کیا ہم کوفی ہیں؟

نجد جزیرہ نما عرب کا وسطی علاقہ ہے،یہ مدینہ منورہ سے لے کر یمامہ تک پھیلا ہوا ہے، یہاں کے نخلستان بہت مشہور ہیں،صحرا ؤں کے بیچوں بیچ کہیں کہیں کجھوروں کے باغات اور میٹھے پانے کے چشمے ہیں۔بعثت نبوی کے وقت نجد کے اس علاقے میں، مدینہ سے کافی فاصلے پر ایک کنواں تھا جسے معونہ کہا جاتا تھا۔ یہ بنو عامر اور بنو سلیم کی ملکیت تھا اور ابلیٰ پہاڑ کے قریب واقع تھا۔صفرچارھجری میں نجد کاایک سردار ابوبراء عامر بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ یہ بنو عامر کے معزز لوگوں میں سے تھامگر قبیلے کی اصل قیادت اس کے بھتیجے عامر بن طفیل کے پاس تھی۔ابو براء آپ سے بڑے احترام سے پیش آیا، آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی،اس نے قبول کیا نہ ہی انکار،بلکہ کہنے لگا آپ اپنے ساتھیوں کا ایک وفد میرے ساتھ بھیج دیں جو اہل نجد کو اسلام کی دعوت دے ،اس کے بعد ہم قبول اسلام کا فیصلہ کریں گے۔آپ نے فرمایا:”میں اہل نجد سے مطمئن نہیں ہوں،میرے اصحاب کو وہاں کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے” اس نے کہا: ”آپ فکر نہ کریں’ یہ تمام لوگ میری امان میں ہوں گے۔”

آپ نے سترحفاظ اورعالم دین صحابہ کرام کو اس کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یہ لوگ معونہ کے علاقے میں پہنچے تو ابوبراء کے بھتیجے عامر بن طفیل نے جو بنو عامر کا سردار تھا،دھوکے سے صحابہ کرام پر حملہ کردیا۔ صحابہ کرام نہتے تھے مگر بہادری سے لڑے اور 68 صحابہ کرام شہید ہو گئے۔ جبرائیل نے رسول اللہ کو واقعے کی اطلاع دی، آپ بہت غمگین ہوئے،کئی دن تک طبیعت بے چین رہی اور آپ اس سانحے کے غم سے نہ نکل سکے۔ صحابہ کرام نے کسی اور واقعے پرآپ کو اتنا غمگین نہیں دیکھا تھاجتنا آپ اس واقعے پرپریشان تھے۔ آپ نے پورا ایک مہینا قاتلوں کے لیے بد دعا کی اورہر صبح نمازفجر میں قنوت نازلہ پڑھ کران کا نام لے کر ان کے لیے بد دعا کر تے تھے۔

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کریں، آپ کو رسول اکرمۖ کی نبوت کے بعد کی زندگی کا ہر دن اذیت اور تکلیف سے بھرپور نظر آئے گا، یہ تئیس سال آپ نے کانٹوں کی سیج پر گزارے تھے، مشقت، حادثات، غم اور تکالیف ہر لمحے آپ کے سامنے باہیں پھیلائے کھڑے ہوتے تھے مگر آپ کی زبان پر کبھی اف تک نہیں آیا۔ بد دعا تو دور کی بات آپ نے کبھی شکایت تک نہیں کی۔ کفار مکہ نے آپ پر زندگی اجیرن کر دی تھی، عقبہ ابن ابی معیط جیسے بدبخت نے آپ کے گلے میں چادر ڈال کر آپ کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی مگر آپ نے اسے بد دعا نہیں دی۔ ابوجہل ساری حدیں کر اس کر گیا مگر آپ اس کے اسلام کے لیے دعا ئیں کرتے رہے۔ آپ کو تین سال شعب ابی طالب کے اندر قید رکھاگیا مگرآپ کی زبان پر شکوہ تک نہیں آیا۔ طائف میں آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے پڑھ کر آج بھی آنکھیں بہہ پڑتی ہیں مگر آپ نے فرشتے کی فرمائش کے باوجود بد دعا نہیں کی۔ہبار ابن الاسود نے آپ کی لخت جگر سیدہ زینب کو دھکا دے کر اونٹ سے گرادیا تھاجس سے وہ شدید زخمی ہوگئی تھیں مگر آپ کی زبان پرحرف شکایت نہیں آیا۔ وحشی نے آپ کے محبوب چچا اور عظیم سپہ سالار حضرت حمزہ کو شہید کیا مگر آپ نے اسے بھی معاف کر دیاتھا۔ غزوہ احد میں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے مگر آپ کے صبر اور برداشت میں زرہ بھر فرق نہیں آیا۔غزوہ خندق میں سارا کفر متحد ہو کر آپ کو زیر کرنے آیا مگر آپ نے بد دعا نہیں کی۔ غزوہ حنین میں آپ پر مشکل وقت آیا مگر آپ دعا گو رہے اور سریہ موتہ میں آپ کے محبوب غلام حضرت زید بن حارثہ، جعفر طیار اور عبداللہ بن رواحہ جیسے عظیم سپہ سالار شہید ہوئے مگر آپ پر صبر غالب رہا۔

