روس کی جانب سے “سرماٹ” ایٹمی میزائل کے کامیاب تجربے کے انکشاف کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین کہ سرماٹ میزائل سسٹم کی رینج (مار کرنے کی حد) 35 ہزار کلومیٹر سے تجاوز کرسکتی ہے۔
سرماٹ سسٹم کے کامیاب تجربے کی رپورٹ سننے کے دوران صدر پوتین نے کہا “یہ میزائل نہ صرف بیلسٹک راستے پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلکہ یہ نیم مداروی (sub-orbital) راستے پر بھی حرکت کر سکتا ہے۔ یہ خصوصیت اسے 35 ہزار کلومیٹر سے زیادہ رینج فراہم کرتی ہے جبکہ اس کے نشانہ بنانے کی درستی اور موجودہ و مستقبل کے تمام دفاعی سسٹمز کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی دوگنا ہو گئی ہے۔”
روسی صدر نے مزید زور دے کر کہا کہ یہ “دنیا کا طاقت ور ترین میزائل سسٹم ہے، جو ہمارے پاس موجود سوویت یونین کے ‘ووئی ووڈا’ میزائل سسٹم سے کسی طرح کم نہیں۔” انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ “اس کے وار ہیڈ کی مجموعی طاقت کسی بھی مشابہہ مغربی وار ہیڈ کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔”
یہ بیان روسی مسلح افواج میں اسٹریٹجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکایف کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے “سرماٹ” میزائل سسٹم کے کامیاب تجرباتی تجربے کی تصدیق کی تھی۔ سرماٹ وزنی مائع ایندھن سے چلنے والا جدید ترین بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) ہے۔
اس کے علاوہ روسی صدر نے اشارہ کیا کہ روس بتدریج اپنی ایٹمی افواج کو ترقی دے رہا ہے اور اس تناظر میں انہوں نے “اوریڈنشک” اور “بوریویسٹنک” سسٹمز کی تیاری کا ذکر بھی کیا۔
پوتین نے کہا “ہم ایٹمی افواج کی ترقی کے منظور شدہ پروگرام پر مرحلہ وار عمل درآمد کر رہے ہیں۔” صدر نے بتایا کہ زمین سے مار کرنے والا درمیانی رینج کا “اوریڈنشک” میزائل سسٹم، جسے ایٹمی وار ہیڈز سے لیس کیا جا سکتا ہے، 2025ء سے سروس میں شامل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا “چھوٹے ایٹمی انجنوں سے لیس دو مزید سسٹمز پر کام اپنے آخری مراحل میں ہے، جن میں ‘پوسیڈن’ نامی منفرد ڈرون آبدوز اور ‘بوریویسٹنک’ نامی منفرد کروز میزائل شامل ہیں۔”

