عازمینِ حج کی خدمت میں!

وارفتگانِ عشق کا کارواں سوئے حرم رواں دواں ہے۔ لبیک اللہم لبیک کی صدائیں، کیا فضائیں، کیا سمندر اور کیا خشکی؟ ہر طرف گونج رہی ہیں، خدا کے بندۂ صادق سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کے حکم پر تنہا ہی لبیک کی آواز لگائی تھی لیکن کیسی مقبول تھی یہ آواز جو آج مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پوری دنیا کا احاطہ کئے ہوئی ہے اور ہر طرف سے راہِ محبت کے مسافر کفن لپیٹے ہوئے صحرائے عرب کے ایک چوکور پتھر کے مکان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ سادہ نقشہ کی عمارت قبلۂ نماز بھی ہے، قبلۂ محبت بھی اور قبلۂ احترام بھی۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس سفرسعادت سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔ قابل رشک ہیں وہ ہستیاں جنھیں اس دَر تک حاضری کی سعادت نصیب ہورہی ہے، خوش قسمت ہیں وہ اہل ایمان جو حرمین شریفین کے دیدار سے اپنے دیدۂ چشم کو سجائے ہوئے ہیں اور رب کائنات سے محبت کرنے والوں کی فہرست میں اپنا نام لکھائے ہوئے ہیں۔

لیکن یہ سفر جتنا مبارک ہے اس کے تقاضے بھی اتنے ہی زیادہ ہیں۔ اگر اس سفر کا حق ادا نہیں کیاگیا تو خدا کی طرف سے پکڑ کا اندیشہ بھی اسی قدرہے۔ جو عمل جس قدر اونچا ہوتا ہے، اس میں کوتاہی اسی قدر نقصان بھی پہنچاتی ہے۔ اگر کوئی شخص دو فٹ کی بلندی سے گر جائے تو معمولی چوٹ سے دوچار ہوگا لیکن اگر کوئی شخص دو سو فٹ کی بلندی سے گرے تو جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ اسی لئے مسافران حرم کو چاہیے کہ حج جیسی عبادت کو اس کے پورے حقوق کے ساتھ ادا کریں اور زیادہ سے زیادہ احتیاط کا راستہ اختیار کریں کیونکہ عمر بھر میں ایک ہی بار حج فرض ہے، اس کے بعد اگر آپ کو سفر حج نصیب ہو تو وہ حج نفل ہوگا فرض نہیں ہوگا۔ حج ایسی عبادت ہے جس میں کثیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اور جسمانی مشقت بھی نماز روزہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ‘حج بھی ایک طرح کا جہاد ہے ‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب المناسک، باب الحج جہاد النسائ) نیز بعض روایتوں کے مطابق آپ علیہ السلام نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ حج ان کے لیے جہاد کے درجہ میں ہے۔ لہٰذا جو عبادت اتنے اخراجات اور اتنی مشقت سے کی جا رہی ہے اور جسے آئندہ پھر کبھی بطور فرض کے ادا کرنے کا موقع نہیں ہے، اس میں جس قدر احتیاط سے کام لیا جائے اور مستحبات وآداب کا اہتمام کیا جائے کم ہے، اسی پس منظر میں چند ضروری اُمور کی طرف حج کے لئے جانے والے عازمین کو متوجہ کیا جاتا ہے۔

بعض مسائل وہ ہیں جن میں قرآن و حدیث کے احکام بالکل واضح ہیں، ان میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے نہیں پایاجاتا۔ بعض مسائل میں ایسی تعبیر اختیار کی گئی ہے کہ ایک سے زیادہ رایوں کی گنجائش ہے۔ اس لئے ان میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے کہ دشواری کے وقت علماء اس اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس رائے کو اختیار کر سکتے ہیں جس میں سہولت ہو۔ جیسے دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں تین عمل کرنا ہوتا ہے؛ جمرات پر کنکری مارنا، قربانی کرنا اور بال منڈانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ترتیب سے ان تینوں کاموں کو انجام دیا ہے۔ بعض صحابہ اس ترتیب کو باقی نہیں رکھ سکے اور انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صورتحال عرض کی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم) اب حرج نہ ہونے کا دو مطلب ہوسکتا ہے: ایک یہ کہ اس میں کوئی دم واجب نہ ہوگا، گویا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیوی حرج کو دور فرمایا۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ آخرت میں اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، یعنی اخروی حرج کی نفی کی گئی۔ اب بعض فقہاء نے پہلا معنی مراد لیا اور انھوں نے کہا کہ دسویں تاریخ کے ان تینوں افعال میں ترتیب واجب نہیں اور کوئی شخص ترتیب کی رعایت نہ کر پائے تو دم واجب نہ ہوگا۔ امام ابوحنیفہ نے دوسرا معنی مراد لیا۔ یعنی ترتیب واجب تو ہے اور اس کی رعایت نہ کرنے پر دم بھی واجب ہوگا لیکن گناہ نہیں ہوگا۔ آج کل اژدہام کی کثرت، شرعی احکام سے ناواقفیت، لوگوں کی قیام گاہ سے قربان گاہ کی دوری کے باعث اس ترتیب کو باقی رکھنے میں قابل لحاظ مشقت ہوتی ہے، اس لیے موجودہ دور کے علماء ہند کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ سلف صالحین کے اختلاف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی رائے پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔

مگر ایسے مسائل میں جہاں تک ممکن ہو بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس رائے میں زیادہ احتیاط ہو اس پر عمل کیا جائے تاکہ حج جیسی عبادت کی ادائیگی ہر شک و شبہ سے بالاتر ہو جائے۔ اسی کی ایک مثال عمرہ اور حج کے افعال مکمل ہونے کے بعد بال کٹانے کی ہے۔ امام شافعی کے نزدیک محض تین بال کا کاٹ لینا بھی کافی ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک کم از کم چوتھائی حصہ کے بال کا کٹانا ضروری ہے۔ امام مالک کے نزدیک پورے سر کا منڈانا یا کٹانا ضروری ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے سر کا بال منڈایا ہے۔ پہلے دونوں نقطہ نظر کے حاملین آپ علیہ السلام کے اس عمل کو استحباب کے درجہ میں رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں احتیاط پورے سر کا بال منڈانے یا کٹانے میں ہے، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل رہا ہے اور اس کے درست بلکہ کم سے کم افضل ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں۔ اس لیے اگرکسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہو اور ارباب افتاء نے لوگوں کی مشکلات پر نظر کرتے ہوئے آسان رائے پر عمل کرنے کی گنجائش نکالی ہو تو اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے اور اگر آپ کا کوئی ساتھی اس رائے پر عمل کر رہا ہو تو اس کو خطا کار یا حقیر سمجھنا قطعاً غلط ہے، کیو نکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اُمت کے لیے آسانی کے پہلو کو اختیار کرتے تھے لیکن کوشش بہرحال ایسی رائے پر عمل کرنے کی ہونی چاہیے جس میں احتیاط کا پہلو ہو اور جس پر عمل کرکے انسان اختلاف سے بچ سکتا ہو۔

یہ بات اس لئے اہم ہے کہ حج کے درمیان بعض لوگ حاجیوں کو اختلافی مسائل میں کسی معقول ضرورت کے بغیر ایسے عمل کا مشورہ دیتے ہیں جو جمہور فقہاء کے نزدیک درست نہیں۔ اس لئے مسائل ان علماء اور ارباب افتاء سے معلوم کرنا چاہیے جن کے علم و فضل پر آپ کو تجربہ کی بنیاد پر اعتماد ہو، نہ یہ کہ ہر مسئلہ بتانے والے کی بات کو قبول کرتے چلے جائیں۔ عبادتوں کا مقصد اپنی خواہش پر اللہ کی خوشنودی کو غالب کرنا ہے۔ اگر وہا ں بھی انسان اپنی خواہش کا غلام بنا رہے تو یہ افسوس کی بات ہے۔ بہت سے موقعوں پر اس کی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ جیسے حج میں بال کا منڈانا بھی جائز ہے اور کٹانا بھی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار بال منڈانے والوں کے حق میں رحمت خداوندی کی دعا کی ہے اور ایک بار بال کٹانے والے کے حق میں۔ (مسلم: عن عبد اللہ بن عمر) یقینا ہر مسلمان کی آرزو ہوتی ہے کہ ایک دفعہ کے بجائے تین دفعہ اپنے آقا کی دعا پائے لیکن بعض نوجوانوں پر بال کی محبت اس قدر غالب ہوتی ہے کہ حج جیسے مبارک موقع پر بھی وہ اپنی اس چاہت کو قربان کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ حج جیسی عبادت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اس میں خالص حلال مال خرچ ہو، مال حرام کی آمیزش نہ ہو، جہاں سود اور قمار کے ذریعہ حاصل ہونے والا پیسہ حرام ہے، وہیں رشوت، جبری وصولی اور ناجائز قبضہ وغیرہ کے ذریعہ بھی حاصل ہونے والے مال سے حج کرنا درست نہیں۔ اگر کسی شخص نے ایسے مال سے حج کیا تو گو فریضۂ حج ادا ہو جائے گا لیکن اس کی عبادت اللہ کے نزدیک مقبول نہ ہوگی۔ (ردالمحتار)

اس لیے حج کے لیے حلال مال کے استعمال کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، نیز حرام سے توبہ کرنی چاہیے اور توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو مالِ حرام متعین طور پر اس کے پاس موجود ہو اُسے بلانیت ثواب صدقہ کر دے۔

افسوس کہ حج میں بعض دفعہ فرائض و واجبات کا بھی لحاظ نہیں رکھا جاتا، بعض حضرات فجر کی نماز چھوڑ دیتے ہیں؛ حالاںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کفر و شرک اور ایمان کے درمیان نماز کا ترک کرنا معیار ہے: بین الرجل وبین الشرک والکفر ترک الصلاہ (مسلم ) اسی طرح بعض حضرات حرمین شریفین میں رہنے کے باوجود جماعت کا اہتمام نہیں کرتے ؛ حالاںکہ جو لوگ مسافر نہ ہوں، ان کے حق میں جماعت واجب ہے، رسول اللہۖ نے ان پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ ان کے گھروں کو نذر آتش کردوں، (ابودائود) ایسی وعیدوں کا کوئی شخص حرم شریف جیسی مبارک جگہ میں مستحق قرار پائے تو اس کی حرماں نصیبی کی بھی کوئی انتہا ہوگی؟ اس لئے حجاج مرد و خواتین کو نمازوں کا اور انھیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے۔ (جاری ہے)