غزل گوئی کا سنہرا عہد تمام ہوا

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے، اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
غزل کی سچی کتاب مکمل ہو گئی۔ الفاظ کا جادو تھم گیا، زندگی میں قبر سے کم زمین ملنے کا شکوہ کرنے والے شاعر بشیر بدر 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
بشیر بدر جدید اردو غزل کے مقبول اور معتبر شاعر تھے۔ وہ تقریباً ایک دہائی صاحب فراش رہنے کے بعد آج بھوپال میں انتقال کرگئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بشیر بدر طویل عرصہ سے دماغ کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انہوں نے محبت، تنہائی، ہجرت اور انسانی جذبات کو اپنی شاعری میں سادگی کے ساتھ بیان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: 

اسکرینوں کے حصار میں قید خاندان

بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا۔ پوری دنیا کے ادبی حلقوں میں انتقال کی خبر کے بعد سوگ کی فضا چھاگئی ہے۔