نیویارک/غزہ/بیروت:غزہ کی وزارت صحت نے اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تازہ یومیہ رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 4 افراد شہید، 15 زخمی ہوئے۔
وزارت صحت کے مطابق گزشتہ حملوں میں شہید ہونے والے ایک شخص کی لاش بھی ملبے سے نکال لی گئی۔عرب میڈیا کے مطابق اکتوبر 2025ء سے اب تک 850 افراد شہید، 2 ہزار 433 زخمی ہوئے، شہدا کی مجموعی تعداد 72 ہزار 736 ہوگئی، 1 لاکھ 72 ہزار 535 افراد زخمی ہو چکے۔
ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں ہزاروں شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار نے ہفتہ کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں وضاحت کی ہے کہ2025ء کے آغاز سے اب تک لگ بھگ 40 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے زبردستی نکال دیا گیا ہے جو ان پر ڈالے گئے شدید دباؤ اور گھروں کی مسماری کی بڑھتی ہوئی لہر کا نتیجہ ہے۔
رواں ماہ مئی کے پہلے ہفتے میں فلسطینی وجود کو مٹانے کی صہیونی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی جس کے دوران عالمی ادارے نے مزید 42 شہریوں کی جبری نقل مکانی کو دستاویزی شکل دی ہے۔
اس مختصر عرصے میں بے گھر ہونے والوں میں 24 بچے بھی شامل ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فلسطینی خاندانوں کو دہشت زدہ کرنے اور ان کے سماجی و معاشی استحکام کو تباہ کرنے کی منظم پالیسی کے تحت کمزور ترین طبقات کو براہ راست نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور دیہاتوں میں مسلح آباد کاروں کے حملے روزمرہ کا ایک سنگین خطرہ بن چکے ہیں اور یہ حملے قابض اسرائیلی فوج کی براہ راست سرپرستی اور تحفظ میں کیے جاتے ہیں۔
ان مظالم میں املاک کی توڑ پھوڑ اورجسمانی تشدد سے لے کر ان مکانات اور حیاتیاتی تنصیبات کی مسماری تک شامل ہے جن پر فلسطینی خاندانوں کی بنیادی زندگی اور معاش کا انحصار ہے۔
فرحان حق نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام اقدامات ایک تزویراتی منصوبے کا حصہ ہیں جس کے ذریعے فلسطینیوں کو اس علاقے کے اصل باشندوں کی حیثیت سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مقبوضہ علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی حقائق کو تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ان پالیسیوں کا تسلسل ان بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو فوجی قبضے کے تحت رہنے والی آبادی کی جبری منتقلی کو سختی سے ممنوع قراردیتے ہیں۔
ادھرغزہ میں وزارت صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر جہاں دنیا بھر میں اس مرض سے بچاؤ کی شعوری مہم چلائی جا رہی ہے، وہاں غزہ کی پٹی میں تھیلیسیمیا کے مریض طبی نظام کی تباہی اور قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے باعث انتہائی تشویشناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ہفتہ کے روز جاری بیان میں وزارت نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات نے مریضوں کی زندگی کو دہری اذیت میں مبتلا کردیا ہے، جہاں مخصوص ادویات کی عدم دستیابی، لیبارٹری ٹیسٹوں کے سامان کی قلت اور خون کی بوتلوں کے شدید بحران نے ان کے علاج کو بقا کی روزانہ کی ایک تلخ جنگ میں بدل دیا ہے۔
وزارت صحت کے ریکارڈ کے مطابق جارحیت کے دورانیے میں کل 334 مریضوں میں سے 50 مریض اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 47 مریض علاج کی تلاش میں غزہ کی پٹی سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ یہاں علاج کے مواقع مکمل طور پر دم توڑ چکے ہیں۔
بیان کے مطابق اس وقت غزہ میں تھیلیسیمیا کے 237 مریض موجود ہیں جن میں 12 سال سے کم عمر کے 52 بچے اور 185 بالغ مریض شامل ہیں جو مختلف عمر کے گروہوں پر قابض دشمن کی نسل کشی کے نتیجے میں پڑنے والے مسلسل طبی بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔
وزارت صحت نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل کی جانب سے لیبارٹریوں کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور طبی آلات کی عدم موجودگی نے احتیاطی، تشخیصی اور معالجاتی ٹیسٹوں کے عمل کو ناممکن بنا دیا ہے جس سے نہ صرف نئے کیسز کے چھپے رہنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے بلکہ گذشتہ کئی برسوں سے مرض کی روک تھام کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں بھی خاک میں مل رہی ہیں۔
