پاکستان کی یونیورسٹیاں اور بہتری کے اقدامات

گزشتہ دنوں پاکستان کی ایک یونیورسٹی میں طالبہ نے خود کشی کی کوشش کی اور اوپری منزل سے چھلانگ لگادی۔ اس سے چند دن پہلے ایک نوجوان لڑکے نے یونیورسٹی میں ہی خود کشی کی کوشش کی تھی۔ یونیورسٹیوں سے ایسی خبریں آنا جہاں تکلیف دہ ہے، وہیں توجہ طلب بھی ہے کہ ہمارا مستقبل خطرے میں ہے۔ یونیورسٹیاں کسی بھی ملک میں علمی، فکری اور سماجی ترقی کا مرکز ہوتی ہیں۔ یہ کسی بھی قوم کے اجتماعی شعور اور احساس کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ یونیورسٹیاں ہی کسی ملک کی اعلیٰ قیادت کو تیار کرتی ہیں اور ان کے اچھے یا برے نتائج کی ذمہ دار بھی ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ایک عرصے سے سیاسی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی خلفشار جاری ہے، اور اس خلفشار کا ایک بڑا سبب ہماری یونیورسٹیاں اور ہمارا اعلیٰ تعلیمی نظام بنتا جا رہا ہے۔ اس تحریر میں ہم جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کون سی ایسی خامیاں پیدا ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے ہمارا معاشرہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے، اور وہ کون سے منفی عوامل، رویے، انتظامی نااہلیاں اور غیر مفید سرگرمیاں ہیں جن میں ہمارے یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات مبتلا ہو چکے ہیں۔

اگر ہم یونیورسٹیوں کے تعلیمی نظام کا جائزہ لیں تو سب سے پہلے تدریسی عمل سے وابستہ اساتذہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔ ہمارے ہاں اساتذہ کرام کو وہ مقام، مرتبہ اور مالی سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے معاشرے کا ذہین طبقہ اس شعبے کا انتخاب کرے۔ بیشتر اساتذہ جدید تدریسی اور تحقیقی رجحانات سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے اور تربیتی پروگرامز کی کمی کا شکار رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح یونیورسٹیوں میں موجود تعلیمی مواد بھی پرانا اور ناقص ہوتا ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو جدید تحقیق اور علم تک مؤثر رسائی حاصل نہیں ہو پاتی اور وہ عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ نصاب، کتب اور دیگر تعلیمی وسائل کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔پاکستانی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق اور عملی تربیت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر طلبہ کو عملی تجربات سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا، جس کے باعث وہ فنی اور تحقیقی میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

جدید تحقیقی سہولیات فراہم کرنا اور طلبہ کو عملی تربیت میں شامل کرنے کے لیے مخصوص پروگرامز کا انعقاد اب ناگزیر ہو چکا ہے۔اگر ہم یونیورسٹیوں میں اخلاقی گراوٹ کا جائزہ لیں تو تربیت اور اخلاقیات کے میدان میں ایک سنگین بحران سامنے آتا ہے۔ فحاشی اور بے راہ روی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے جو طلبہ کی اخلاقی تربیت کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ مختلف تقریبات اور فیشن شوز کے ذریعے بے راہ روی کو فروغ دیا جاتا ہے، جس سے تعلیمی ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور تعلیم یافتہ طلبہ و طالبات اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کی ایک بنیادی وجہ یہ پالیسی بھی ہے کہ یونیورسٹی سطح پر طلبہ اور طالبات کو مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ ماڈل اگرچہ مغربی معاشروں میں قابلِ قبول ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان کی معاشرت، مشرقی اقدار اور اسلامی تعلیمات کو سامنے رکھا جائے تو اس کی گنجائش مشکل نظر آتی ہے۔ جس طرح اسکول اور کالج کی سطح پر طلبہ و طالبات کی علیحدہ تعلیم ممکن ہے، اسی طرح یونیورسٹی سطح پر بھی ان کی کلاسز اور مقامات علیحدہ ہونے چاہئیں تاکہ اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات کا خاتمہ ہو سکے۔اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ کے درمیان نامناسب تعلقات کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے، جو اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ مزید یہ کہ غیر نصابی یا ہم نصابی سرگرمیوں کے نام پر تعلیمی کیمپسز میں طلبہ کی توجہ غیر مفید اور بعض اوقات نامناسب سرگرمیوں میں صرف ہو جاتی ہے، جس سے تعلیمی ماحول مزید متاثر ہوتا ہے۔

