اسرائیلی وزیراعظم اور نقشوں کی سیاست

رپورٹ: علی ہلال
اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو گزشتہ کئی برسوں سے اپنی تقاریر میں نقشوں کو ایک موثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ، امریکی کانگریس اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں ان کی جانب سے پیش کیے گئے نقشے محض جغرافیائی خاکے نہیں ہوتے بلکہ ایک مکمل سیاسی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں، جس کے ذریعے وہ مشرقِ وسطیٰ کو اسرائیلی نقطہ نظر سے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سنہ 2024ءمیں اپنی ایک تقریر کے دوران نیتن یاہو نے دو نقشے دکھاتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ مستقبل ’امن و خوشحالی‘ کا ہوگا یا ’ایران اور اس کے اتحادیوں کی تباہی‘ کا۔ اس انداز نے واضح کیا کہ وہ نقشوں کو صرف معلوماتی ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی اور سیاسی اثر پیدا کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نیتن یاہو کے نقشے بظاہر سادہ دکھائی دیتے ہیں جہاں ممالک کو مختلف رنگوں کے ذریعے ”دوست“ اور ”دشمن“ میں تقسیم کیا جاتا ہے، لیکن ان کے پیچھے گہرا سیاسی مقصد موجود ہوتا ہے۔ یہ نقشے ایک طرف عوامی رائے ہموار کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف اسرائیل کے اتحادیوں اور مخالفین کو مخصوص پیغامات بھی دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 

امریکا اور ایران کے درمیان ڈیل کیوں نہیں ہو پا رہی؟

نقشہ صہیونی تحریک کے آغاز ہی سے ایک بنیادی علامت رہا ہے۔ برطانوی استعمار کے دور میں ’ارضِ اسرائیل‘ کے نقشے صہیونی پوسٹروں، ٹکٹوں اور چندہ جمع کرنے والے ’نیلے صندوق‘ پر نمایاں کیے جاتے تھے۔ ان نقشوں کے ذریعے فلسطینی جغرافیہ کو نئے عبرانی نام دیے گئے اور عرب شناخت کو بتدریج مٹانے کی کوشش کی گئی۔اسرائیلی قیادت نے 1948ء کے بعد مقامات کے عربی نام تبدیل کرنے کی منظم مہم چلائی۔ اس پالیسی کا مقصد صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ زمین پر ’یہودی تاریخی حق‘ کو مضبوط بنانا تھا۔ اسرائیل کے پہلے وزیرِاعظم بن گوریان نے یہاں تک کہا تھا کہ عربی ناموں کو ختم کرنا ریاستی ضرورت ہے۔
مشرق وسطیٰ کے اُمور کے بھارتی ماہر سنکر کرشنا کے مضمون ’نقشاتی بے چینی‘ کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی تاریخ اور جغرافیہ سے متعلق دستاویزات اور نقشوں کو ہمیشہ حساس معاملہ سمجھا۔ لبنان پر حملے کے دوران اسرائیلی فوج نے فلسطینی تحقیقی مرکز پر قبضہ کیا جہاں فلسطینی دیہات، زمینوں اور تاریخی وجود سے متعلق اہم ریکارڈ محفوظ تھا۔ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے دیواروں پر لکھا گیا جملہ ’فلسطینی؟ یہ کیا ہے؟‘ اس ذہنیت کی علامت قرار دیا گیا۔نیتن یاہو نے ستمبر 2023ء میں اقوامِ متحدہ میں ’نیا مشرقِ وسطیٰ‘ کا نقشہ پیش کیا تھا جس میں اسرائیل کو خطے کے اقتصادی اور تجارتی مرکز کے طور پر دکھایا گیا۔ اس نقشے میں غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی القدس کو مکمل طور پر اسرائیل کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ خلیجی ممالک اور عرب ریاستوں کو سبز رنگ میں’امن کے دائرے‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔بعدازاں 2024ء اور 2026ء میں انہوں نے ’نعمت اور لعنت‘ کے نام سے مزید نقشے دکھائے، جن میں ایران، شام، عراق، یمن اور لبنان کو خطرے کے محور کے طور پر رنگا گیا۔ ناقدین کے مطابق ان نقشوں کا مقصد اسرائیلی جنگی پالیسیوں اور علاقائی اتحادوں کو جائز ثابت کرنا تھا۔

مبصرین کے مطابق نیتن یاہو نقشوں کو ایک موثر سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں

