غزہ/نیویارک:غزہ پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے تقریباً 200 دن بعد اب ایک نئی اصطلاح ”اورنج لائن” سامنے آئی ہے۔
یہ لائن اس یلو لائن سے بھی آگے نکل گئی ہے جس کا ذکر 10 اکتوبر2025ء سے نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے میں کیا گیا تھا۔ایک مغربی سفارت کار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے زیر کنٹرول مزید علاقے چھین لیے ہیں۔
اخبار اسرائیل ہیوم کی رپورٹ کے مطابق سفارت کار نے اشارہ دیا کہ حالیہ میدانی پیش رفت کے نتیجے میں اب اورنج لائن نے یلو لائن کی جگہ لے لی ہے۔
سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ یہ توسیع نام نہاد امن کونسل کے علم میں لائی گئی ہے اور یہ قدم حماس کی جانب سے اسلحہ سے دستبرداری کے وعدے کو پورا نہ کرنے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
معاہدے کے مطابق ”یلو لائن” مشرق میں اسرائیلی فوج کے کنٹرول والے علاقوں اور مغرب میں فلسطینیوں کی موجودگی والے علاقوں کو الگ کرتی ہے جو کہ پٹی کے کل رقبے کے تقریباً 53 فیصد حصے پر محیط ہے۔
حماس کے رہنما باسم نعیم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے یلو لائن کو مغربی علاقوں کی طرف مزید 8 سے 9 فیصد تک دھکیل دیا ہے جس سے اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول کل رقبہ غزہ کے 60 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کہاکہ اسرائیل نے اورنج لائن قائم کر کے غزہ کی پٹی میں اپنے قبضے کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ لائن اس یلو لائن کے اندر بنائی گئی ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025ء میں جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے کے طور پر انخلا کیا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ انسانی امدادی ٹیموں کے لیے اورنج لائن عبور کرتے وقت اسرائیل کے ساتھ پہلے سے کوآرڈینیشن کرنا ضروری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ مطالبہ اس بات کا اشارہ ہے کہ جو علاقے ہمارے لیے غیر محفوظ سمجھے جاتے ہیں وہ تشویش کا باعث ہیں۔
ادھر فلسطینی تاریخ کے دو سیاہ ترین ابواب کا موازنہ کرتے ہوئے ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق1948 ء کے المیہ ”نکبہ” (عظیم تباہی) سے لے کر موجودہ دور میں جاری غزہ کی نسل کشی تک فلسطینیوں کی نسل در نسل بیدخلی اور قتلِ عام کا سلسلہ 78 سال بعد بھی تھم نہیں سکا ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ موجودہ جارحیت نے شہادتوں اور بیدخلی کے لحاظ سے 1948ء کے تاریخی مظالم کو بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 15 مئی 1948ء کو تاریخی فلسطینی سرزمین کے 85 فیصد سے زائد حصے (تقریباً 27,000 مربع کلومیٹر اراضی) پر اسرائیل کا قیام عمل میں لایا گیا تھاجسے فلسطینی ”نکبہ”یعنی عظیم تباہی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
اس دور میں جہاں 14 لاکھ کے قریب فلسطینیوں کو اپنی آبائی زمینوں سے بیدخل کیا گیا، 531 دیہات و قصبے صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور 15,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا گیا، وہیں گزشتہ ڈھائی سال سے جاری غزہ کی نسل کشی نے تباہی کی نئی داستان رقم کر دی ہے۔
جاری کردہ تقابلی رپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کے دوران اب تک غزہ کی پٹی کی 20 لاکھ (2 ملین) سے زائد آبادی کو زبردستی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جا چکا ہے جو کہ 1948ء کے نکبہ کی نسبت دگنی تعداد ہے۔
اس کے علاوہ جاری نسل کشی میں اب تک 72,601 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں جبکہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 102,000 سے زائد رہائشی و کاروباری عمارتیں مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہیں۔
عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال 1948ء کے ”نکبہ” کا تسلسل ہے، جہاں ایک بار پھر منظم طریقے سے ایک پوری قوم کو ان کی سرزمین سے بے دخل اور مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔جمعرات کی صبح شمالی غزہ میں جبالیا بلدہ کی قدیم غزہ اسٹریٹ پر قابض اسرائیل کے کواڈ کاپٹر ڈرون سے گرائے گئے بم کے نتیجے میں ایک شہری زخمی ہو گیا۔
