امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس نے امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ایران سے متعلق ممکنہ معاہدے پر ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد نیتن یاہو شدید غصے میں دکھائی دیے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی اس فون کال میں ایران کے ساتھ جنگ بندی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سخت شکوک و شبہات رکھتے ہیں اور وہ ایران کی عسکری صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے حق میں ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بتایا کہ ثالث ایک ابتدائی مسودہ تیار کر رہے ہیں، جس پر امریکا اور ایران دستخط کر سکتے ہیں تاکہ باضابطہ طور پر جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے اور 30 روزہ مذاکراتی عمل شروع ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں:
آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا کنٹرول سسٹم متعارف، جہازوں کیلئے پیشگی اجازت لازمی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، خطے کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔
ایگزیوس کے مطابق دو اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان آئندہ حکمت عملی پر واضح اختلافات موجود ہیں، جبکہ امریکی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ فون کال کے بعد نیتن یاہو انتہائی برہم تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قیادت ایران کے خلاف عسکری دباؤ برقرار رکھنے کی حامی ہے جبکہ امریکی انتظامیہ سفارتی حل اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