دوسری جانب غزہ کی پٹی کے محصورین کی زندگی جہنم بن گئی ہے جہاں کوکنگ گیس کے شدید بحران اور انسانی امداد کی بندش نے ایک نیا انسانی المیہ جنم دے دیا ہے۔ اکتوبر 2025ء سے جاری جنگ بندی کے اعلان اور انسانی پروٹوکول کے معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
ان لرزہ خیز حالات میں خیموں میں پناہ گزین ہزاروں خاندان اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کپڑے، پلاسٹک اور کوڑا کرکٹ جلا کر آگ دہکانے اور کھانا تیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔قابض اسرائیل کی جانب سے ایندھن اور کوکنگ گیس کی سپلائی میں انتہائی مجرمانہ رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں اور ضرورت کے برعکس ان اشیاء کو قطرہ قطرہ کر کے فراہم کیا جا رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کے باسیوں نے ابتدا میں لکڑی کو متبادل کے طور پر استعمال کیا تھا لیکن اب لکڑی کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایک کلو لکڑی کی قیمت 3 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جو ان خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہے جو گذشتہ طویل عرصے سے جاری نسل کشی اور سفاکیت کے نتیجے میں اپنے روزگار اور ذرائع آمدن گنواچکے ہیں۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایندھن کے لیے لکڑیوں کی تلاش بھی اب موت کے سائے میں ہوتی ہے۔ مجبور شہری مشرقی سرحدی علاقوں کا رخ کرتے ہیں جو قابض اسرائیلی فوج کی چوکیوں کے قریب ہیں جہاں ہر وقت منڈلاتے ڈرونز اور دشمن کی گولیوں کا نشانہ بننے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
مجبور و بے بس خاندانوں کی حالت زار اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ نائیلون، کپڑا اور پلاسٹک جلا کر آگ جلاتے ہیں جس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں بوڑھوں اور بیماروں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
ایک پناہ گزین ابو بلال نے اپنی المناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کو گذشتہ دو ماہ سے کوکنگ گیس کا ایک قطرہ تک میسر نہیں آیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم سارا دن لکڑی کا ٹکڑا یا نائیلون کا ذرہ تلاش کرنے میں گزار دیتے ہیں تاکہ زندگی کی رمق باقی رہ سکے۔
ان کے بقول ایک وقت کا کھانا تیار کرنے کے لیے کئی کلو لکڑی درکار ہوتی ہے جس پر روزانہ 30 سے 40 شیکل کا خرچہ آتا ہے جو موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔
دریں اثناء قابض اسرائیلی افواج نے ہفتہ کے روز علی الصبح مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر یلغار کرتے ہوئے گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد فلسطینی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی دستوں نے قلقیلیہ کے شمال مشرق میں واقع قصبے جیوس پر دھاوا بولا اور فوجی حصار کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لے کر گرفتاریوں کا عمل مکمل کیا۔
اسی طرح قابض افواج نے جنین شہر اور اس کے گردونواح میں غیر معمولی فوجی نقل و حرکت کے ساتھ شہر کے علاقے جبل ابو ظہیر پر بھی یلغار کی۔سلفیت گورنری میں قابض اسرائیلی فوج نے مغربی علاقے میں واقع قصبے بدیا میں گھس کر خوف و ہراس پھیلایا۔
نابلس شہر میں قابض صہیونی دستوں نے مشرقی علاقے پر دھاوا بولا اور مختلف محلوں میں اپنی فوجی نفری تعینات کر دی۔الخلیل میں قابض اسرائیلی فوج نے مغربی قصبے ترقومیا پر یلغار کی جہاں متعدد گھروں کی حرمت کو پامال کیا گیا جبکہ ایک اور فوجی دستے نے یطا کے مشرقی علاقے تل ماعین میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر متعدد اہل خانہ کو حراست میں لے لیا۔
