کاکروچ جنتا پارٹی بھارت میں مزاحمت کی نئی آواز

عید سے تین چار دن پہلے ایک دوست کا فون آیا، آواز میں عجیب سی حیرت تھی۔ کہنے لگے، یار سنا ہے بھارت میں ایک نئی سیاسی جماعت بنی ہے اور اس کا نام ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ ہے؟ میں نے کہا جی ہاں اور صرف یہی نہیں، اس جماعت کے سوشل میڈیا فالورز ہفتے بھر میں بی جے پی سے بھی زیادہ ہوگئے۔ وہ ہنسا اور بولا: ‘اچھا تو اب وہاں کاکروچ بھی سیاست کریں گے’۔ میں نے کہا، بھائی! کاکروچ پہلے سے وہاں سیاست کر رہے ہیں، اب نوجوانوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ شامل ہو جائیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی یعنی سی جے پی کا قیام کسی دلچسپ کہانی سے کم نہیں۔ بھارتی نوجوانوں پر مشتمل یہ نوزائیدہ جماعت دراصل وہاں پر بی جے پی کی شدت پسندی ، بیڈ گورننس اور بے رحمانہ حکومتی رویے کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی آواز بن چکی ہے۔ اس سب کی ابتدا صرف دو ہفتے پہلے ہوئی۔ پندرہ مئی 2026ء کا کو ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نیریمارکس دیے: ‘بھارتی بے روزگار نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں، انہیں کوئی روزگار نہیں ملتا، کوئی جگہ نہیں، یہ پھر میڈیا بن جاتے ہیں، سوشل میڈیا بن جاتے ہیں، احتجاجی بن جاتے ہیں اور سب پر حملے شروع کردیتے ہیں’۔ بعد میں چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ وہ جعلی ڈگریوں والوں کی بات کر رہے تھے مگر جب ہاتھ سے تیر نکل جائے تو وضاحت بیکار ہوجاتی ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس اخبارات، نیوز ویب سائٹس پر نمایاں شائع ہوئے۔ اگلے ہی دن، سولہ مئی کو امریکا میں مقیم ایک انڈین نوجوان ابھیجیت دیپکے نے، جو مشہور امریکی بوسٹن یونیورسٹی سے پڑھا ہے، ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کا اعلان کر دیا۔

یہ نام واضح طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی پر طنز تھا۔ پارٹی کا نعرہ تھا: ‘کاہلوں اور بے روزگاروں کی آواز’۔ رکنیت کی شرائط میں بے روزگار ہونا، آن لائن رہنا اور ‘پیشہ ورانہ طور پر بڑبڑانے کی صلاحیت’ رکھنا شامل تھا۔ اگلے تین دنوں میں اس جماعت کے تیس لاکھ فالورز، پانچ دن میں ایک کروڑ اور بائیس مئی تک دو کروڑ سے تجاوز، یعنی بھارت کی کسی بھی سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا فالورز سے دوگنا۔ یہ محض ایک انٹرنیٹ مذاق نہیں تھا۔ اس کے پیچھے بھارتی نوجوانوں کا وہ جمع شدہ غصہ تھا جو برسوں سے اندر ہی اندر لاوے کی طرح کھول رہا تھا۔ بھارت سرکاری اعداد و شمار میں مجموعی بے روزگاری بہت گھٹا کر پیش کرتا ہے مگر اصل تصویر خوفناک ہے۔ مارچ 2026ء میں پندرہ سے انتیس سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری پندرہ اعشاریہ دو فیصد تک جا پہنچی جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح سترہ اعشاریہ سات فیصد اور نوجوان مردوں میں چودہ اعشاریہ تین فیصد رہی۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق بیس سے انتیس سال کے بے روزگاروں میں سے دو تہائی یعنی سڑسٹھ فیصد ڈگری یافتہ ہیں۔ سوچیں، پڑھ لکھ کر، سالوں لگا کر، گھر والوں کو تنگ کر کے ڈگری لو اور پھر بھی کام نہیں۔ ہر سال پچاس لاکھ نئے گریجویٹ میدان میں آتے ہیں مگر ملازمتیں صرف اٹھائیس لاکھ کے لیے ملتی ہیں۔ باقی بائیس لاکھ کہاں جائیں؟ کاکروچ جنتا پارٹی میں۔

