وزیر داخلہ محسن نقوی کی حالیہ تقریر سے ایک بار پھر بحث تیز ہوگئی ہے کہ اس نظام نے ملک کو کیا دیا، نام نہاد جمہوری نظام جس میں بنیادی سہولیات سے لیکر امن اور انصاف تک ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہے ، یہ نظام ڈلیور کرنے میں ناکام کیوں رہا ہے؟ نئے صوبے بننے چاہئیں، لیکن سوال یہ ہے کہ جب سابقہ فاٹا کے قبائل الگ صوبے کا مطالبہ کررہے تھے اور وہ کسی صوبے کا حصہ بھی نہیں تھے، صوبہ بننا آسان تھا ،آخر کیوں زبردستی خیبر پختونخوا میں شامل کیا گیا؟ صوبے بننے چاہئیں، جنوبی پنجاب والے کافی عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں، کیا صوبے میرٹ پر بنائے جائیں گے؟ نظام کی خرابی میں بنیادی کردار کا تعین کون کرے گا؟ کیا سول بیورکریسی اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہی ہے؟ یا سیاست دان؟ یا ریاستی ادارے؟ کئی سوال ہیں۔
انہتر برس گزرنے کے باوجود اس نوکر شاہی کا نام صرف تبدیل ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ سول بیوروکریٹس ہی ہیں جو اسمبلیوں سے لیکر عدالتوں کے احکامات میں روکاٹیں ڈالتے ہیں اور کاغذی کاروائیاں کر کر کے وقت ضائع کرتے ہیں، البتہ جہاں ان کا مفاد اور حصہ ہو وہاں کاغذوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ پولیس سے لیکر کسٹم تک، ایف آئی اے سے لیکر مینجمنٹ تک ہر جگہ سول بیوروکریسی کے کرپشن کی ہزار داستانیں ہیں، لیکن کوئی ان کے خلاف ایکشن لینے کو تیار نہیں، صحافی بھی گھوم پھر کر سیاست دانوں اور مذہبی رہنماؤں اور چند تاجروں کے خلاف لکھ کر خوش ہوجاتے ہیں یا انہیں بلیک میل کرتے ہیں ، لیکن بات اگر کسٹم آفیسرز کی ہو تو وہاں یہ چپ ہوجاتے ہیں۔
پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا تھا ،اس میں اسلامی نظام نفاذ نہیں ہوسکا ۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے باوجود سودی نظام کو ختم کرنے میں یہی سول بیوروکریسی رکاوٹ ہے ۔ رہی بات ان کے اثاثوں اور دوہری شہریت کی تو وزارت خارجہ کے افسران و ملازمین سے لیکر ہر شعبے طبقے کے صرف پرتگال میں نہیں دنیا بھر کے ملکوں کے شہری ہیں،سوائے چند ایک کو چھوڑ کر ہر افسر ہر ملازم اس چکر میں ہے کہ کسی طرح وہ یورپ و دیگر ممالک میں اپنے خاندان کو سیٹ کرواسکے ، یہی وہ وجوہات جس کی وجہ سے پاکستان نوجوان طبقہ اس نظام سے مایوس ہے ، وہ حقیقی تبدیلی چاہتا ہے ، وہ اس گلے سڑے نظام کا خاتمہ چاہتا ہے اور جن کو یہ احساس ہورہا ہے کہ تبدیلی نہیں آسکتی وہ ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، اس سال صرف چھ ماہ میں تین لاکھ سے زیادہ افراد ملک سے جاچکے ہیں اور مزید ملک چھوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ سول بیوروکریسی ہی ہے جس نے سابقہ فاٹا اور اور بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کی بجائے ملک، سرداروں کو مضبوط کیا ، یہ سول بیوروکریسی ہے کہ جو صرف کاغذی کاروائیوں پر کھیلتی ہے ، یہ سول بیوروکریسی ہی ہے کہ کونسلر سے لیکر ضلعی چیئرمین تک ، صوبائی اسمبلی کے ممبر سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان کو چند ذاتی فوائد دے کرعوام کو حقیقی فوائد سے محروم رکھتی ہے ، ان کو پیٹرول ،ڈیزل سے لیکر بجلی گیس تک میں رعایت ہے اور عوام کو لوڈشیڈنگ مہنگی بجلی گیس بے روزگاری کا سامنا ہے ، ان کے خاندان کے افراد کو سرکاری نوکری گھر بیٹھے مل جاتی ہے اور عوام کی کثیر تعداد کے نوجوان بے روزگار رہتے ہیں،کیا مزید یہ نظام اور اس سے مستفید ہونے والے طبقے کی حکمرانی کے خاتمے وقت نہیں آیا؟ سوا ل ہے ،کیا پاکستان میں تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا اب بھی ایک جماعت کی مخالفت میں تبدیلی یا نظام کی تبدیلی سے انکار جائز ہے؟ کچھ عرصہ قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے بیان میں کہا تھاکہ یہ نامی گرامی بیورو کریٹس ہیں، مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ بیٹیوں کی شادی پر صرف چار ارب سلامی وصول کر چکا، اب آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔
محسن نقوی اور خواجہ آصف کی باتوں سے کچھ نہیںہوتا، یہ خود پچھلے پچاس برسوں سے اسی نظام کا حصہ ہیں، انہوںنے ہی پچاس برسوں میں اس نظام کو مضبوط کیا ہے ، ان کی جماعت ہی اس ملک میں اسلامی نظام کی راہ میں بڑی رکاوٹ رہی ہے، ان کی جماعت ان کے اشاروں پر نانچتی رہی ہے ، چودہ اگست ایک بار پھر آنے کو ہے ، لیکن پاکستان آج بھی کالے انگریز چلا رہے ہیں ۔حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب نوجوان سیاسی اور مذہبی بہروپیوں کے چکر سے نکل کر باہر آئیں گئے ،ورنہ یہ سیاسی مداری اپنے مفادات کیلئے ملک میں نظام تبدیل نہیں کریں گے،رہی بات کونسا نظام لانا ہے، اسی برسوں میں تقریبا سارے نظاموں کا تجربہ ہوچکا،صرف اسلامی نظام ہی باقی ہے، اسلام اور اسلامی نظام ہی وہ راہ ہے کہ جس پر عمل کرکے ان بحرانوں سے نکلا جاسکتا ہے ، ورنہ بلوچستان ، اور قبائل کی صورتحال سب کے سامنے ہے ۔

