تعلیم کا بحران اور ہماری ترجیحات

اقوام کی ترقی اور خوشحالی کا حقیقی راز معیاری تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ اعلیٰ و معیاری تعلیم ہی باشعور، باصلاحیت اور ہنرمند افراد تیار کرتی ہے، جو معاشی، سماجی اور سائنسی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پر خرچ کرتے ہیں۔امریکا، چین، جاپان، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی سائنسی، طبی اور صنعتی پیش رفت دراصل ان کے مضبوط تعلیمی نظام کی مرہونِ منت ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں بالخصوص اعلیٰ تعلیم مسلسل بحران کا شکار ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے وسائل کی کمی، ناقص منصوبہ بندی اور غیر مستقل پالیسیوں کے باعث مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر ہیں۔ نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC) کی اپریل 2025ء میں جاری کردہ رپورٹ “State of Children in Pakistan 2024” کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 28 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو اس عمر کے بچوں کا 44 فیصد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ہمارے تعلیمی نظام کی سنگین صورتِ حال کی عکاسی کرتے ہیں۔

پاکستان میں ہر حکومت تعلیم کے فروغ کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، مگر عملی اقدامات ان کی تائید نہیں کرتے۔ اعلیٰ تعلیم کا معیار اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک جامعات اور کالجوں میں قابل، مستقل اور میرٹ پر منتخب اساتذہ موجود نہ ہوں۔ بدقسمتی سے سرکاری کالجوں اور جامعات میں اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں برسوں سے خالی ہیں، جبکہ مستقل تقرریوں کے بجائے عارضی اور ایڈہاک اساتذہ پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف تدریسی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ اساتذہ بھی شدید پیشہ ورانہ و مالی عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر صوبہ خیبر پختونخوا کے میل اور فیمیل کالجوں میں بی ایس (BS) پروگرام پچھلے دس سال سے کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ پبلک سروس کمیشن، پی ایم ایس (PMS) اور سی ایس ایس (CSS) جیسے مقابلے کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کر رہے ہیں۔ ان کالجوں میں زیادہ تر غریب طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جن کے تمام سمسٹرز پر مجموعی اخراجات 50 سے 60 ہزار روپے کے قریب آتے ہیں۔

تاہم دوسری طرف ان کالجوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ پورے صوبے میں اساتذہ کی تقریباً تین ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر چھ ماہ بعد عارضی طور پر (صرف ایک سمسٹر کے لیے) اساتذہ کی تعیناتی کی جاتی ہے۔ اس پالیسی سے کئی سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ عارضی بنیادوں پر مقرر کیے گئے اساتذہ پوری دل جمعی اور لگن سے تدریس نہیں کر پاتے کیونکہ ان پر ہر وقت یہ خوف مسلط رہتا ہے کہ چھ ماہ بعد ملازمت ختم ہو جائے گی اور اگلے سمسٹر میں ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ مزید برآں تعیناتی کے باوجود انہیں بروقت تنخواہیں نہیں ملتیں، بلکہ اکثر چار سے پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد اکٹھی ادا کی جاتی ہیں۔ اس تاخیر کے باعث وہ اپنے روزمرہ اخراجات اور آمد و رفت کے لیے مقروض ہو جاتے ہیں اور مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس ذہنی تناؤ میں معیاری تدریس ممکن نہیں رہتی۔

اسی طرح ملک بھر کی دیگر سرکاری جامعات کی مالی حالت بھی انتہائی تشویش ناک ہے۔ پاکستان کی متعدد جامعات نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن حکومتی فنڈز میں کمی اور گرانٹس کے غیر یقینی اجرا نے انہیں شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ کئی جامعات اپنے ملازمین کو بروقت تنخواہیں دینے، تحقیقی منصوبے جاری رکھنے اور بنیادی سہولیات برقرار رکھنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ ایک طرف نئی جامعات کے قیام کے اعلانات کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف موجودہ جامعات کو مطلوبہ مالی وسائل فراہم نہیں کیے جاتے، جس سے تعلیم و تحقیق کا معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

وفاقی بجٹ 2026ـ27ء میں تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور اسکول و کالج ایجوکیشن کے لیے 26.3 ارب روپے شامل ہیں، جس میں سے 22 ارب روپے دانش اسکولز نیٹ ورک کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں اضافہ ظاہر کرتی ہے، تاہم مجموعی قومی بجٹ میں تعلیم کا حصہ اب بھی 2 فیصد سے کم ہے، جو ملک کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ قومی سطح پر تعلیم کو اب بھی وہ اہمیت حاصل نہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں دی جاتی ہے۔

اگر پاکستان واقعی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور تعلیم کو اخراجات کے بجائے قومی سرمایہ کاری سمجھنا ہو گا۔ تعلیمی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور جامعات کو بروقت مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ عارضی اور ایڈہاک بنیادوں پر بھرتیوں کا سلسلہ ختم کر کے تمام خالی آسامیوں پر میرٹ کے مطابق مستقل اساتذہ تعینات کیے جائیں۔ اساتذہ کی بھرتی کا عمل تیز، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنایا جائے تاکہ خالی آسامیوں کو بروقت پْر کیا جا سکے۔ تحقیق کے فروغ اور ایک پائیدار قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل کے بغیر تعلیمی بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔ جب تک تعلیم کو قومی ترقی کا بنیادی ستون نہیں بنایا جاتا، معاشی استحکام، سائنسی پیش رفت اور عالمی مسابقت میں مؤثر کردار ادا کرنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔

آج دنیا مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی نوجوان نسل کو معیاری تعلیم اور جدید مہارتوں سے لیس نہ کیا تو ہم عالمی مسابقت میں مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمارے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک بڑا سرمایہ موجود ہے، لیکن یہ سرمایہ اسی وقت قومی طاقت بن سکتا ہے جب اسے درست تعلیمی سمت فراہم کی جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں وقتی سیاسی فائدوں کے بجائے آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے تعلیم کے شعبے میں طویل المدتی فیصلے کریں۔ معیاری تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط معیشت، مستحکم معاشرہ اور خود کفیل قوم کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ اگر آج تعلیم پر سنجیدہ سرمایہ کاری کی گئی تو یہی سرمایہ کاری کل پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور عالمی وقار کی ضمانت بنے گی۔