ایک طویل عرصہ کسی تعلیمی ماحول میں گزارنے والے طلبہ اس کے اثرات دیر تک محسوس کرتے ہیں، چاہے وہ مثبت ہوں یا منفی۔یونیورسٹیوں میں کرپشن اور سیاسی مداخلت بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ داخلوں اور امتحانات میں بدعنوانی عام ہو چکی ہے، جبکہ سیاسی مداخلت نے میرٹ اور معیار کا ستیاناس کر دیا ہے۔ سیاسی عصبیت ایک تلخ حقیقت ہے اور جب سیاسی جماعتیں تعلیمی اداروں میں مداخلت کرتی ہیں تو نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔انتظامی معاملات میں اقربا پروری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس کے باعث شفافیت اور میرٹ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ہماری یونیورسٹیوں میں اسکالرشپس کی کمی اور مہنگی فیسیں بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جس کی وجہ سے ہونہار طلبہ اپنا تعلیمی سفر جاری نہیں رکھ پاتے اور ملک و قوم قیمتی انسانی وسائل سے محروم ہو جاتی ہے۔

تحقیق ایک وقت طلب اور محنت طلب عمل ہے اور اسی وجہ سے بہت سے طلبہ ذہنی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن اس حوالے سے معاون پروگرامز کی عدم موجودگی ایک اضافی مسئلہ ہے۔ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیوں کی تعلیم عملی زندگی سے خاصی دور ہوتی جا رہی ہے۔ برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد طلبہ سے ان کے اہل خانہ کو بڑی توقعات وابستہ ہو جاتی ہیں، لیکن عملی میدان میں وہ ان توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے، جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ پاکستانی یونیورسٹیاں اس سطح کی تحقیق بھی پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں جو عالمی سطح پر ہو رہی ہے۔ تحقیق کے مواقع محدود ہیں، ایجادات نہ ہونے کے برابر ہیں، نئے تجربات نہیں کیے جاتے اور تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کے بجائے دبایا جاتا ہے۔صنعتی اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطے کی کمی بھی نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اس ضمن میں ایسی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے جو صنعت اور تعلیم کے درمیان تعاون کو فروغ دیں۔ مالی وسائل کی کمی کے باعث تحقیقی سہولیات ناپید ہیں، لیبارٹریز یا تو موجود نہیں ہوتیں یا ان کا ساز و سامان پرانا اور ناقابلِ استعمال ہوتا ہے، جس سے جدید تحقیق ممکن نہیں رہتی۔

یونیورسٹیوں کی لائبریریاں بھی ماضی کی عکاسی کرتی نظر آتی ہیں، جو ہمارے تعلیمی اور تحقیقی زوال کی واضح علامت ہیں۔ پاکستانی یونیورسٹیاں دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے لیے ان تمام مسائل کا حل ناگزیر ہے۔ اخلاقی تربیت کا بحران دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، مذہبی رواداری اور برداشت کو فروغ دینا، تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور جدت کو متعارف کروانا ضروری ہے۔ کرپشن اور سیاسی مداخلت کا خاتمہ، فیسوں میں کمی، سیکیورٹی کے مسائل پر توجہ، اور لیبارٹریز، لائبریریوں اور کھیلوں کے میدانوں کو فعال بنانا وہ اقدامات ہیں جن کے ذریعے ہماری نئی نسل تحقیق اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکتی ہے۔