شمالی غزہ میں قابض اسرائیل کے توپ خانے نے جبالیا کیمپ اور بیت لاہیہ شہر کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جبکہ خان یونس کے مشرقی علاقوں میں علی الصبح سے فوجی گاڑیوں سے شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خان یونس کے مشرق اور وسطی قطاع میں البریج کیمپ کے مشرقی حصوں میں قابض دشمن کی گاڑیوں سے گولہ باری اور فائرنگ کی گئی جس سے شہریوں کے گھروں اور پناہ گاہوں کے گرد و نواح کو نقصان پہنچا ہے۔
اسی تناظر میں شمالی غزہ میں بیت لاہیہ پراجیکٹ کے علاقے سکافی میں قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں نے دراندازی کی جس کے ساتھ ہی شہری گھروں اور بے گھر افراد کی بستیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔
علاوہ ازیں قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں میں متعدد مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جو کہ غزہ میں رہائشی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی ان کی جاری سفاکیت کا حصہ ہے۔عرب میڈیا کے مطابق سلفیت، بیت لحم، الخلیل اور نابلس میں اسرائیلی فوج نے متعدد گھروں پر چھاپے مارے جبکہ فلسطینی شہریوں اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رام اللہ کے علاقے سنجل میں اسرائیلی قابضین نے فلسطینی شہریوں پر پتھرائو اور فائرنگ کی، ساتھ ہی مقامی افراد کی بھیڑیں بھی چرا لیں، مزاحمت کرنے پر اسرائیلی فوجیوں نے 16 سالہ فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔
علاوہ ازیںمقبوضہ القدس پر غاصبانہ قبضے کی 59 ویں عبرانی برسی کے موقع پر قابض اسرائیل کی جانب سے ایسی سازشوں کے حوالے سے فلسطینیوں کی جانب سے شدید انتباہات جاری کیے جا رہے ہیں جنہیں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی خطرناک ترین کوششیں قرار دیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال میں ایسے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ قابض حکومت اور ہیکل تنظیمیں مسجد اقصیٰ کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کے درپے ہیں جس میں 1967ء کے بعد پہلی بار جمعہ کے روز مسجد پر دھاوا بولنا اور قبلہ اول پر زمانی و مکانی قبضے کے دائرہ کار کو وسعت دینا شامل ہے۔
ایک ہنگامی پکار میں ” القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن” نے خبردار کیا ہے کہ 14 اور 15 مئی (جمعرات اور جمعہ) کے ایام مسجد اقصیٰ کے خلاف ایک بے مثال جارحیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق قابض دشمن جاری جنگ اور مسلسل سفاکیت کے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد کے اندر تاریخی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ قابض حکام کو انتہا پسند دائیں بازو کے وزراء اور سیاسی شخصیات کی مکمل حمایت حاصل ہے جو تین مرحلہ وار اہداف پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا آغاز بڑے پیمانے پر دھائووں، تلمودی رسومات کی ادائیگی اور مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں اسرائیلی جھنڈے لہرانے سے ہوگا، جس کا حتمی مقصد جمعہ کے روز دھاوا بولنے کی روایت ڈالنا ہے۔
فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق سب سے خطرناک منصوبہ جمعہ کے روز آباد کاروں کا دھاوا مسلط کرنے کی کوشش ہے جو القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک کی تاریخ میں ایک ایسی مثال ہوگی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
محکمہ اوقاف اسلامی کا کہنا ہے کہ انتہا پسند آباد کاروں کے گروہوں نے باب المغاربہ کی سمت سے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولا اور اس کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں جن میں مسجد کے مشرقی حصے میں باب الرحمہ کے قریب ”سجدہ ملحمی” کہلانے والی اشتعال انگیز رسم بھی شامل ہے۔
اوقاف نے مزید بتایا کہ اسرائیلی کنیسٹ کے رکن ایریل کیلنر نے بھی صبح کے وقت مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے ان گروہوں کی قیادت میں شرکت کی۔اس کے ساتھ ہی قابض پولیس نے فلسطینیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کر دیں جن میں باریک بینی سے تلاشی اور بیرونی دروازوں پر شناختی کارڈز کی ضبطگی شامل ہے تاکہ نمازیوں کی مسجد تک رسائی کو محدود کیا جا سکے۔