مئی میں ایک اور واقعہ بھی ہوا جس نے پڑھے لکھے بھارتی نوجوانوں پر بڑا برا اثر ڈالا۔ وہاں میڈیکل کالجوں میں داخلوں کا امتحان نِیٹ نامی ادارہ لیتا ہے۔ یہ امتحان ستائیس لاکھ طالب علموں نے دیا تھا۔ بارہ مئی کو ہونے والا پیپر لیک ہوگیا اور یوں پورا امتحان ہی منسوخ ہوگیا۔ تحقیقات میں نکلا کہ سال 2025ء کا پیپر بھی اسی گروہ نے لیک کیا تھا۔ ان لاکھوں نوجوانوں نے سال دو سال سخت محنت کی ،نیندیں حرام کیں، اکیڈمی میں خوار ہوئے اور پھر صرف اس لیے سب ضائع کہ کسی نے پیسے لے کر پرچہ بیچ دیا۔ یہ غصہ کاکروچ جنتا پارٹی کی اصل بنیاد بنا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی غیرمعمولی پذیرائی اور مقبولیت نے بھارتی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ دراصل کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں کوشش کر رہی ہیں کہ کسی طرح یہ لاکھوں کروڑوں نوجوان ان کے ساتھ جڑ جائیں۔ یہ دیکھ کر حکمران جماعت بی جے پی بوکھلا گئی۔ بی جے پی نے وہی پرانا نسخہ آزمایا جو ہر آمرانہ ذہن اپنے عوام کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ اکیس مئی کو وزارت الیکٹرانکس نے انٹیلی جنس بیورو کی سفارش پر پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ بند کروا دیا، قومی سلامتی کے نام پر۔ پھر انسٹاگرام، پھر ویب سائٹ، سب بند۔ کیرالہ بی جے پی کے صدر راجیو چندر شیکھر نے فرمایا کہ یہ ‘سرحد پار اثراندازی کی کارروائی’ ہے، مودی حکومت کو گرانے کی سازش ہے۔ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے یہ کام بھی پاکستان پر تھوپ دیا۔ کہا گیا کہ ان میں زیادہ تر پاکستانی ہیں جبکہ صرف چند فیصد انڈین شہری ہیں۔ یہ بوگس اور بودا الزام مذاق جلد ہی پٹ گیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ قومی تحقیقاتی ادارے سے تفتیش ہونی چاہیے۔ یعنی طنزیہ میمز اور بے روزگار نوجوانوں کی آواز کو ‘غیرملکی سازش’ قرار دے دیا گیا۔

ابھیجیت دیپکے نے فوری نیا اکاؤنٹ بنا لیا، نام رکھا ‘کاکروچ از بیک’۔ پھر اس نے لکھا کہ واٹس ایپ پر جان سے مارنے کی دھمکیاں آرہی ہیں۔ دھمکی آمیز پیغامات میں لکھا تھا کہ یا بی جے پی میں شامل ہوجاؤ یا امریکا میں بھی ڈھونڈ لیں گے۔ اس پر اس نئی جماعت کے ہمدرد وکلا سپریم کورٹ میں معاملہ لے کر گئے مگر چیف جسٹس صاحب نے، جن کے الفاظ نے یہ سارا قضیہ شروع کیا تھا، اپنی عدالت میں ہنگامی سماعت کی درخواست رد کرتے ہوئے وکلا سے فرمایا: ‘اس معاملے کو اتنا جذباتی نہ لیں’۔ واہ، کیا کہنے! میرے جیسے بہت سے لوگ برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ نریندر مودی کے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنا ایک لطیفہ بن چکا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ یہ لطیفہ بھارتی نوجوانوں کی قیمت پر ہے۔

