ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی اسرائیلی شہری کا پتہ لگنے پر اسے فوری طور پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔
فری ملائیشیا ٹوڈے کے مطابق ملائشین وزیر اعظم کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جنوبی ریاست جوہر میں ایک مقامی کمیونٹی کے نیٹ ورک اسکول سے متعلقہ کارروائیوں میں اسرائیلی ملوث پائے گئے جس کی حکام تحقیقات کررہے ہیں۔
تنازع اُس وقت کھڑا ہوا جب سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئیں جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیلی غیرملکی پاسپورٹس کا استعمال کرتے ہوئے کمیونٹی کو جوائن کررہے ہیں۔
انور ابراہیم نے کہا کہ متعلقہ ایجنسیاں الزامات کی تحقیقات کر رہی ہیں اور اگر یہ سچ ثابت ہوئے تو حکومت سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اگر ہمیں کوئی اسرائیلی ملتا ہے تو ہم انہیں فوری طور پر ملک بدر کر دیں گے کیونکہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔
جوہر کی ریاستی حکومت کی جانب سے جوہر میں قائم کمیونٹی اسکول سے متعلق الزامات کی وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کیے جانے کے بعد وزارت داخلہ نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ فاریسٹ سٹی میں بین الاقوامی برادری میں معائنہ کرنے والے تمام 266 غیر ملکیوں کے پاس امیگریشن کے درست دستاویزات پائے گئے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی پاسپورٹ رکھنے والوں کو عام طور پر خصوصی منظوری کے بغیر ملائیشیا میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے کیونکہ ملک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ۔