تئیس سالہ مصیبتوں اور مشقتوں سے بھرپور زندگی کے کسی بھی موقع پر آپ کی رحمة للعالمینی میں کوئی فرق نہیں آیا مگر کیا وجہ ہے کہ آپ بئرمعونہ کے واقعے پر پورا ایک مہینا بددعا کرتے رہے اور بد دعا بھی نام لے کر کی، کیوں؟ کیونکہ یہ علم کی موت تھی،یہ علم کی شہادت تھی اور یہ ظلم اور دھوکا تھا اور آپ علم کی موت اور ظلم اور دھوکے پر خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ بئر معونہ کے واقعے میں شہید ہونے والے اکثر صحابہ کرام حفاظ، قراء اور عالم دین تھے۔یہ وہ لوگ تھے جو دن میں جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر رات کو صفہ کی درسگاہ میں دین کا علم حاصل کرتے تھے۔انہوں نے اپنی زندگیاں علم دین کے حصول میں صرف کی تھیں اور اب یہ دین کے مبلغ بن کر نجد جا رہے تھے۔68 دین کے عالم اور مبلغ صحابہ کرام کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہی وجہ تھے کہ رسول اللہ ۖنے ان کو شہید کرنے والوں کے لیے پورا ایک مہینا بددعا کی تھی۔

ایک عام انسان کی موت اور عالم کی موت میں بڑا فرق ہوتا ہے اور یہ وہی فرق تھا جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام بددعا پر مجبور ہو گئے تھے۔ آپ ۖسن رسیدہ،بزرگ، مالدار اورعظیم سپہ سالار صحابہ کرام کی وفات پراتنے دکھی نہیں ہوئے تھے جتنے آپ ان عالم دین اصحاب کی وفات پر ہوئے۔

میں نے جب سے مولانا ادریس صاحب کی شہادت کی خبرسنی ہے میں اس دکھ اور صدمے سے باہر نہیں نکل سکا۔ آخر ہم بحیثیت قوم اوربحثیت ریاست نبی اکرمۖ کی اس بددعا کو کیوں نہیں سمجھ رہے، ہم رسول اللہۖ کی بددعا پر کیوں غور نہیں کر رہے اور ہم ان علماء کو کھو کر مطمئن کیوں بیٹھے ہیں۔ میرا یہ یقین ہے کہ اس ملک پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ علماء ہیں۔ بلکہ صرف پاکستان ہی کیوں اس دنیا میں سب بڑھ کر علماء ہیں، ان سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اور ان کے جانے سے بڑا کوئی غم اور نقصان نہیں۔یہ ہیں تو پاکستان ہے، ان کے دم سے اس ملک کی رونقیں ہیں اور ان کے وجود اور آہ سحر گاہی سے اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتاہے۔آخر ہم کیوں نہیں سمجھ رہے کہ اہل علم کی شہادت پر رسول اللہۖ کی ذات بھی بد دعا پر اتر آئی تھی، ہمیں کیوں اندازہ نہیں ہو رہا کہ یہ شہادتیں معمولی بات نہیں ہے،یہ قیامت کا پیش خیمہ ہیں،یہ پوری دنیا کی تباہی کی نشان دہی ہیں۔ یہ صرف پاکستان نہیں پوری انسانیت کا اجتماعی مسئلہ ہیں، علماء ہیں تو دین ہے، دین ہے تو دنیا ہے، جس دن اس دنیا پر کوئی کلمہ گو نہ رہا وہ اس دنیا کا آخری دن ہو گااور اس کے بعد قیامت ہے۔

لوگ یہاں جمہوریتیں بحال کرنے میں مگن ہیں مگر میرا دکھ اس کے سوا ہے۔علم اور علماء کی شہادتوں پر خاموشی ہے، ظلم پر پردہ ہے،اہل علم کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس طرز عمل پر رحمة للعالمین ۖبھی تڑپ اٹھے تھے ہم اسے معمولی واقعہ سمجھ کر زندگی میں مطمئن بیٹھے ہیں، یہ دنیا جن کے دم بدم سے قائم ہے ہم انہیں سمجھ ہی نہیں رہے،ہمیں ان کی قدر ہی نہیں ہو رہی۔ اورہم وہ بدبخت ہیں جو اپنے ہی ہاتھوں سے انہیں شہید کر رہے ہیں۔ہم میں اور بنو سلیم میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ کوفہ اور پاکستان میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ یاد رکھیں دو تین صدیوں بعد جب اس امت کی تاریخ لکھی جائے گی تومستقبل کا مورخ ہمارے بارے میں وہی الفاظ درج کرے گا جو آج ہم اہل کوفہ کے بارے میں کرتے ہیں۔اہل کوفہ آج تک کوفی ہیں اور قیامت تک کوفی ہی رہیں گے۔کیوں اس لیے کہ انہوں نے اہل علم اور اہل بیت کی قدر نہیں کی تھی۔رسول اللہۖ نے فرمایا تھا قیامت کے نزدیک علم اٹھا لیا جائے گا اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ اہل علم اٹھا لیے جائیں گے،آج ہم اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ کی پیش گوئیاں پوری کر رہے ہیں، ہمارا کیا بنے گا اور ہم کس منہ سے رسول اللہۖ کا سامنا کریں گے۔ ہمارے پڑوس میں واقع انڈیا میں آج تک کوئی عالم شہید نہیں ہوا اور ہم مدینہ میں رہ کر علماء کے لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں، انڈیا کے مسلمان ضرور سوچتے ہوں گے یہ کیسا ملک اور کیسی قوم ہے جہاں رسول اللہۖ کے ورثاء محفوظ نہیں اور ان کی لاشیں سڑکوں سے اٹھانی پڑتی ہیں۔