گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی آم کی آمد ہر گھر میں خوشی لے آتی ہے۔ چونسہ، لنگڑا، سندھڑی اور انور رٹول جیسے لذیذ آم دستر خوان کی رونق بن جاتے ہیں، اور اکثر گھروں میں ایک عام روایت یہ بھی دیکھی جاتی ہے کہ آم کھانے سے پہلے انہیں کچھ دیر پانی میں بھگو کر رکھا جاتا ہے۔ یہ عمل برسوں سے جاری ہے، مگر سوال یہ ہے کہ آیا اس کے واقعی کوئی سائنسی فوائد ہیں یا یہ صرف ایک روایتی طریقہ ہے؟
آم نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ غذائیت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہم پھل ہے۔ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر، پوٹاشیم اور طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں جو قوتِ مدافعت بڑھانے، آنکھوں کی صحت بہتر بنانے اور جسمانی کمزوری دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ شدید گرمی میں آم کو ٹھنڈے پانی میں بھگو دینے سے اس کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، جس سے اسے کھانے پر فوری تازگی کا احساس بھی ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آم کو پانی میں بھگونے سے اس کی ’’گرمی‘‘ کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں کیل مہاسے، نکسیر یا ہاضمے کے مسائل سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ماہرینِ صحت اور غذائیت اس تصور کو سائنسی طور پر درست قرار نہیں دیتے۔
ماہرین کے مطابق آم کو پانی میں بھگونے سے اس کی غذائی قدر، وٹامنز یا قدرتی مٹھاس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ انسانی جسم میں گرمی یا ہاضمے کی کیفیت کا تعلق زیادہ تر مجموعی خوراک، پانی کے استعمال اور طرزِ زندگی سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک پھل کو بھگونے سے۔
ماہرین اس عمل کا اصل اور اہم فائدہ صفائی اور حفظانِ صحت سے جوڑتے ہیں۔ آم باغات سے توڑنے کے بعد مختلف مراحل، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ اندوزی سے گزرتا ہے، جس دوران اس پر دھول، مٹی اور مختلف جراثیم جمع ہو سکتے ہیں۔ پانی میں بھگونے سے ان آلودگیوں کو بڑی حد تک صاف کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اس کے علاوہ آم کے چھلکے پر موجود قدرتی رس یا چپکنے والا مادہ (لیٹیکس) بعض حساس افراد میں الرجی، گلے کی خراش یا کھانسی کا باعث بن سکتا ہے۔ پانی میں بھگونے سے یہ مادہ بھی صاف ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی کیڑے مار ادویات کے ممکنہ اثرات کو بھی کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین اس تصور کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں کہ آم کو بھگونے سے اس کی ’’گرمی‘‘ ختم ہوجاتی ہے یا یہ جلدی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے کوئی مضبوط سائنسی ثبوت موجود نہیں، اور جسمانی اثرات کا انحصار فرد کی مجموعی غذائی عادات پر ہوتا ہے۔
ماہرین مزید وضاحت کرتے ہیں کہ آم کو بھگونے سے اس کی غذائی خصوصیات متاثر نہیں ہوتیں۔ وٹامن اے، وٹامن سی، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس اپنی اصل حالت میں برقرار رہتے ہیں، چاہے آم کو بھگو کر کھایا جائے یا صرف اچھی طرح دھو کر استعمال کیا جائے۔
صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ آم کھانے سے پہلے اسے بہتے ہوئے صاف پانی سے اچھی طرح دھونا بنیادی اور کافی احتیاط ہے۔ البتہ جن افراد کو لیٹیکس سے حساسیت ہو یا اضافی صفائی کو ترجیح دیتے ہوں، ان کے لیے آم کو کچھ دیر پانی میں بھگونا ایک بہتر حفظانِ صحت اقدام ہو سکتا ہے، تاہم اسے لازمی طبی ضرورت نہیں سمجھنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق اعتدال میں رہ کر آم کا استعمال، مناسب صفائی اور پانی کی مناسب مقدار کا استعمال ہی گرمیوں میں اس لذیذ پھل سے صحت مند اور محفوظ لطف اٹھانے کا بہترین طریقہ ہے۔

