بالادستی کی کشمکش اور باہمی اعتماد سازی کی ضرورت

پاکستان اور دیگر مسلم ریاستوں کی مسلسل کوششوں کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی افواج نے گزشتہ شب ایران کے مختلف شہروں، فوجی مراکز اور اقتصادی اہمیت کے مقامات پر شدید حملے کیے ہیں جبکہ دوسری جانب ایران کی جانب سے کویت، بحرین، عمان اور دیگر امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں۔ خبروں کے مطابق مختلف عرب ریاستوں نے ایرانی حملوںکو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ زمینی، بحری اور فضائی حملوں کی تردید نہیں کی جا سکتی تاہم اب تک کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ایرانی بحریہ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے بعض تجارتی جہازوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ بغیر اجازت گزرنے والے کسی بھی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ اب چوںکہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا کنٹرول ہے لہٰذا امریکا اس آبنائے سے گزرنے والے ہر جہاز سے ٹول ٹیکس خود وصول کرے گا۔ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد آبنائے ہرمز عملی طورپر معطل ہوگئی ہے اور اس کے ساتھ ہی تیل کی عالمی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورت حال کا کوئی فوری حل تلاش نہ کیا گیا تو تیل کی عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور عالمی سطح پر مہنگائی، معاشی بدحالی اور اشیائے ضرورت کی قلت جیسے مسائل پیدا ہوں گے اور کمزور معیشت رکھنے والے ممالک کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور گزرنے والے تجارتی جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی کے عندیے نے خطے میں جاری کشیدگی کو ایک نیا رخ فراہم کر دیا ہے۔ اس امر میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تصادم دراصل علاقے میں بالادستی کی جنگ ہے۔ امریکا خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل جیسے دہشت گردی کے اڈے کی پشت پناہی سمیت طاقت کی تمام کلیدوں کو اپنی دسترس میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب ایران میں موجود قوتیں بھی اسی غلبے، تسلط اور بالاتری کی کوشش میں ہیں۔ صورتِ حال کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا دائرہ محض عسکری فتح تک محدود نہیں ہے۔ یہ جنگ توانائی کے ذخائر، تجارتی گزرگاہوں، عالمی معیشت، ڈالر اور سمندروں پر اجارہ داری کا مقابلہ ہے۔ اگر امریکا کو اپنے بعض اتحادیوں کا تعاون حاصل ہے تو ایران بھی مکمل طورپر تنہا نہیں ہے۔ البتہ اس کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان عرب ریاستیں اٹھا سکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ خود عرب ریاستیں بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں اسی لیے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے ایران کی جانب سے واضح اشتعال انگیزی کے باوجود ضبط، تحمل اور بردباری کا مظاہرہ پیش کیا ہے اور جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔ اس موقع پر یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جنگ کی طوالت کے ساتھ ساتھ اس کے پس پردہ مقاصد اور اہداف بھی بتدریج عیاں ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکا نے اسرائیل کے اتحادی کے طورپر ایران پر فوج کشی کی تھی اور اس میں بنیادی نکتہ یہ اٹھایا گیا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری اسلحہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران نے مذاکرات میں اس شرط کو قبول کر کے گویا جنگ بندی کے لیے ماحول سازگار کر دیا لیکن امریکا کی جانب سے دیگر شرائط پر اصرار جاری رہا۔ اس دوران اگر ایران کی طرف سے قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے تجارتی جہازوں کو بلاجواز نشانہ بنانے کی حماقت نہ کی جاتی تو شاید جنگ بندی کے لیے طے شدہ مذاکراتی عمل پر کافی حدتک پیش رفت ہو چکی ہوتی۔ تاہم اب دکھائی یہ دیتا ہے کہ امریکا کی نیت تبدیل ہو چکی ہے۔ وہ خود کو علاقائی محافظ کے روپ میں پیش کر کے آبنائے ہرمز، باب المندب اور دیگر تجارتی گزرگاہوں کو استعمال کرنے والے تمام ممالک سے خراج وصول کرنا چاہتا ہے جیسا کہ یورپی ممالک کسی وقت ترکیہ کی سمندری حدود کو ایسی ہی لوٹ مار کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ امریکا کا یہ نیا چہرہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اگر ایران تجارت اور دیگر وسائل کے لیے اہم ترین حیثیت رکھنے والی عالمی گزرگاہ کو اپنے مالی مفادات کے لیے زیرِتصرف لاسکتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس عسکری قوت، پراکسی وار کے لیے دستیاب مسلح جتھے اور طاقت ور گروہ موجود ہیں تو امریکا ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ جہاں تک کسی قانونی جواز کا تعلق ہے تو دنیا بتدریج طاقت کے علانیہ استعمال اور قوانین اور اصولوں کے عملی تعطل کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے بعد طاقت ہی دنیا میں واحد قانون سمجھ لیا جائے گا۔ دنیا کو تباہی اور بربادی کے اس گڑھے میں دھکیلنے کا ذمہ دار تنہا امریکا ہی نہیں ہوگا بلکہ اس میں ایران کے وہ جتھے بھی شریک ہوں گے جوکہ اپنی اجارہ داری، طاقت پر کنٹرول، حکومت پر دسترس اور ایران کے عوام پر بلاشراکت حکمرانی کے لیے ہر قسم کی چال کو درست سمجھ کر کھیل رہے ہیں لیکن طاقت کے اس کھیل میں انھیں کسی بھی وقت شکستِ فاش ہو سکتی ہے۔

ان حالات میں جبکہ خطہ ایک خوف ناک جنگ کے شدید خطرات کا سامنا کر رہا ہے اور قطر جیسے ممالک عملی طورپر مذاکراتی عمل سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، پاکستان ایک مرتبہ پھر امن کے لیے امیدوں کا مرکز بن رہا ہے۔ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اس وقت ترکیہ میں ہیں جہاں ترکیہ کے علاوہ مصر کی عسکری قیادت کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ معاصر حالت کے تناظر میں ان ملاقات کا اہم ترین مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کا تدارک ہو سکتا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر مسلم ممالک کی بڑی عسکری قوت سمجھے جاتے ہیں۔ ان تینوں ملکوں اور بشمول سعودی عرب، قطر اور کویت کا اتحاد علاقائی طاقت کے توازن میں گہرا اثر رکھتا ہے۔ قرینِ قیاس یہ ہے کہ تنہا پاکستان ہی نہیں بلکہ چین بھی سفارتی کاری کے اس عمل میں کہیں پس منظر میں موجود ہو کیوں کہ امریکا کی خطے میں موجودگی جہاں دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہو سکتی ہے وہاں چین کے لیے بھی یہ ایک بڑا اقتصادی چیلنج ہے۔ موجودہ دور کی جنگیں بہرحال صرف میدانوں ہی میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ اب ان کا دائرہ تجارت، صنعت، گزرگاہوں اور توانائی کے ذخائر سے لے کر عام آدمی کی اسکرین تک پھیل چکا ہے۔ ان حالات میں مسلم ریاستوں کے درمیان اعتمادسازی کے عمل کو فروغ دینا ازحد اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان خود بھی ایک داخلی جنگ کا سامنا کر رہا ہے لیکن وہ عالمی جنگ کو رکوانے کے لیے پُل کا کردار بھی ادا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان کا سفارتی کردار اس وقت دنیا میں نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ امید ہے کہ پاکستان کو اپنی کوششوں میں جلد کامیابی حاصل ہوگی۔