرف سماجی ضرورت کی رعایت بھی کی ہے اور دوسری طرف ان حدود و قیود کے ذریعہ اس اجازت کو متوازن بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔
دوسرا پہلو سماجی ضرورت کا ہے ، عام طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کی شرح پیدائش (Rate of linth) میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا لیکن شرح امواتRate of death)) میں مردوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ؛ کیوںکہ زیادہ تر حادثات میں مردوں کی جانیں کام آتی ہیں ، مثلاً : پہلی جنگ ِعظیم جو1914ء سے 1918 ء تک جاری رہی ، میں اسّی لاکھ صرف فوجی مارے گئے ، شہریوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے ، ظاہر ہے کہ یہ فوجی مرد تھے ، دوسری جنگ ِعظیم 1939ء تا 1945ء جاری رہی ، جس میں کل ساڑھے چھ کڑور آدمی یا تو ہلاک ہو گئے یا معذور ، ان مہلوکین اور معذورین میں غالب ترین اکثریت مردوں کی تھی ، اس جنگ ِعظیم میں برباد ہونے والا قائد ملک جرمنی تھا ،1920ء سے 1940 ء تک جرمنی میں یہ کیفیت تھی کہ ہر مرد کے مقابلہ شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی تین عورتیں ہوتی تھیں ، فرانس میں1900ء کی مردم شماری کے اعتبار سے عورتوں کی تعداد مردوں سے چار لاکھ ،تئیس ہزار ، سات سو نوسے زیادہ تھی اور آسٹریلیا میں 1890ئ میں چھ لاکھ ، چوالیس ہزار ، سات سو ، چھیانوے عورتیں مردوں سے زیادہ تھیں ، عراق ایران جنگ (1981ء – 1989ء ) میں عراق کی ایک لاکھ اور ایران کی بیاسی ہزار عورتیں بیوہ ہو گئیں۔
جنگوں کے علاوہ جو دوسرے ٹریفک یا صنعتی حادثات پیش آتے ہیں اور جو لوگ غنڈہ گردی کا نشانہ بنتے ہیں ، وہ بھی عام طور پر مرد ہی ہوتے ہیں ، پھر اگر جیلوں میں طویل المدت قیدیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں نوے فیصد سے زیادہ تعداد مردوں کی ہوتی ہے؛ کیوں کہ طویل قید بھیانک جرائم پر ہوتی ہے اور اپنی نفسیاتی کمزوری کی بنا پر مجرم ذہن کی عورتیں بھی بھیانک قسم کے جرائم کا حوصلہ نہیں پاتیں ، ان اسباب کی بناء پر عام طور پر ایک مرد کے مقابلہ ایک سے زیادہ عورتوں کا تناسب پایا جاتا ہے ، امریکا جیسے ملک میں جس میں حادثات سے حفاظت کا زیادہ ترقی یافتہ نظام قائم ہے اور دفاعی ٹکنالوجی میں ترقی اور بالادستی کی وجہ سے حریف ملکوں کے مقابلہ اس کی فوجیوں کی ہلاکت کاتناسب بہت کم ہوتا ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق 1987ء میں وہاں عو رتوں کی آبادی بمقابلہ مردوں کے تقریباً اسی لاکھ زیادہ تھی۔
اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہ دی جائے تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد تجرد اور محرومی کی زندگی گذارے ، اس لئے تعدد ازدواج مردوں کی ہوس اور نفسانی طمع کی تکمیل نہیں ؛ بلکہ ایک سماجی ضرورت ہے۔
تعددِ ازدواج کے مسئلہ میں سب سے اہم پہلو اخلاقی ہے ، عفت و عصمت انسانیت کا بنیادی جوہر ہے ، گائے اور بیل ، گھوڑے، گدھے اور ان کی مادہ کے درمیان کیا کبھی نکاح ہوا ہے ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے ، نرو مادہ کی تقسیم اور جنسی خواش انسان میں بھی ہے اوردوسرے حیوانات میں بھی ؛ لیکن یہ انسانی سماج کا امتیاز ہے کہ نکاح کے ذریعہ ایک مرد اورعورت رشتۂ ازدواج میں بندھ جاتے ہیں اور ان کی وفاداریاں ایک دوسرے کے لئے محدود و مخصوص ہو جاتی ہیں ، دوسری مخلوقات اس وفاداری سے ناآشنا ہے ، اسی وفاداری کا نام ”عفت و عصمت ” ہے ، عفت و عصمت انسان کی فطرت میں ہے اور ہر سلیم الفطرت شخص اس کا ادراک کر سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے بارے میں برائی کی نسبت کو برداشت نہیں کرسکتا ، تعدد ازدواج اس جوہر عفت کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ، دنیا کی تاریخ میں جب کبھی بھی قانونی تعدد ازدواج پر روک لگائی گئی ہے وہاں غیر قانونی تعدد ازدواج نے ضرور راہ پائی ہے ، قدیم تہذیبوں میں یونانی اور رومی تہذیب تعدد ازدواج کی مخالف تھی ، ایڈور ڈہارٹ پول لیکی (1883 – 1930ئ) نے یونانی تہذیب کے بارے میں لکھا ہے کہ مرد کے لئے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت نہ تھی ؛ لیکن غیر قانونی داشتاؤں پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ (تاریخ اخلاق یورپ ۔ ” ترجمہ دریا آبادی”۔) (جاری ہے)