تحریر کے مطابق جدید سیاسیات میں نقشہ غیرجانبدار حقیقت نہیں بلکہ ایک ’ابلاغی ہتھیار‘ سمجھا جاتا ہے۔ جغرافیائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر نقشہ دراصل ایک مخصوص نقطہ نظر کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ نقشہ بنانے والا خود فیصلہ کرتا ہے کہ کیا دکھانا ہے اور کیا چھپانا ہے۔اسی تناظر میں نیتن یاہو کے نقشوں کو بھی محض جغرافیہ نہیں بلکہ سیاسی نفسیات، طاقت کے اظہار اور بیانیہ سازی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ مضمون کے مطابق ان نقشوں کے ذریعے اسرائیل خطے کی نئی شکل متعین کرنے اور اپنی بالادستی کے تصور کو عالمی سطح پر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔مشرق وسطیٰ کے اُمور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم کے سیاسی اور سکیورٹی بیانیے میں بار بار سامنے آنے والے نقشے دراصل اُس تصور کی عکاسی کرتے ہیں جسے برطانوی جغرافیہ دان ڈیرک گریگوری اور بھارتی محقق سنکرن کرشنا نے 1994ء میں ’نقشاتی بے چینی‘ یا’ Anxiety Cartographic ‘کا نام دیا تھا۔ سنکرن کرشنا کے مطابق نقشہ صرف سرحدیں کھینچنے کا عمل نہیں بلکہ ان سرحدوں کو طاقت، جبر اور مسلسل سیاسی عمل کے ذریعے حقیقت میں تبدیل کرنے کی کوشش بھی ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ نظریہ بھارت کے تناظر میں پیش کیا تھا تاہم مضمون کے مطابق اسرائیلی ریاست اور خاص طور پر نیتن یاہو کی سیاست کو سمجھنے کے لیے بھی یہ تصور انتہائی موزوں دکھائی دیتا ہے۔تحریر میں کہا گیا ہے کہ نوآبادیاتی دور کے بعد وجود میں آنے والی ریاستیں اکثر غیرواضح سرحدوں، متنازع شناخت اور عدمِ تحفظ کے احساس کے ساتھ جنم لیتی ہیں۔ یہی کیفیت اسرائیل میں بھی دکھائی دیتی ہے جہاں نقشے ریاستی خوف، جغرافیائی اضطراب اور مستقل خطرات کے احساس کی علامت بن جاتے ہیں۔
مصنف کے مطابق نیتن یاہو کے نقشے دراصل اس کوشش کی نمائندگی کرتے ہیں جس کے ذریعے اسرائیل اپنی سرحدوں، سلامتی اور تاریخی جواز کو بار بار ثابت کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہو اپنی تقاریر میں مسلسل ایسے نقشے پیش کرتے ہیں جن میں اسرائیلی سکیورٹی دائرہ وسیع سے وسیع تر دکھایا جاتا ہے۔مضمون میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کے سیاسی بیانیے میں ایک مستقل خواہش موجود ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی تصور میں جوڑ دیا جائے۔ اس کے تحت اسرائیل کی سلامتی کو صرف موجودہ سرحدوں تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ ہر اُس علاقے تک پھیلایا جاتا ہے جسے اسرائیلی قیادت’اسٹریٹیجک گہرائی‘ قرار دیتی ہے۔تحریر کے مطابق یہ کیفیت دراصل اُس تاریخی اصل کی تلاش سے جڑی ہے جسے اسرائیلی دائیں بازو کی سیاست بار بار ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے حالانکہ ناقدین کے مطابق یہ تصور زمینی حقیقت سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا۔مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی نقشہ حتمی نہیں ہوتا۔ جب ایک طاقت اپنی مرضی کا جغرافیہ مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے مقابل ایک دوسرا، متبادل نقشہ بھی سامنے آ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی اور دیگر ناقد حلقے اسرائیلی نقشوں کے مقابل اپنی متبادل جغرافیائی اور تاریخی روایات پیش کرتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: 

غزل گوئی کا سنہرا عہد تمام ہوا

جغرافیہ کی محقق ایڈا اوزیشیلبنار کے حوالے سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ تاریخ میں نقشے نوآبادیاتی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال ہوتے رہے، لیکن بعد میں انہی نقشوں کو مزاحمت اور متبادل بیانیے کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ اس طرح نقشہ صرف جغرافیہ نہیں بلکہ طاقت، یادداشت اور شناخت کی جنگ کا میدان بن جاتا ہے۔تحریر کے مطابق ستمبر 2023ء میں نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ میں ’نئے مشرقِ وسطیٰ‘ کا نقشہ پیش کیا تھا جس میں اسرائیل کو خطے کے مرکزی معاشی اور تجارتی محور کے طور پر دکھایا گیا۔ تاہم صرف ایک ماہ بعد 7 اکتوبر کے واقعات نے اس پورے منصوبے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے نہ صرف اسرائیلی سلامتی کے تصور کو چیلنج کیا بلکہ سعودی عرب سمیت کئی علاقائی منصوبوں کے مستقبل کو بھی غیریقینی بنا دیا۔
مصنف کے مطابق بڑی طاقتیں اور نقشے بنانے والے اکثر ایک اہم حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے عوام کی مزاحمت۔ تحریر کے اختتام میں محقق اسامہ مقدیشی کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جن کے مطابق تاریخ صرف طاقتوروں کی سازشوں اور منصوبوں کی کہانی نہیں ہوتی بلکہ اس بات کی بھی کہانی ہوتی ہے کہ کمزور سمجھے جانے والے لوگ ان منصوبوں کا کس طرح مقابلہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کوئی بھی سیاسی نقشہ ہمیشہ کے لیے حتمی ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ زمینی حقیقت، عوامی ردِعمل اور مزاحمت اکثر ان منصوبوں کو بدل دیتی ہے۔