ذرا تصور کیجیے انڈونیشیا سے مراکش تک، قازقستان سے نائیجیریا تک، دنیا بھر میں پھیلے پونے دو ارب سے زائد مسلمان۔ کیا ان سب کی حکومتیں، عدالتیں، اور ریاستی نظام محض اس ایک بنیاد پر باطل قرار پائیں گے کہ یہ سب ایک عالمی خلیفہ کے ماتحت نہیں؟ سوال سننے میں عجیب لگتا ہے، مگر یہی وہ مغالطہ ہے جسے آج کے فتنہ پرور خوارج ایک مسلمہ اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اسی خود ساختہ مفروضے کی بنیاد پر وہ موجودہ مسلم ریاستوں کی شرعی حیثیت کو سرے سے مسترد کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ائمہ اسلاف اور متاخرین کے اقوال کا سنجیدہ مطالعہ اس دعوے کی بنیاد ہی ہلا دیتا ہے۔ دنیا کی وسعت اور حالات کے جبر میں جب ایک سے زائد ریاستیں قائم ہو جائیں، جیسا کہ اسلامی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں تو فقہائے کرام نے اسے اضطراری حالت میں جائز قرار دیا ہے۔ ایسی صورت میں ہر خطے کا خودمختار حاکم اپنے دائرہ اختیار میں مرکزی خلیفہ کے قائم مقام ہی مانا جاتا ہے۔
سب سے پہلے تو شریعت کا ایک بنیادی اصول سمجھ لیں اور وہ یہ ہے کہ اختیار اور اضطرار، دونوں حالتوں کے احکام جدا جدا ہیں۔ امام ابن الوزیر اپنی معرکہ آرا کتاب العواصم والقواصم میں بیان کرتے ہیں:جو شخص عام حالات یعنی اختیار و رضا اور ناگزیر حالات یعنی اضطرار و مجبوری کے درمیان فرق نہیں کرتا، وہ عقل اور شریعت کے منقولہ احکام دونوں سے جاہل ہے۔ شرعی احکام کو ہمیشہ حالات کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے اور اضطراری حالات کو نظر انداز کر کے کوئی مروجہ حکم لگا دینا خود جہالت ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اپنے فتاوی میں اضطراری حالات میں بننے والی ریاستوں کا شرعی حکم واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
سنت طریقہ تو یہی ہے کہ مسلمانوں کا ایک ہی مرکزی امام ہو اور باقی سب اس کے نائب ہوں، لیکن اگر بالفرض امت کسی گروہ کی نافرمانی، یا باقی لوگوں کی کمزوری و عجز، یا کسی بھی دوسرے سبب سے اس نظام سے نکل جائے اور دنیا میں ایک سے زائد ائمہ و حکمران قائم ہو جائیں، تو ہر خطے کے حاکم پر واجب ہوگا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں حدود اللہ کو نافذ کرے اور عوام کے حقوق ادا کرے۔ غور کیجیے شیخ الاسلام نے ایک خلیفہ کو اصل سنت ضرور قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی طے کر دیا کہ جب امت اضطراری حالات کی وجہ سے متعدد ریاستوں میں بٹ جائے تو ہر خطے کا مقتدر حاکم اپنے دائرے میں شرعی ذمہ داریاں نبھائے گا۔ یعنی مثالی صورت اور اضطراری صورت دو الگ چیزیں ہیں اور انہیں گڈمڈ کرنا ہی وہ بنیادی غلطی ہے جس پر آج کی خارجی فکر کھڑی ہے۔
