موسمیاتی تغیر کی عالمگیر تباہ کاریاں

خبر ہے کہ ماہ جون 2026 میں یورپ میں دس ہزار سے زائد معمول سے اضافی اموات ہوئی ہیں۔ یہ ایک چونکا دینے والی صورتحال ہے، یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے میں اس طرح کی صورتحال پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے کہ ابھی وقت ہے سنبھل جاؤ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔قدرت کے اپنے اصول ہیں۔ وہ انسان کو بار بار متنبہ کرتی ہے، مشکلات کی آمد سے آگاہی کیلئے قدرت انسان کو چھوٹی مشکلات میں مبتلا کر کے خبردار کرتی ہے مگر انسان اپنی سہولتوں، معاشی مفادات اور وقتی کامیابیوں کے خمار میں ان انتباہات کو نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ کبھی جنگلات کی آگ، کبھی سیلاب، کبھی خشک سالی اور کبھی جان لیوا گرمی کی صورت میں قدرت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اس کائنات پر وہ حکمران نہیں بلکہ ذمہ دار کا کردار لے کر آیا ہے لیکن اس نے دنیا کے عارضی ٹھکانے کو دائمی سمجھ رکھا ہے۔ مغربی یورپ میں حالیہ شدید گرمی کی لہر، جس کے دوران دس ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں، اسی مسلسل تنبیہ کا ایک اور باب ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم تو کر رہی ہے، لیکن اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں ابھی بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔یورپ کو ہمیشہ معتدل آب و ہوا کا خطہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہاں کے گھروں، شہروں اور طرزِ زندگی کی تشکیل بھی اسی تصور کے مطابق ہوئی۔ یہی وجہ ہے جب درجہ حرارت 45 یا 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچتا ہے تو صرف موسم ہی نہیں بدلتا بلکہ پورا معاشرتی نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔ اسپین، پرتگال، فرانس اور اٹلی کے کئی علاقوں میں امسال جون اور جولائی کے آغاز میں پارہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند رہا۔ بعض مقامات پر کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

یورپی موسمیاتی اداروں کا کہنا ہے حالیہ برسوں میں گرمی کی لہریں نہ صرف زیادہ شدید بلکہ زیادہ طویل بھی ہو گئی ہیں اور ان کے درمیان وقفہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔اگر ہم تقابلی اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ 2022 میں یورپ نے شدید گرمی کی ایک غیر معمولی لہر دیکھی، 2023 میں کئی ممالک نے جون اور جولائی کے نئے ریکارڈ قائم کیے، 2024 اور 2025 میں بھی یورپ میں معمول سے زیادہ گرم موسم کا رجحان برقرار رہا اور اب 2026 نے اس سلسلے کو مزید خوفناک انداز میں آگے بڑھا دیا ہے۔ گویا یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل بڑھتا ہوا رجحان ہے، جسے سائنسدان برسوں سے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں نہ صرف بیان کرتے آ رہے ہیں بلکہ خبردار بھی کر رہے ہیں مگر آسائشوں کے پیچھے بھاگنے والا انسان ان کے مضمرات کو مسلسل نظرانداز کرتا چلا آ رہا ہے۔

اس شدید گرمی کی بنیادی وجہ بھی اب کسی کھلے راز سے کم نہیں۔ صنعتی ترقی نے انسان کو بے شمار آسائشیں دیں، مگر اس ترقی کی قیمت بھی اب قدرت نے وصول کرنا شروع کر دی ہے۔ کوئلہ، تیل اور گیس کا حد سے زیادہ استعمال، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ اور فضائی آلودگی نے فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار اس حد تک بڑھا دی ہے کہ زمین کا قدرتی توازن متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ اس سال بحیرہ روم کا پانی بھی غیر معمولی طور پر گرم رہا، جس نے جنوبی یورپ میں گرم ہواؤں کی شدت میں اضافہ کیا۔ دوسری طرف فضا میں بننے والے طاقتور دباؤ نے ٹھنڈی ہواؤں کا راستہ روک دیا۔ یوں کئی دنوں تک سورج کی تپش ایک ہی علاقے پر مرکوز رہی اور گرمی ایک قدرتی کیفیت سے بڑھ کر انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گئی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گرمی سب انسانوں کو یکساں متاثر نہیں کرتی۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اضافی اموات میں تقریباً نوے فیصد افراد کی عمر پینسٹھ برس یا اس سے زیادہ تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عمر رسیدہ افراد جن کی اکثریت دائمی بیماریوں میں مبتلا ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی پہلی صف کے متاثرین ہیں۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ صحتِ عامہ، سماجی انصاف اور انسانی بہبود کا بھی سوال ہے۔

یورپ کی اس صورتحال سے پاکستان کے لیے بھی ایک واضح سبق موجود ہے۔ ہم دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں ہمارا حصہ نہایت محدود ہے۔ کبھی تباہ کن سیلاب، کبھی غیر معمولی گرمی، کبھی پانی کی قلت اور کبھی زرعی پیداوار میں کمی ہماری معیشت اور معاشرے دونوں کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اگر یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی گرم ہوتے موسم کے اس بحران سے محفوظ نہیں تو ہمیں اپنی تیاریوں کو معمولی اقدامات تک محدود رکھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ اصلاحِ احوال کے لیے محض کانفرنسیں اور اعلانات کافی نہیں ہوں گے۔ دنیا کو توانائی کے صاف ذرائع کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا۔ جنگلات کا تحفظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری وقت کی ضرورت ہے۔ شہروں میں سبز علاقوں کو بڑھانا، بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، عمارتوں کی تعمیر میں ماحول دوست اصول اپنانا اور ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے مؤثر انتباہی نظام قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ صحت کے شعبے کو بھی ایسے بحرانوں کے لیے پہلے سے تیار کرنا ہوگا تاکہ بزرگ شہریوں اور کمزور طبقات کو بروقت تحفظ فراہم کیا جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ ماحول کو اعتدال پر لانے کے لیے فرد کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ بجلی کے غیر ضروری استعمال میں کمی، پانی کی حفاظت، درخت لگانا، پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنا اور ماحول دوست طرزِ زندگی اختیار کرنا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، مگر اجتماعی سطح پر انہی سے بڑی تبدیلی جنم لیتی ہے۔ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بن جاتا ہے اسی طرح احتیاط کے چھوٹے چھوٹے کام مجموعی طور پر بڑا فائدہ دے سکتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف حکومتیں نہیں کر سکتیں، اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار پوری ذمہ داری سے ادا کرنا ہوگا۔یورپ میں گرمی کی حالیہ لہر دراصل ایک سوال ہے، جو پوری دنیا سے پوچھا جا رہا ہے: کیا ہم ترقی اور ماحول کے درمیان توازن قائم کر سکیں گے، یا آنے والی نسلوں کو ایک ایسی زمین ورثے میں دیں گے جہاں گرمی، سیلاب، خشک سالی اور آلودگی معمول بن چکے ہوں؟ اس سوال کا جواب ہمارے بیانات میں نہیں بلکہ ہمارے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو کل تاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا، بلکہ یہ لکھے گی کہ وہ اپنی ہی زمین کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہا۔