رام اللہ میں قابض صہیونی ریاست کی پشت پناہی حاصل کرنے والے شرپسند آبادکاروں نے شہر کے مشرقی گاؤں طیبہ کے قریب کرامیلو چوراہے پر ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔علاوہ ازیں قابض اسرائیلی دستوں نے البیرہ شہر پر بھی دھاوا بولا اور مختلف محلوں میں فوجی گشت کیا۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی افواج نے ہفتہ کے روز غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل 212 ویں دن بھی خلاف ورزی جاری رکھی اور پٹی کے کئی علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری، فائرنگ اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ برقرار رکھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کے ٹینکوں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کی جبکہ اسی دوران شہر کے دیگر علاقوں میں توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے خان یونس شہر کے مغرب میں سمندر سے فائرنگ کی۔ علی الصبح قابض فوج کے توپ خانے نے بریدج کیمپ کے مشرق اور غزہ شہر پر بھی گولے برسائے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے شاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی گھر پر فضائی حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں بچوں سمیت چھ فلسطینی زخمی ہوگئے ۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے سے قبل اسرائیلی فوج کی جانب سے علاقے کو خالی کرنے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد مغربی غزہ سٹی میں واقع گھر پر بمباری کی گئی۔عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جبکہ حملے میں گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور آس پاس کے کئی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
ادھر اسلامی ممالک کی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کو آگے بڑھانے کیلئے فوری عالمی اقدامات کا مطالبہ کر دیا۔اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس کے دوران او آئی سی کی جانب سے بیان دیتے ہوئے ترکیے کے اقوام متحدہ میں سفیر نے کہا کہ مسلسل تشدد اور سیاسی تعطل کے باعث فلسطین کا مسئلہ ایک نازک مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔
فلسطین کے مسئلے اور مشرق وسطیٰ کے بحرانوں کے حل کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ اس کے عالمی امن اور سلامتی پر وسیع اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔
ادھرشمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں العصاعصہ میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے جہاں قابض اسرائیلی فوج کی براہ راست حمایت اور تحفظ میں انتہا پسند آباد کاروں نے ایک سوگوار فلسطینی خاندان کو اپنے پیارے کی میت قبر سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور کر دیاگیا۔
عبرانی اخبار معاریو نے ہفتہ کے روز اس لرزہ خیز واقعے کی تصدیق کی ہے۔اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ ایک فوجی عہدیدار نے مطالبہ کیا ہے کہ ان آباد کاروں کے خلاف پولیس تحقیقات ہونی چاہئیں جنہوں نے اس گھناؤنے فعل میں حصہ لیا۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری ہے اور تازہ فضائی حملوں میں مزید31 افرادجاں بحق ہوگئے۔لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں مارے جانیوالوں میںایک ریسیکو اہلکار بھی شامل ہے۔
یہ 2ٍ مارچ سے اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد کے سب سے ہلاکت خیز دنوں میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ٹائر ضلع کے قصبے تورا پر ہونے والے 2 فضائی حملوں میں مارے گئے 5 افراد بھی شامل ہیں۔
ملبے تلے دبی ایک لاپتا بچی کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔اسی طرح اسرائیلی فوج کے ڈرون نے سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سول ڈیفنس کا ایک اہلکارجاں بحق ہوا۔
اس کے علاوہ بنت جبیل کے دیہات میں فضائی حملوں میں 5 افرادجاں بحقہوئے جبکہ قصبے السلطانیہ پر ایک حملے میں مزید 4افراد جان سے گئے۔ادھراسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد دیہاتوں کے رہائشیوں کو حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے پیشِ نظر علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویخائے ادرعی نے ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باعث اسرائیلی فوج اس کے خلاف کارروائی کرنے پر مجبور ہے۔انھوں نے رہائشیوں کو دیہاتوں اور قصبوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور جانے کا کہا ہے۔

