دودھ میں مینگنیاں

پاکستانی قوم کا جوش وخروش عروج پر ہے۔ 10 مئی 2025ء کی یاد ، فتح کا فخر جھلک بلکہ چھلک رہا ہے۔ اپنی فوج اور اس کی قوت ، فتح پر قوم سرشار ہے۔ ہندوستان کو ناگ رگڑوانے گھٹنوں کے بل گرانے کا اعزاز افواج پاکستان نے ایسے ہی حاصل نہیں کیا، اس کے پیچھے محنت ہے اخلاص ہے پختہ ایمان ہے۔ سوچ او ر نظریے پر سمجھوتا نہ کرنا ہے۔ اگر ہمارے سیاست دان اور حکمران بھی ایسی ہی محنت کرتے، ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچتے ، عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے۔ اپنی ذمے داری پوری کرتے۔ جیبیں بھرنے کی بجائے خزانہ بھرنے کی فکر کرتے ، اپنی بجائے اپنے عوام اور ملک کی فکر کرتے تو پاکستان بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے معیشت میں بھی ایسے ہی آگے ہوتا جیسے فوجی قوت و طاقت اور دفاعی صلاحیت میں بہہت آگے ہے، الحمد للہ !
٭٭٭
سنا ہے ہندوستان بھی 7 سے 10 مئی کو یاد کر رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے وہ اپنے عوام کو کیا بتا رہا ہوگا کہ ہمیں کتنے جوتے پڑ ے ، کتنی مٹی پلید ہوئی ، کتنے جہاز گرے ایس 400 کا کیا حال ہوا ، ڈرونوں کا کیسے جنازہ نکلا ، ہندوانہ ارمانوں کا کیسے خون ہوا ؟ کیسے گھٹنوں کے بل گرے؟ کیسے ناک رگڑنا پڑی یا وہ یہ بتا بتا کر فخر کررہے ہوں گے اللہ کے گھر مساجد اور رہائشی علاقوں پہ ہم نے میزائل مار ے، مساجد، بچے اور خواتین کو شہید کیا۔ آخر کچھ تو ہندوستان بتا رہا ہو گا اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے لیکن بھئی جیسی روح ویسے فرشتے ! جیسے عوام ویسے ہی حکمران۔ یہاں کی صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی طرح ہمارے عوام بھی ہمت شجاعت قوت بے خوفی کا استعارہ ہیں۔ الحمد للہ !
٭٭٭
ہمارے حکمرانوں کو دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کا بڑا شوق ہے۔ ایک طرف پوری قوم اپنے ملک سے محبت افواج پاکستان سے محبت کا اظہار کر رہی ہے۔ کیا عوام کیا خواص ،کیا مرد کیا خواتین اور کیا بچے، دشمن کا مذاق اڑا کے اپنے دل کو ٹھنڈا کررہے ہیں۔ ایسے میں کم از کم تین چار دن تو حکومت پیڑول بم گرانے سے صبر کرتی۔ اگر ہنگامی حالت میں دوسرے بہت سے کام ہو سکتے ہیں تو ہنگامی کیفیت میں روکا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن سچی بات ہے مینگنیاں ڈالنے کی جو لت ہمارے حکمرانوں کو لگی ہوئی ہے، عوام کے جذبات سے کھیلنے کا جو چسکا انھیں لگ چکا ہے، ایسا لگتا ہے غریب عوام کو روتا دیکھ کر ان کے دل کو ٹھنڈک پہنچتی ہے اس لیے ،یہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔
٭٭٭
ایران اور امریکا کی ہٹ دھرمی ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش ، ایک طرف امریکا جسے سپر پاور ہونے کا دعویٰ ہے وہ بالکل بچکانہ حرکتوں پہ اُترا ہوا ہے۔ دوسری طرف ایران نے جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے وہ بھی دانشمندی نہیں۔ جھوٹی واہ وا سمیٹنے کے لیے بڑھکیں مارنا اس کی عادت ہے۔ پاکستانی حکمرانوں کو ہم لوگ چھوٹتے ہی امریکی غلام امریکی پٹھو اور جو جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں، لیکن غلام کہلائے جانے پٹھو باور کروائے جانے والوں نے امریکی مت گھمائے رکھی۔ چکنی چپڑی باتوں میں لگائے رکھا اور اپنا کام جاری رکھا اور اللہ کا شکر ہے سب نے اس میں حصہ ڈالا۔ اس بابت پاکستان کی پالیسی ایک رہی ہے۔ گراف کم زیادہ ہوتا رہا، انداز میں تبدیلی آتی رہی لیکن رخ درست رہا ، سوچ پختہ رہی۔ قدم آگے ہی بڑھتے رہے۔ دبے قدموں جو کام ہو جائے اس کے لیے بھلا دھمک کی کیا ضرورت !
٭٭٭
ٹرمپ چین جارہے ہیں۔ عام خیال یہ کیا جا رہا تھا کہ ٹرمپ کا یہ دورہ ایران سے جنگ میں گم ہو جائے گا ، جنگ اسے چاٹ جائے گی۔ لیکن تاحال دورہ شیڈول ہے۔ پلان کے مطابق ہے۔ کوئی انہونی نہ ہوئی تو مسٹر ٹرمپ بیجنگ پہ قدم رنجہ فرمائیں گے اور شی جن پنگ استقبال فرمائیں گے۔ ٹھیک ہے چین اور امریکا دونوں ایک دوسرے سے پنگا بھی رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ دورہ اور کامیاب دورہ ٹرمپ کی بھی ضرورت ہے اور ”جن” کی بھی۔ امریکا بھی چاہتا ہے اس کے صدر کی بڑھکیں مارنے کا گراف ذرا نیچے آئے اور چینیوں کی بھی یہی خواہش ہے کہ دنیا کے اس نویں اعجوبے کو اپنی سرزمین پر دیکھیں۔
٭٭٭
کراچی کے علاقے گلستان جو ہر سے 19 لاکھ روپے مالیت کے 25 بکرے چوری کیے گئے ہیں۔ قربانی کے جانور چوری کرنے کا جذبہ بھی بڑی فراخی سے ہر سال ہی انجام دیا جاتا ہے۔ ایک ساتھ اتنے بکرے سنبھالنے کی واردات خصوصی جگر گردے کی بات ہے۔ لیکن یہاں بڑے بڑے ماہر پائے جاتے ہیں بلکہ پائے کے ماہر پائے جاتے ہیں۔ بھلے کیمرے لگے ہوتے ہیں لیکن چور حضرات کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں اور وہ ماہرین اُن کیمروں کا منہ چڑاتے چڑاتے بکرے دنبے ہی نہیں کبھی کبھی بچھیا بھی لے جاتے ہیں۔ یہ ہر سال کی خصوصی مہمات میں شامل ہے۔ باقی روزانہ کی بنیاد پر موبائل بائکیں، نقدی ہتھیاتے ہیں۔ دیدہ دلیری میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ بھرے چوک میں دن دہاڑے اور کھلے عام کارنامے انجام دیے جاتے اور کارروائیاں بخیر و خوبی انجام دی جاتی ہیں۔ عید قرباں پر لوگ نگرانی کا جال بچھاتے نگرانوں کا انتظام بھی کرتے رکھتے ہیں لیکن موقع ڈھونڈنے موقع بنانے اور موقع ضائع نہ کرنے کی مہارت رکھنے والے جی جان سے ایسی مہمات انجام دیتے ہیں کہ ترقی یافتہ ، لائسنس رکھنے والے چو ر بھی داد دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