یمن کے جلیل القدر محدث و فقیہ، امام محمد بن سماعیل الصنعانی رحمہ اللہ اپنی شہر آفاق تصنیف سبل السلام میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی شرح کرتے ہیں جس میں حاکم کی اطاعت چھوڑنے اور جماعت سے جدا ہونے والے پر سخت وعید آئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ اطاعت سے نکلنے سے مراد ہے: اس سے مراد اس خلیفہ کی اطاعت ہے جس پر لوگوں کا اتفاق ہو چکا ہو، اور یہاں مراد کسی بھی خطے اور ملک کا خودمختار حاکم ہے، کیونکہ عباسی سلطنت کے وسطی دور سے ہی تمام مسلم ممالک کبھی ایک خلیفہ پر جمع نہیں ہوئے بلکہ ہر خطے کے لوگ اپنے الگ سربراہ کے ساتھ خودمختار ہو گئے۔ اگر ہم اس حدیث کا یہ مطلب لیں کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا ایک ہی خلیفہ ہونا ضروری ہے تو اس حدیث کا فائدہ ہی ختم ہو جائے گا۔ اور جماعت سے جدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے اتحاد سے نکل جائے جو اپنے خطے کے حاکم کی اطاعت پر متفق ہیں، جس حاکم کی وجہ سے ان کا نظام قائم ہے، ان کی طاقت متحد ہے اور وہ دشمنوں کے شر سے محفوظ ہیں۔ (سبل السلام)
امام صنعانی کی اس علمی تشریح سے ایک نہایت اہم حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے: اپنے ملکی نظام کے خلاف بغاوت کرنا، پرائیویٹ لشکر تشکیل دینا اور ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا دراصل اسی خطرناک جرم کا ارتکاب ہے جس پر حدیث میں جاہلیت کی موت کی وعید سنائی گئی ہے۔
یہ ایک ناقابلِ تردید تاریخی حقیقت ہے کہ خلافتِ عباسیہ کے دور سے لے کر آج تک، امت مسلمہ کے تمام خطے کبھی کسی ایک واحد عالمگیر حاکم کے تحت جمع نہیں رہے۔ عباسی خلافت کے ساتھ ساتھ اموی اندلس اور فاطمی مصر جیسی متوازی ریاستیں موجود رہیں، اور اس طویل تاریخی تسلسل میں فقہائے امت نے کبھی یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ شرعی احکام، عدالتی نظام اور حدود کا نفاذ صرف ایک عالمی خلیفہ کے وجود پر موقوف ہے۔ ائمہ نے نہ صرف متعدد حکمرانوں کو جائز کہا، بلکہ خود ان کے اپنے دور میں ایسی متوازی حکومتیں قائم تھیں اور کسی ایک معتبر امام نے انہیں غیر شرعی نہیں کہا۔
اگر ایک عالمی خلیفہ کا نہ ہونا تمام حکومتوں کو غیر شرعی بنا دیتا، تو پھر عباسی خلافت کے آخری کئی سو سال، اندلس کی اسلامی سلطنتیں، ممالیکِ مصر، عثمانی سلطنت اور برصغیر کی اکثر مسلم حکومتوں کی شرعی حیثیت بھی محلِ نظر بن جاتی حالانکہ امت کے کسی معتبر امام نے کبھی ایسا موقف اختیار نہیں کیا۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آنا فطری ہے: اگر خلافتِ واحدہ ہی اصل سنت اور مثالی صورت ہے، تو کیا اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کی طرف بلانا غلط ہے؟ ہرگز نہیں۔ خود ائمہ اسلاف نے وحدتِ امت کو پسندیدہ اور بہتر صورت قرار دیا ہے۔ فرق صرف یہاں ہے: کیا موجودہ حالات میں، جہاں دنیا سینکڑوں خودمختار اکائیوں میں بٹی ہوئی ہے، مسلح بغاوت اور نجی لشکروں کے ذریعے اس مثالی صورت کو زبردستی نافذ کرنا شرعا درست ہے؟ ائمہ کے اقوال کا واضح جواب یہی ہے کہ نہیں۔ وحدت کی خواہش اور اس کی دعوت الگ چیز ہے، اور موجودہ مقتدر ریاستوں کے خلاف تشدد اور بغاوت کے ذریعے اسے مسلط کرنے کی کوشش بالکل الگ اور یہی وہ فرق ہے جسے خارجی فکر کے حاملین ملحوظ نہیں رکھتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کسی حاکم کی اطاعت واجب ہونے کی بنیاد کیا ہے؟ شریعتِ اسلامیہ نے اس کے لیے دو بنیادی اصول مقرر کیے ہیں:1۔تمکین: یعنی کسی علاقے پر حاکم کی حقیقی انتظامی گرفت اور عملی اقتدار۔ 2۔ حفظِ نظام: یعنی معاشرے کو انتشار، لاقانونیت اور انارکی سے بچانے کی مادی صلاحیت۔ آج کے مسلم ممالک میں حدود و تعزیرات کا عدالتی نظام، داخلی امن و امان، سرحدوں کی حفاظت، عیدین و جمعہ کا اجتماعی انعقاد اور شعائرِ اسلام کی ادائی یہ سب اسی قائم شدہ ریاستی نظم ہی کی بدولت ممکن ہے۔ جس دن یہ نظم ٹوٹتا ہے، یہی سہولتیں بھی ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ امام الشوکانی کی مفصل گفتگو سے یہی سبق ملتا ہے کہ موجودہ مسلم ریاستوں کے نظم کو چیلنج کرنا شریعت کے مقاصد اور عقلِ سلیم دونوں کے منافی ہے۔ موجودہ مسلم حکمران اپنے اپنے دائرے میں وہی شرعی مقتدر حاکم ہیں جن کی اجازت کے بغیر جہاد کا اعلان کرنا خارجیت، قانون شکنی اور فساد فی الارض کے سوا کچھ نہیں۔
جب تاریخ اور فقہ دونوں کے متفقہ فیصلے سے یہ بات ثابت ہو چکی کہ چودہ سو سالہ تاریخ کے بڑے حصے میں امت کا مختلف خودمختار ملکوں میں بٹ جانا اور ہر خطے کے حاکم کا آزادانہ اقتدار قائم کرنا شرعا جائز اور مسلمہ رہا ہے، تو موجودہ مسلم ممالک بھی اسی تسلسل کی کڑی ہیں۔ ان کے سربراہان اپنے اپنے جغرافیائی دائرے میں وہی شرعی حیثیت اور حقوق رکھتے ہیں جو ماضی کے سلاطینِ متغلب کو حاصل تھے خواہ ان کے اقتدار میں آنے کا طریقہ کچھ بھی رہا ہو، یا ان کے انتظامی نظام میں بشری خامیاں ہی کیوں نہ موجود ہوں اور اگر اس ضابطے کو تسلیم نہ کیا جائے تو نتیجہ کیا نکلے گا؟ عالم اسلام کا امن و امان اور اجتماعی نظامِ زندگی یکسر تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ جب ان ریاستوں کی شرعی حیثیت ثابت ہو گئی تو لازما ان کے ریاستی اختیارات امن و امان، عدالتی نظام، اور اجتماعی جہاد جیسے معاملات میں فیصلہ سازی بھی معتبر ٹھہریں گے، لہٰذا ان قائم شدہ مسلم حکومتوں کے نظم کو چیلنج کرنا، پرائیویٹ لشکر بنانا، یا جہاد و تکفیر کے نام پر مسلح مہم جوئی کرنا، اسلام کے سیاسی نظام کے خلاف صریح بغاوت اور خروج ہے، جسے شریعت نے بدعت اور حرام قرار دیا ہے۔
معاصر مسلم دنیا میں امن و استحکام کا واحد راستہ یہی ہے کہ ان مقتدر ریاستوں کی شرعی حیثیت کو تسلیم کیا جائے اور ان کے قوانین کی پاسداری کی جائے۔ کیونکہ ان کے نظم کو کمزور کرنا مسلمانوں کو ایک ایسے ہولناک فتنے اور انارکی میں دھکیلنا ہے جس کا فائدہ آخرکار صرف اسلام کے دشمنوں کو ہی پہنچتا ہے۔ اور یہی وہ سبق ہے جو ائمہ اسلاف کی صدیوں پرانی بصیرت آج بھی ہمیں دے رہی ہے بس سننے والے کان چاہئیں۔

