ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر نگرانی مزید سخت کرتے ہوئے ایک نیا کنٹرولڈ میری ٹائم زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کیلئے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
ایران کی خلیج فارس اسٹریٹ اتھارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مخصوص حصے کو باضابطہ طور پر کنٹرول زون میں شامل کر لیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ام القوین سے قشم جزیرے تک سمندری حدود کی نئی لائن متعین کی گئی ہے جس کے تحت اس راستے سے گزرنے والی تمام بحری ٹریفک کو متعلقہ حکام سے اجازت اور رابطہ کرنا ہوگا۔
1/
جمهورى اسلامى ايران محدودهٔ نظارتى مديریت تنگه هرمز را به این شرح تعيین کرده است: «خط اتصال كوه مبارك درايران وجنوب فجيره درامارات در شرق تنگه تاخط اتصال انتهاى جزيره قشم درايران و ام القيوین امارات درغرب تنگه.» pic.twitter.com/3ELSwYx5Bp— PGSA | نهاد مدیریت آبراه خلیج فارس (@PGSA_IRAN) May 20, 2026
رپورٹس کے مطابق اس سے قبل پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی ایک نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت اس آبی راستے کی نگرانی اور کنٹرول کا اعلان کیا جا چکا ہے جس میں بحری ٹریفک کے ساتھ ساتھ زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز کی نگرانی اور فیس کے نظام کی بات بھی شامل تھی۔ ماہرین کے مطابق اس راستے سے دنیا کے بڑے مالیاتی اور ڈیٹا نیٹ ورکس کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے اور یہاں کسی بھی نئی پابندی یا کنٹرول کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

