اسرائیلی پارلیمنٹ،فلسطینی اسیران کو سزائے موت کاکالا قانون منظور

تل ابیب /غزہ/ برسلز/نیویارک/بیروت:اسرائیلی پارلیمنٹ نے ”7اکتوبر قتلِ عام پراسیکیوشن قانون” کی حتمی منظوری دے دی ہے جس کے تحت حملے میں ملوث حماس کے سینکڑوں ارکان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ایک خصوصی فوجی ٹریبونل قائم کیا جائے گا۔

بل قانون دستور، قانون اور انصاف کمیٹی کے چیئرمین سمحا روٹمین اور کنیسٹ کی رکن یولیا مالینوسکی کی جانب سے پیش کیا گیا ، منظور ہونے والے اس قانون کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی بھرپور حمایت حاصل رہی اور اسے 93 ووٹوں کے ساتھ متفقہ طور پر پاس کیا گیا۔

اس قانون سازی کا مقصد حماس کی ایلیٹ ”نخبہ فورس” کے ان تقریباً 400 زیرِ حراست ارکان پر مقدمہ چلانا ہے جن پر نسل کشی، قتل، جنسی تشدد اور اغوا جیسے سنگین الزامات ہیں۔ اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو سزائے موت دی جا سکے گی جبکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تبادلے کے معاہدے کے تحت ان کی رہائی پر مکمل پابندی ہوگی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ قانون اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ اس کے تحت جن اسیران پر مقدمہ چلایا جائے گا انہیں کبھی بھی رہا نہیں کیا جائے گا،خواہ کوئی بھی ممکنہ تبادلہ معاہدہ طے پا جائے۔

اسرائیلی حکام اس ٹریبونل کو 1961ء کے مشہور ”ایڈولف ایشمین ٹرائل”سے تشبیہ دے رہے ہیں جو اسرائیل کی تاریخ میں سزائے موت پانے والے معدودے چند افراد میں سے ایک تھا۔یہ خصوصی ٹریبونل یروشلم میں قائم ہوگا اور اس کی کارروائی کو عوامی سطح پر براہِ راست نشر کیا جائے گا تاکہ اس کا تاریخی ریکارڈ محفوظ رہے۔

قانون کے مطابق ملزمان کے دفاعی اخراجات کی رقم فلسطینی اتھارٹی کے فنڈز سے منہا کی جائے گی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیرِ انصاف کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف انصاف ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے 7 اکتوبر کے واقعات کی دستاویزی تاریخ بھی محفوظ ہو جائے گی۔

دریں اثناء حماس نے اس نسل پرستانہ قانون کے سنگین نتائج کے بارے میں سخت خبردار کیا ہے جسے صہیونی کنیسٹ نے منظور کیا ہے جس کے تحت ہمارے فلسطینی عوام کے اسیران کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بالخصوص ان اسیران کو جن پر قابض اسرائیل معرکہ طوفان الاقصیٰ میں شرکت کا الزام عائد کرتا ہے۔

حماس نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی پالیسی اور فاشسٹ قانون سازی ہمارے عوام کے ارادوں کو توڑنے یا انہیں اپنی مکمل قومی حقوق کے حصول تک جائز جدوجہد جاری رکھنے سے روکنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔

بیان میں اشارہ کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی یہ فاشسٹ اور نسل پرستانہ قانون سازی ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور ایک نیا جرم ہے جو قابض اسرائیل کے جنگی جرائم اور فلسطینی عوام کے خلاف منظم خلاف ورزیوں کے ریکارڈ میں ایک اور اضافہ ہے۔

حماس نے واضح کیا کہ یہ قانون باطل اور غیر قانونی ہے اور یہ تمام بین الاقوامی قوانین اور میثاق، بالخصوص جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس قانون سازی میں فوجی عدالتوں کو دیے گئے غیر معمولی اختیارات، طریقہ کار اور ثبوت کے قواعد سے تجاوز کی اجازت اور سزائے موت کے احکامات پر عمل درآمد کے انتظامات قابض ریاست کے انتقامی اور نسل پرستانہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں۔

یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت فلسطینی اسیران کے قتل کو قانونی شکل دینے اور عدالتوں کو انصاف کے کسی بھی معیار یا منصفانہ ٹرائل سے دور انتقام اور تشدد کے آلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کی غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں،صہیونی فورسز نے مزید چار فلسطینی شہید کردیے۔غیرملکی خبر رساںادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب مشرقی علاقے ابو دیس میں چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے شدید صوتی بموں اور آنسو گیس کا استعمال کیاجس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

مقبوضہ بیت المقدس کے مشرق میں واقع قصبے عناتا میں بھی اسرائیلی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے ایک نوجوان فلسطینی کو گرفتار کر لیا۔ادھر القدس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے العیزریہ کے علاقے المشطل میں اسرائیلی بلدیاتی اور فوجی اہلکاروں نے فلسطینیوں کی ملکیت متعدد صنعتی اور تجارتی عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اب تک کم از کم 20 صنعتی و تجارتی ڈھانچے منہدم کیے جا چکے ہیں جبکہ مسماری کا عمل تاحال جاری ہے۔

ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں فلسطینی قیدیوں پرجنسی تشدد بے نقاب کرتے ہوئے رپور ٹ میں کہاگیا ہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینی عورتوں اور بچوں پر منظم جنسی تشدد کر رہی ہے۔ رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں، تفتیش کاروں اور جیل اہلکاروں کی جانب سے سفاکانہ جنسی تشدد کے الزامات سامنے لائے گئے۔

رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے متاثرین کے انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ فلسطینیوں حتیٰ کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد ایک وسیع اور منظم طرز عمل بن چکا ہے۔نکولس کرسٹوف نے لکھا کہ اگرچہ اس بات کے شواہد موجود نہیں کہ اسرائیلی قیادت براہِ راست ایسے اقدامات کے احکامات دیتی ہے تاہم ان کے زیر نگرانی سیکورٹی نظام میں یہ عمل معمول کی کارروائی بن چکا ہے۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات منظم ریاستی پالیسی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، سیاسی اختلافات سے قطع نظر فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی میں جنسی تشدد کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

علاوہ ازیںاسرائیلی وزارت خارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اخبار نے اسرائیل کے خلاف جھوٹا اور اشتعال انگیز پروپیگنڈا شائع کیا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے ماہرین نے گزشتہ ماہ بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں جنسی تشدد مبینہ طور پر اسرائیلی قبضے کا ایک مرکزی ہتھیار بنتا جا رہا ہے، ایسے اقدامات محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ منظم نوعیت رکھتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ اور فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے۔

ادھرمقبوضہ بیت المقدس کی ہیبرو (عبرانی) یونیورسٹی میں ایک انتہا پسند اسرائیلی آبادکار اور پارلیمنٹ(کنیسٹ) کے رکن زوی سوکوٹ نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی یاد میں منعقدہ یومِ نکبہ کی تقریب میں مداخلت پیدا کردی۔

یہ تقریب 1948ء میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے نکالے جانے کے 78 سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تھی۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق سوکوٹ نے وہاں موجود طلبا کو براہِ راست تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تاکہ وہ اس تاریخی دن کو منانے سے باز رہیں۔

تقریب منعقد کرنے والے طلبا کے گروپ نے اسرائیلی سیاست دان کی ان دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔گروپ کا کہنا ہے کہ سوکوٹ کی دھمکیاں انہیں اپنی یادداشت، شناخت اور اپنی سرزمین سے وابستگی کے حق سے دستبردار نہیں کر سکتیں۔

طلبا کے مطابق یہ واقعہ اسرائیلی یونیورسٹیوں میں فلسطینی طلبا کے خلاف جاری اشتعال انگیزی اور ظلم و ستم کی مہم کا حصہ ہے لیکن ایسی پالیسیاں انہیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں اور وہ اپنے لوگوں کی تاریخ اور بیانیے کا دفاع جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقے گذشتہ رات اور آج منگل کے روز علی الصبح قابض فوج کی وحشیانہ مہم کا نشانہ بنے جہاں قابض فورسز نے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔

ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انتہا پسند صہیونی آباد کاروں کی ملیشیاؤں کی جانب سے نہتے شہریوں اور ان کی املاک پر حملوں میں بھی شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔الخلیل گورنری میں قابض فوج نے شہر کے شمالی حصے میں واقع حلحول میں دھاوا بولا اور ایک رہائشی عمارت کی تلاشی لینے کے بعد وہاں سے ایک نوجوان کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

نابلس کے جنوبی علاقے میں مسلح آباد کاروں کی ملیشیاؤں نے قماص کے مقام پر جو بیتا قصبے کے مضافات میں واقع ہے، ایک فلسطینی کسان کے زرعی شیڈ پر حملہ کر دیا۔ اسی دوران صہیونی آباد کاروں نے قصبے کے علاقے الظہرہ میں اشتعال انگیز گشت کیا اور مقامی آبادی کی املاک کو دانستہ طور پر نقصان پہنچا کر اپنی سفاکیت کا مظاہرہ کیا۔

جنین میں قابض صہیونی فوج نے شہر کے جنوب میں واقع کفر راعی قصبے پر دھاوا بولا جہاں متعدد شہریوں کے گھروں کی حرمت پامال کرتے ہوئے وہاں تلاشی لی اور توڑ پھوڑ کی۔ادھر رام اللہ کے وسطی علاقے میں بھی قابض فوج نے یلغار کی اور شہر میں واقع الجزیرہ چینل کے دفتر پر چھاپہ مار کر وہاں موجود سامان کی چھان بین کی۔

طولکرم میں قابض فوج نے عتل قصبے پر دھاوا بولا جبکہ شہر کے شمال میں واقع علار قصبے سے نوجوان ماہر عصاعصہ کو اس کے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا گیا۔نابلس شہر میں قابض اسرائیلی فوج نے الضاحیہ محلے پر چڑھائی کی اور دو نوجوانوں ولید الاشقر اور عزمی منصور کو حراست میں لے لیا جبکہ اسی علاقے میں فواد الزربا نامی نوجوان کو بھی اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔

ان گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ شہر کے مشرق میں واقع گاؤں سالم میں بھی قابض فوج کی بھاری نفری داخل ہوئی۔

ادھراسرائیلی فوج نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں ایک گھر پر حملہ کردیا جس میں 6افراد جاںبحق اور 7زخمی ہوگئے۔لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا ہے۔

علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے لبنان پر اسرائیلی حملوں میں تیزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران لبنان پر 100 حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی شہر ی جاںبحق اور متعدد خاندان بے گھر ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے متاثرہ افراد تک مدد پہنچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں سب سے اہم ضرورت تشدد کے خاتمے اور حقیقی جنگ بندی کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شہری آبادی کیلئے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے جبکہ مسلسل حملوں کے باعث انسانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق مسیحی علامت کی بے حرمتی کرنے والے فوجی اہلکاروں کو سزا سنادی گئی ہے ۔اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق جنوبی لبنان میں مسیحی علامت کی بے حرمتی کرنے والے فوجی کو21 دن قید کی سزا دی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعے کو فلمانے والے فوجی کو 14 دن قید کی سزا سنائی گئی ہے۔