مسجد پر یہ دھاوے مقبوضہ القدس کی سڑکوں اور محلوں میں جاری ”پرچم مارچ” کے ساتھ ساتھ کیے جا رہے ہیں جہاں سینکڑوں آباد کار ”یروشلم کے اتحاد” کا نام نہاد جشن مناتے ہوئے رقص کررہے ہیں اور اشتعال انگیز گیت گا رہے ہیں۔
ادھر حماس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجرم قابض صہیونی دشمن اور اس کے آباد کاروں کی جارحیت، مسجد اقصیٰ پر ان کے دھاوے اور القدس میں منظم کیے جانے والے نام نہاد پرچم مارچ ہماری مقدس سرزمین کی شناخت بدلنے کی ناکام سازشوں کا تسلسل ہیں۔
حماس نے واضح کیا کہ یہ زمین فلسطینی، عرب اور اسلامی ہی رہے گی، چاہے قابض دشمن اپنی سفاکیت اور یہود سازی کے مذموم منصوبوں میں کتنا ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دہشت گرد قابض دشمن، چاہے اپنے اقدامات، دھائوں اور اہل قدس و مرابطین پر تنگیوں میں کتنا ہی اضافہ کیوں نہ کر لے ہمارے عوام کے دلوں سے القدس اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت اور ان کی علامتی اہمیت کو کبھی ختم نہیں کر سکے گا۔
غزہ کی پٹی میں وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ نسل کشی کی ہولناک جنگ کے گذشتہ 3 برسوں کے دوران قطاع کے 10 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
وزارت اوقاف نے بتایا کہ ان محروم کیے جانے والے افراد میں سے 71 خوش نصیب ایسے تھے جو سفر کے انتظار میں ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے، جبکہ قابض دشمن کی جانب سے سرحدوں کی بندش اور وحشیانہ جنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
ان خیالات کا اظہار وزارت کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر امیر ابو العمرن نے وسطی قطاع غزہ کے شہر دیر البلح میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔انہوں نے نسل کشی کی جنگ اور گزرگاہوں کی بندش کے باعث فلسطینیوں کو مناسک حج سے محروم رکھنے کے المناک اثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
ابو العمرن نے کہا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران حج سے محروم رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ غزہ کا سالانہ حج کوٹہ تقریباً 2508 حاجیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ کے 2473 فلسطینی ایسے تھے جو 2013ء سے حج قرعہ اندازی میں کامیاب ہو چکے تھے اور اپنے سفر کے منتظر تھے، ان میں سے 71 افراد فریضہ حج کی ادائیگی سے قبل ہی وفات پا گئے جبکہ 2402 دیگر افراد آج تک سفر سے محروم ہیں۔
ادھرقابض اسرائیلی اعداد و شمار نے 2023ء سے اسرائیلی جیلوں کے اندر تنہائی میں قیدکوٹھڑیوں میں ڈالے جانے والے فلسطینی اسیران اور اسیرات، بالخصوص کمسن بچوں کی تعداد میں ہولناک اضافے کا انکشاف کیا ہے۔
ایسوسی ایشن برائے ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت قابض اسیران کی انتظامیہ سے حاصل کیے گئے ہیں، تنہائی میں قید کیے جانے والے کمسن اسیران کی تعداد2022ء میں صرف ایک تھی جو2023ء میں بڑھ کر 50 ہوگئی اور پھر2024ء میں یہ تعداد 290 کمسن اسیران تک جا پہنچی ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تنہائی میں قید کیے جانے والے بالغ فلسطینی اسیران کی تعداد2024ء میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تین گنا بڑھ کر 4493 تک پہنچ گئی ہے جبکہ تنہائی میں رکھی جانے والی اسیرات کی تعداد2022ء میں 2 سے بڑھ کر 2024ء میں 25 ہوگئی ہے۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ تنہائی میں قید کو دو اقسام میں تقسیم کرتی ہے۔ایک تادیبی تنہائی جو باضابطہ طور پر 14 دن تک ہوتی ہے اور دوسری روک تھام والی تنہائی جو چھ ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔
اخبار ہارٹز کے مطابق درج شدہ زیادہ تر کیسز تادیبی تنہائی کے زمرے میں آتے ہیں لیکن اسے اجتماعی سزا کے طور پر نافذ کیا جاتا ہے۔تنہائی میں قید رکھنا سخت ترین سزاؤں کی ایک شکل ہے جو تشدد کے درجے تک پہنچ جاتی ہے، ماہرین نے اسیران پر اس کے سنگین نفسیاتی اور جسمانی اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

