رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس میں اس بار توجہ صرف دفاعی بجٹ، یوکرین، روس یا مشرق وسطیٰ کے مسائل پر مرکوز نہیں رہی بلکہ ترکیہ کی برق رفتار دفاعی ترقی بھی عالمی رہنماوں کے لیے غیر معمولی دلچسپی کا مرکز بنی۔
اجلاس کے موقع پر ترکیہ نے اپنی جدید دفاعی صنعت کی متعدد کامیابیاں بھی نیٹو رہنماوں کے سامنے پیش کیں۔ ترک ساختہ جدید ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، بکتر بند گاڑیاں، جنگی بحری پلیٹ فارم، جدید میزائل ٹیکنالوجی اور مقامی دفاعی سازوسامان نے غیر ملکی وفود کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ جس تیزی سے دفاعی میدان میں خود کفالت کی منزلیں طے کر چکا ہے وہ نیٹو کے پرانے رکن ممالک کے لیے بھی حیرت کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکیہ صرف اسلحہ درآمد کرنے والا ملک نہیں بلکہ دنیا کے نمایاں دفاعی برآمد کنندگان میں شمار ہونے لگا ہے۔ اسی دفاعی خوداعتمادی کا ایک منفرد اظہار اس وقت دیکھنے میں آیا جب صدر رجب طیب اردگان نے اجلاس کے اختتام پر تمام سربراہانِ مملکت و حکومت کو ایک غیرمعمولی تحفہ پیش کیا، جس نے یورپی دارالحکومتوں میں قانونی، سفارتی اور سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ تحفہ کوئی روایتی یادگاری شیلڈ، قالین یا تاریخی نوادر نہیں بلکہ ترک ساختہ ریوالور/ پستول تھا جس پر ہر رہنما کا نام خصوصی طور پر کندہ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ 500 گولیاں، صفائی کا مکمل سیٹ اور ترک صدر کی جانب سے دستخط شدہ سرکاری دستاویز بھی دی گئی، جس کے ذریعے اسلحے کو ترک برآمدی پابندیوں سے استثنا حاصل تھا تاکہ مہمان اسے اپنے ملک لے جاسکیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے لندن واپسی کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ صدر اردگان نے ہر رہنما کو اس کے نام سے مزین ذاتی پستول پیش کیا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ برطانیہ کے سخت اسلحہ قوانین کی وجہ سے وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکے۔ برطانوی قانون کے مطابق عام افراد کے لیے ہینڈ گن کی درآمد اور ملکیت پر انتہائی سخت پابندیاں عائد ہیں جو 1996ء میں ڈنبلین کے المناک اسکول قتل عام کے بعد نافذ کی گئی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹارمر کو یہ پستول ترکیہ میں ہی برطانوی سفارت خانے کے حوالے کرنا پڑا جہاں اسے قانونی کارروائی مکمل ہونے تک محفوظ رکھا گیا ہے۔

برطانیہ واحد ملک نہیں تھا جسے اس غیرمعمولی تحفے نے مشکل میں ڈالا۔ بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور اس وقت حیران رہ گئے جب برسلز پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ ان کے سامان میں ایک ریوالور اور گولیاں موجود ہیں۔ بعدازاں اسے فوراً ہوائی اڈے کی پولیس کے حوالے کردیا گیا تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جاسکیں۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی پستول تو اپنے ساتھ لے گئے تاہم انہوں نے گولیاں ترکیہ ہی میں چھوڑ دیں۔ جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرٹس نے بھی پستول اپنے ساتھ لے جانے کے بجائے انقرہ میں جرمن سفارت خانے کے سپرد کردیا تاکہ جرمن قوانین کے مطابق اس کی درآمد کی کارروائی مکمل کی جاسکے۔ پولینڈ کے صدر کارول ناوروتسکی کے لیے مختص ریوالور بھی فوری طور پر پولینڈ منتقل نہ ہوسکا اور وہ کسٹم کلیئرنس مکمل ہونے کا منتظر ہے۔ ان کے معاون نے واضح کیا کہ اس ہتھیار کو بطور یادگار محفوظ رکھا جائے گا، اسے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ہالینڈ اور سویڈن نے بھی محتاط رویہ اختیار کیا۔ دونوں ممالک نے تحفہ اپنے سفارت خانوں میں جمع کرا دیا۔ ڈچ حکومت نے فیصلہ کیا کہ پستول کو مستقل طور پر ناکارہ (Deactivated) بنا دیا جائے گا جبکہ سویڈن میں اس کی درآمد کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کو بھی یہی تحفہ ملا۔ ارسلا فان ڈیر لیین کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے صدر اردگان کا شکریہ ادا کیا تاہم فیصلہ کیا ہے کہ قانونی کارروائی کے بعد پستول کو ناکارہ بنا کر کسی فوجی عجائب گھر کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسی طرح اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسے سرکاری تحائف کے ذخیرے میں جمع کرانے کا اعلان کیا جبکہ یونانی وزیراعظم کیریاکوس مٹسوتاکیس اسے ایتھنز کے جنگی عجائب گھر کو عطیہ کریں گے۔
یہ ریوالور بھی عام ہتھیار نہیں تھا۔ یہ ترک اسلحہ ساز ادارے ایم کے ای (MKE) کا تیار کردہ ”گوموشائے 357 میگنم“ ماڈل تھا جسے ترکیہ میں تیار ہونے والے اولین مقامی ریوالورز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے ایک نفیس لکڑی کے ڈبے میں رکھا گیا تھا جس پر ترکیہ کا پرچم اور نیٹو کا نشان ثبت تھا جبکہ اندر نصب تختی پر ترکیہ اور انگریزی زبان میں درج تھا: ”گوموشائے۔ ہمارے ملک میں تیار ہونے والا پہلا ریوالور۔“ ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کے دفتر نے بھی تصدیق کی کہ اجلاس میں شریک تمام رہنماوں کو یہی ماڈل پیش کیا گیا اور ہر پستول پر وصول کنندہ کا نام الگ الگ کندہ کیا گیا تھا جس سے ہر تحفہ منفرد حیثیت اختیار کر گیا۔
مزید پڑھیں: وہ 22 کشمیری مسلمان جنہوں نے جان پر کھیل کر اذان کی تکمیل کی
ترک حکومت نے اس ماڈل کا انتخاب محض ایک قیمتی تحفہ دینے کے لیے نہیں کیا بلکہ اس کے ذریعے اپنی دفاعی صنعت کی تاریخ، خودانحصاری اور تکنیکی صلاحیت کا پیغام بھی دیا۔ ہر پستول پر متعلقہ رہنما کا نام کندہ کرنا اس تحفے کو مزید منفرد بنارہا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق صدر اردگان نے اس علامتی اقدام کے ذریعے مغربی اتحادیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ ترکیہ اب صرف اسلحہ خریدنے والا ملک نہیں بلکہ دنیا کی نمایاں دفاعی طاقتوں میں شامل ہوچکا ہے۔ گزشتہ برسوں میں ترک ڈرونز، میزائل، جنگی بحری جہاز، بکتربند گاڑیاں اور دیگر دفاعی مصنوعات یورپ، ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی متعدد منڈیوں تک پہنچ چکی ہیں۔ جنیوا میں قائم اسمال آرمز سروے کے مطابق 2019ءسے 2024ءکے درمیان چھوٹے ہتھیاروں کی برآمدات میں ترکیہ دنیا کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ رہا جو اس شعبے میں اس کی غیرمعمولی پیش رفت کا واضح ثبوت ہے۔ یہ تحفہ ایسے وقت دیا گیا جب نیٹو اجلاس میں دفاعی اخراجات میں اضافے، یوکرین کی جنگ، یورپی سلامتی، روس کے خطرات اور رکن ممالک کے عسکری تعاون جیسے اہم معاملات زیر بحث تھے۔ اس تناظر میں ترک ساختہ ریوالور صرف ایک یادگاری تحفہ نہیں بلکہ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عسکری خوداعتمادی، دفاعی صنعت کی کامیابی اور عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو اجاگر کرنے کا ایک علامتی اظہار بھی بن گیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس تحفے کا مقصد دوستی، احترام اور شراکت داری کا اظہار تھا وہی یورپ کے متعدد ممالک میں اسلحہ قوانین، کسٹم ضوابط اور سرکاری تحائف کے قواعد کے باعث ایک قانونی معمہ بن گیا۔ بعض رہنماوں نے اسے سفارت خانوں کے حوالے کیا، بعض نے عجائب گھروں کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا اور کچھ اسے سرکاری ذخیرہ تحائف میں محفوظ کر رہے ہیں۔ یوں صدر اردگان کی یہ منفرد سفارتی پیشکش نہ صرف نیٹو سربراہی اجلاس کی سب سے غیرمعمولی یادگار ثابت ہوئی بلکہ اس نے ایک بار پھر یہ پیغام بھی دیا کہ ترکیہ اب صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ دفاعی صنعت کے میدان میں عالمی سطح پر اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے۔

