ابراہیمی معاہدہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں، خواجہ آصف

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہیمی معاہدہ قابل قبول نہیں کیونکہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔
نجی چینل سے بات کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں گے جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہو۔ اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہیمی معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: 

امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کردیا، ڈرون تنصیبات نشانہ

خواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