پانچویں قسط:
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے دانشوروں کو نہ ہی تاریخِ سائنس کا علم ہے اور نہ ہی فلسفہ سائنس کا علم۔ نیز اگر آج کل کی جدید سائنس و ٹیکنالوجی ہی آپ کا معیار ہے تو اس کے اندر بھی آپ جیسے لوگوں کا عالمی سطح پر کوئی مقام نہیں۔ جب آپ لوگوں کی سائنس و ٹیکنالوجی میں خود ہی استعداد نہیں ہے تو آپ پاکستان کے لوگوں کی رہنمائی کیسے کرسکیں گے؟ جب آپ کا ویژن ہی نہیں تو آپ مسلمانوں کو سائنس و ٹیکنالوجی میں کیسے ترقی دلاسکتے ہیں؟ بات سیدھی سے ہے، بادی النظر میں آپ کا مقصد یہی نظر آتا ہے کہ مدارسِ دینیہ کو ان کے اصل مقصد سے ہٹایا جائے اور انہیں دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کے عنوان سے سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف راغب کیا جائے اور پھر نتیجتاً ان مدارسِ دینیہ کا بھی خدانخواستہ وہی حال کیا جائے جو موجودہ عصری تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ہے کہ پاکستان کی کوئی ایک بھی یونیورسٹی بین الاقوامی رینکنگ میں دنیا کے بیس بہترین یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔
پھر آپ یہ کہتے ہیں کہ آج آپ مجھے بتائیے کہ کائنات کی تخلیق پہ غور و فکر کون کر رہا ہے؟ کائنات کی تخلیق کا غور و فکر جیمز ویب ٹیلیاسکوپ کر رہی ہے! جو باہر مدار میں یورپ اور امریکا کی اسپیس ایجنسیوں نے لانچ کی ہے۔ آج کائنات کی غور و فکر تخلیق پر ہبل ٹیلی اسکوپ کر رہی ہے۔ کسی مسلمان ملک کا اس کے قریب قریب گزر نہیں ہے۔ جب ہمارا گولڈن پیریڈ (سنہری دور) تھا تو اس وقت ہم اسپیس سائنسز کی تحقیق کا مرکز تھے۔ تمام آبزرویٹریز یا سمرقند و بخارا میں تھیں یا اندلس میں تھیں یا بغداد میں تھیں اور کانسٹیلیشن آف اسٹارز کی میپنگ تمام مسلمان سائنسدان کرتے تھے۔ تو یہ علم اور فکر پر ہم نے جب اس روایت کو چھوڑ دیا تو ہم تنزلی کا شکار ہوتے چلے گئے۔ ہم پہلے ہی عرض کرچکے ہیں کہ کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کا مقصد خدا کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہے۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ دنیا میں کتنے سائنسدان و محققین ہیں جو جدید سائنس کے تحت کائنات پر غوروفکر کرکے خدا کی یاد اور آخرت کی طرف متوجہ ہوئے؟ جدید سائنس و ٹیکنالوجی میں جو سائنسدان منہمک ہیں وہ تو خدا بیزار ہیں نعوذ باللہ۔ جدید سائنس کے تحت ان کا کائنات پر غوروفکر کچھ فائدہ مند ثابت نہیں ہورہا، حتی کہ جو مسلمان سائنسدان اور محققین ہیں، وہ بھی جدید سائنس کو پڑھ کر خدا بیزار ہوچکے ہیں الا ماشاء اللہ۔
جہاں تک مسلمانوں کے گولڈن پیریڈ (سنہری دور) کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے لیے سنہری دور حضورپاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا دور ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سب سے بہترین لوگ ہیں جن کی اقتدا کی جائے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سب سے بہترین لوگ وہ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں۔ قرنی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے لے کر دنیا سے پردہ فرمانے تک کا کل زمانہ مراد ہے، اس کے بعد اگلا زمانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور اس کے بعد تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خیر القرون سے مراد اسلام کے ابتدائی تین ادوار ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عہدِ مبارک، صحاب کرام رضی اللہ عنہم کا عہدِ مبارک اور تابعین کا زمانہ۔ وجہ یہ ہے کہ اس دور میں آخرت ہر رویے پر غالب تھی اور دنیا ان کی نگاہوں میں بے حقیقت تھی۔ وہ دنیا طلبی، لذات و آسائش کی تلاش میں سرگرداں نہیں تھے۔ (حوالہ: دارالافتا: جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
جب مسلمانوں کے گولڈن پیریڈ (سنہری دور) کا ذکر کیا جاتا ہے تو ماضی بعِید کے مسلمان سائنسدانوں کے نام گنوائے جاتے ہیں جن میں سرفہرست ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی، فخر الدین رازی، ابو نصر محمد بن محمد فارابی، ابن سینا، محمد بن موسی خوارزمی، امام غزالی، اور ابن خلدون جیسے قابلِ ذکر نام ہیں۔ ان میں زیادہ تر سائنسدان طب، فلکیات، طبیعات، کیمیا، فلسفہ، علم الکائنات (کونیات)، ما بعدالطبیعات، منطق، ریاضی اور جغرافیہ وغیرہ سائنسی علوم کے ماہر تھے اور ان میں سے کچھ کی دینی حیثیت بھی مسلم تھی جن میں امام غزالی کا نام قابلِ ذکر ہے۔ پھر ان ناموں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو ان جیسا بننا ہے اور نوجوان نسل کو اس کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اُصولی بات یہ ہے کہ پہلے ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا اللہ کی عبادت ہمارا مقصد ہے یا سائنس میں زندگی کھپانا؟ ہم لوگوں کے نزدیک کامیابی کیا ہے؟ مغربی سائنسی علوم کا حصول یا اللہ کی رضا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے نزدیک کامیابی کا معیار کیا تھا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں کتنے صحابہ سائنسدان تھے؟ صحابہ کرام میں سے کتنے صحابہ کرام نے دیگر اقوامِ عالم کی زبانیں سیکھیں؟ پھر اس بات پر بھی غور کیا جائے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے علوم کا حصول اور اس میں ترقی کرنا علمائے کرام اور مدارسِ دینیہ کا فرضِ منصبی ہے یا یونیورسٹی کے پروفیسروں اور سائنسدانوں کا؟ (جاری ہے)