بی جے پی نے گزشتہ ایک دہائی میں ایک ایک ادارے کو اپنی مٹھی میں لے لیا ہے۔ میڈیا کا حال پہلے بگڑا، تمام بڑے میڈیا ہاوسز کمپرومائز کر چکے۔پھر بیوروکریسی، پھر الیکشن کمیشن کی آزادی پر سوال اٹھے، اور اب عدلیہ کا معاملہ سب سے زیادہ پریشان کن ہے۔ کرناٹک میں مسلمان بچیوں سے حجاب زبردستی اتروانے پر سپریم کورٹ نے دو ججوں میں منقسم فیصلہ دیا، کوئی حتمی راستہ نہ نکلا۔ یعنی جب ریاست ظلم کرے تو عدالت بھی ‘ابہام’ کا پناہ لے لیتی ہے۔ ویسٹ بنگال میں کئی ملین ووٹروں کو ووٹ سے محروم کیا گیا، اعلیٰ عدالتوں نے معمولی سا ریلیف بھی نہ دیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا معاملہ بھی وہی ہو رہا ہے۔ یعنی بھارتی نوجوان الیکشن کمیشن سے انصاف مانگ سکتے ہیں، نہ سپریم کورٹ سے، نہ میڈیا سے جو بی جے پی کا ترجمان بن چکا ہے، اور اب ایکس جیسے عالمی پلیٹ فارم سے بھی نہیں، کیونکہ بھارتی حکومت کے قانون کے تحت وہاں بھی خاموشی خریدی جا سکتی ہے۔یہ وہی حربہ ہے جو تاریخ میں ہر اس حکومت نے آزمایا جو عوام کی آواز سے ڈرنے لگی۔ بنگلادیش میں حسینہ واجد نے بھی طلبہ تحریک کو غیرملکی سازش کہا تھا، مگر وہی طلبہ انہیں اقتدار سے نکال کر ملک چھوڑنے پر مجبور کرگئے۔

ابھیجیت دپکے کے بارے میں یہ بتاتا چلوں کہ وہ بھارت کے پسماندہ ترین حصے یعنی نچلی ذات کے ہندو طبقے دلت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھیجیت پولیٹیکل ایکٹوسٹ رہے ہیں اور ماضی میں وہ عام آدمی پارٹی کے لئے کام کرتے رہے۔ تیس سال عمر ہے، مہاراشٹر کے رہنے والے ہیں،مئی میں انہوں نے اپنی شناخت دلت ظاہر کی تو بی جے پی کے حامیوں نے ان پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ ابھیجیت دپکے کی اصل خوبی یہ ہے کہ انہوں نے بھارتی نوجوان کی محرومیوں، تلخیوں اور سسٹم کے خلاف غصے کو آواز دی ہے۔ جب بالادست طاقتور طبقے کی جانب سے انہیں کاکروچ بطور گالی کہا گیا تو انہوں نے اس گالی کو اپنا تمغہ بنا لیا۔ یاد رہے کہ تاریخ میں ہر وہ لقب جو ظالم نے مظلوم کو تحقیر کے لیے دیا، وقت نے اسے عزت کی علامت بنا دیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا معاملہ بھی اسی فہرست میں جگہ بنا رہا ہے۔ابھیجیت دیپکے نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر انڈیا کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے: ‘کیسی جمہوریت ہے یہ؟’ یہ سوال اب صرف اس کا نہیں، دنیا کے ہر اس شخص کا ہے جو جانتا ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ کا نام نہیں، آواز اٹھانے کے حق کا نام بھی ہے۔ جس ملک میں بے روزگار نوجوان کی طنزیہ آواز کو قومی سلامتی کا خطرہ قرار دے دیا جائے، وہاں صرف جمہوریت نہیں، کچھ اور بھی مر رہا ہوتا ہے۔ اللہ کرے بھارتی نوجوانوں کی یہ آواز اس ملک کے ضمیر کو جگانے کا ذریعہ بنے۔ بی جے پی نے اس پارٹی کے سوشل میڈیا اکاونٹ بند کرا دیے۔ حکومت ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تو بلاک کر سکتی ہے لیکن بے روزگاری اور غصے کے اس لاوے کو بلاک کرنا مودی سرکار کے بس میں نہیں ہے۔ بی جے پی اور مودی جی کو سمجھنا ہوگا کہ کاکروچوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں مارنا بڑا مشکل ہوتا ہے، وہ ٹف سروائیور ہوتے ہیں۔

نتیجہ جو بھی نکلے مگر اس نوزائیدہ جماعت نے بہرحال انڈین ڈیموکریسی، سیکولرازم،فریڈم آف پریس وغیرہ جیسے دعوؤوں کی قلعی کھول دی ہے، بھارتی نام نہاد جمہوریت بری طرح ایکسپوز ہوگئی ہے۔ یہ بھی کسی بڑے کام سے کم نہیں۔