حماس نے غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے اور انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق حماس کی قیادت کی جانب سے اس فیصلے کا اعلان غزہ امن معاہدے کے مطابق غزہ کے لیے فلسطینی قومی ٹیکنوکریٹک حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حماس ترجمان کے مطابق حماس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے، معاہدے کے ضامن ممالک اور امریکی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کرائیں، ثالث قومی کمیٹی کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دلوانے کے لیے فریقین پر زور ڈالیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس کے اس اقدام کا مقصد جاری نسل کشی، تعمیر نو میں تاخیر، محاصرے کے تسلسل، سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور قابض اسرائیل کے غزہ سے انخلا نہ کرنے کے نتیجے میں شہریوں کو درپیش شدید تکالیف کو کم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ حماس نے 2007ء میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مسلح تصادم کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تب سے وہ اس علاقے کی سِوِل انتظامیہ چلا رہی تھی۔ موجودہ فیصلہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد جاری سیاسی مذاکرات اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ غزہ میں تقریبا دو دہائیوں بعد ایک بڑی سیاسی تبدیلی ہوگی تاہم اس کا انحصار نئی فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل، اسرائیل کے ردعمل اور جاری امن مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ عالمی مبصرین کے مطابق فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس نے غزہ کا انتظامی کنٹرول چھوڑنے کا اعلان کرکے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں غزہ میں قیام امن کے لیے کیے گئے سمجھوتے کو آگے بڑھانے کی جانب پیشرفت کی ہے اور اس تاثر کی نفی کرنے کی کوشش کی ہے کہ حماس مشرق وسطی میں پائے دار امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔حماس نے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب قابض و ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے قاتل اور جنگی مجرم وزیر اعظم نیتن یاھو کی جانب سے حماس پر غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایک بار پھر غزہ پر چڑھائی کرنے اور غزہ کی پٹی پر مکمل قبضے کرنے کی دھمکیاں دی جارہی تھیں۔
عالمی میڈیا کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق نیتن یاہو کو اس وقت اپنی سیاسی بقا کا مسئلہ درپیش ہے اور وہ اسرائیل میں چند ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات میں شکست سے بچنے کے لیے خطے میں ایک بار پھر جنگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا وقت مانگا ہے اور تجزیہ نگاروں کے مطابق وہ صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ایک بار پھر کارروائی کرنے اور غزہ پر دوبارہ چڑھائی کرنے کی اجازت دینے کے لیے قائل کرنا چاہتے ہیں۔نیتن یاھو حکومت نے حماس کی موجودگی کو جواز بناکر غزہ میں ہدفی قتل و غارت کا سلسلہ پہلے سے جاری رکھا ہوا ہے، وہاں اس وقت بھی روزانہ کی بنیاد پر درجنوں بے گناہ فلسطینی شہید کیے جارہے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق حالیہ عرصے میں غزہ پر اسرائیلی پابندیاں مزید سخت ہو چکی ہیں، جس کے باعث طبی سامان کی شدید قلت برقرار ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2025 سے اب تک 1,072 افراد شہید اور 3,463 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں شہداء کی مجموعی تعداد 73,098 اور زخمیوں کی تعداد 173,571 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملبے سے شہداء کے جسد خاکی نکالنے جانے کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوسکا۔ غزہ شہر میں پیر کے روز بھی شہری دفاع کی ٹیموں نے نسل کشی کی جاری جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی جانب سے تباہ کیے گئے ایک گھر کے ملبے تلے سے 8 شہداء کی باقیات نکال لی ہیں۔ علاوہ ازیں مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے کھلی ریاستی دہشت گردی بھی اپنے عروج پر ہے جس میں شہروں، قصبوں اور کیمپوں پر بار بار چھاپے مارنا، فائرنگ کرنا اور گرفتاریاں کرنا شامل ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد شہید اور زخمی ہو رہی ہے۔
ان حالات میں حماس نے غزہ کا انتظامی کنٹرول چھوڑنے کا اعلان کرکے عالمی برادری کو فلسطین کے سلگتے ہوئے قضیے کے حل کی جانب متوجہ ہونے کی دعوت دی ہے۔جن عالمی قوتوں کو فلسطینیوں سے ہمدردی ہونے کے باوجود غزہ میں حماس کی عمل داری قبول نہیں تھی ،ان کو اب بین الاقوامی حمایت یافتہ نئی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل شروع کرنے میںپس و پیش نہیں کرنا چاہیے۔ حماس نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی موجودگی میں فی الوقت غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے تاہم اگر بین الاقوامی برادری امن معاہدے کی روح کے مطابق اسرائیل کو غزہ کی پٹی چھوڑنے پر آمادہ کرلے اور فلسطینی عوام کو تحفظ کا احساس دلایا جائے تو حماس اپنے ہتھیار فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کرنے کا پیمان کرچکی ہے۔اس لیے اب امن معاہدے کے ثالث ممالک کو غزہ میں پائے دار امن کے قیام اور فلسطینیوں کو صہیونی بھیڑیوں سے تحفظ دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
مافیاؤں کے سامنے حکومت کی بے بسی؟
وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ تیل کی قیمتوں میں معقول کمی کے باوجود ملک بھر میں اشیاء صرف کی قیمتوں میں کمی کی بجائے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے اور اطلاعات کے مطابق کراچی سمیت بعض شہروں میں آٹے کی فی کلو قیمت میں بیس سے تیس روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے روٹی مزیدمہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں میڈیا رپورٹ کے مطابق مارکیٹوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور بعض سبزیوں اور پھلوں کے نرخ تین سو سے چار سو روپے کلو تک پہنچادیے گئے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو یہ حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کی واضح اور کھلی ناکامی ہے۔تیل کی قیمتوں میں 75روپے لٹر تک کمی کے بعد بھی اگر عام استعمال کی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک پر عملاً مافیائوں کا راج قائم ہوچکا ہے اور حکومتی عمل داری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ یہ نہایت افسوس ناک اور شرم ناک صورت حال ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ارباب اختیار کو اپنی ذمے داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور ملک کے غریب عوام کو مہنگائی کے چنگل سے نکالنے کے لیے کچھ تو سرگرمی اور فعالیت دکھانی چاہیے۔

