رپورٹ: ابو صوفیہ چترالی
ترکیہ نے استنبول میں جاری یورپی تاریخ کی سب سے بڑی دفاعی نمائش میں ایک ایسا ہتھیار سامنے لایا ہے جس کی دنیا بھر میں دھوم مچ گئی ہے، جبکہ اس نمائش میں رکھے گئے ترکیہ کے دیگر جدید ترین ہتھیاروں نے بھی عالمی دفاعی منظرنامے کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ترکیہ نے اپنے پہلے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل’یلدریم خان‘ کو باضابطہ طور پر SAHA 2026 ءنمائش میں پیش کیا۔ استنبول میں ہونے والی یہ نمائش نہ صرف ترکیہ کی سب سے بڑی دفاعی نمائش سمجھی جاتی ہے بلکہ اسے یوریشیا کی اہم ترین عسکری ٹیکنالوجی نمائشوں میں شمار کیا جارہا ہے جہاں 120 ممالک کی 1700 کمپنیاں شریک ہیں جبکہ درجنوں ممالک کے فوجی وفود اور پالیسی ساز بھی شریک ہیں۔ توقع ہے کہ 2 لاکھ افراد اس نمائش کا وزٹ کریں گے۔ یہ میزائل نمائش میں محض ایک ہتھیار کے طور پر نہیں بلکہ ایک ’مرکزی علامت‘ کے طور پر پیش کیا گیا یعنی ترکی کی بدلتی ہوئی عسکری سوچ، اس کی خودمختاری اور اس کے اسٹرٹیجک عزائم کا اظہار۔ نمائش کے دوران میزائل کو وزارتِ دفاع کے مرکزی اسٹال پر نمایاں طور پر رکھا گیا جہاں اسے ترکیہ کی دفاعی صنعت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کیا گیا۔ اس اعلان کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے چند سال پیچھے جانا ضروری ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان طویل عرصے سے یہ کہتے آ رہے تھے کہ ترکیہ ایک ایسے خفیہ میزائل پروگرام پر کام کررہا ہے جس کے بارے میں دنیا کو علم نہیں۔ ان کے بیانات میں بارہا ’طویل فاصلے کے میزائل‘ اور ’خودمختار دفاعی طاقت‘ کا ذکر آتا رہا۔ اس وقت ان دعووں کو عمومی سیاسی بیان سمجھا گیا مگر ’یلدریم خان‘ کی رونمائی نے ثابت کر دیا کہ یہ منصوبہ برسوں سے خاموشی کے ساتھ جاری تھا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ پروگرام کم از کم ایک دہائی پر محیط تحقیق، تجربات اور ٹیکنالوجیکل ترقی کا نتیجہ ہے۔ ترکش ٹو ڈے کے مطابق ’یلدریم خان‘ کو ترکیہ کے قومی وزارتِ دفاع کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر نے تیار کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہتھیار ہے، نہ کہ کسی بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے والا نظام۔ یہی پہلو اسے محض ایک میزائل سے بڑھا کر ’خودمختار دفاعی صلاحیت‘ کا مظہر بناتا ہے۔ تکنیکی لحاظ سے یہ میزائل ترکیہ کی اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی رینج تقریباً 6000 کلومیٹر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ یورپ کے بڑے حصے، ایشیا کے وسیع علاقوں اور افریقہ تک بآسانی پہنچ سکتا ہے۔ اس کی رفتار ماخ 9 سے لے کر ماخ 25 تک بتائی گئی ہے جو اسے ہائپرسونک زمرے میں شامل کرتی ہے۔ یعنی آواز سے بھی کئی گنا زیادہ تیز رفتار۔ اس میزائل کی سب سے اہم تکنیکی خصوصیات میں درج ذیل باتیں شامل ہیں:
٭….چار طاقتور راکٹ انجن جو اسے مرحلہ وار رفتار فراہم کرتے ہیں۔
٭….مائع ایندھن (خاص طور پر نائٹروجن ٹیٹرا آکسائیڈ) کا استعمال۔
٭….تقریباً 3000 کلوگرام تک وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت۔
٭….ہائپرسونک رفتار جو اسے موجودہ میزائل دفاعی نظاموں کے لیے انتہائی مشکل ہدف بناتی ہے۔ یعنی فضائی دفاعی سسٹم اسے ناکارہ نہیں بنا سکتا۔
یہ خصوصیات اسے محض ایک بیلسٹک میزائل نہیں بلکہ ایک ’اسٹرٹیجک ڈیٹرنس پلیٹ فارم‘ بناتی ہیں۔استنبول میں جاری SAHA 2026ءکی نمائش خود بھی غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ اس نمائش میں صرف ایک میزائل نہیں بلکہ مکمل دفاعی ایکو سسٹم پیش کیا گیا۔ ترک کمپنیوں نے اس موقع پر جدید ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز، سمندری خودکش ہتھیار، ایئرڈیفنس سسٹمز، الیکٹرانک وارفیئر اور جیمنگ ٹیکنالوجی، طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے انجن جیسے نظام پیش کیے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ ترکیہ ایک مکمل دفاعی ڈھانچہ تیار کررہا ہے۔ اسی نمائش کے دوران ’اسٹیل ڈوم‘ نامی ایک ملٹی لیئر ایئر ڈیفنس سسٹم پر بھی پیش رفت سامنے آئی جس میں سینکڑوں اجزاءتیار کیے جارہے ہیں اور اسے اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسے نظام کے مقابلے پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یلدریم خان کسی ایک ہتھیار کا نام نہیں بلکہ ایک وسیع اسٹرٹیجک وژن کا حصہ ہے، ایک ایسا وژن جس میں ترکیہ نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ بازدار قوت بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔عسکری ماہرین کے مطابق اس میزائل کی سب سے بڑی اہمیت ‘’یٹرنس‘ میں ہے۔ یعنی اس کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ دشمن کو جنگ سے روکنا ہے۔ تاہم ترک وزیر دفاع یسار گولر نے بھی واضح کیا کہ ترکیہ اسے بنیادی طور پر دفاعی قوت کے طور پر استعمال کرے گا لیکن اگر ضرورت پڑی تو اس کے استعمال میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔ یہ دراصل ایک واضح پیغام ہے خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو خطے میں اپنی عسکری برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
عالمی سطح پر اس میزائل نے خاصی تشویش پیدا کی ہے۔ اسرائیل جیسے ممالک جو پہلے ہی میزائل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں اب ایک نئے چیلنج سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ہائپرسونک رفتار کے باعث ایسے میزائل روایتی دفاعی نظاموں کو غیرمو¿ثر بنا سکتے ہیں جس سے طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یورپ کے لیے بھی یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ ترکیہ اب صرف نیٹو پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ اپنی آزاد عسکری صلاحیت کے ذریعے بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور دیگر طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں یہ میزائل ایک نئی دوڑ کا آغاز بھی کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یلدریم خان ترکیہ کو اس کلب کے قریب لے آتا ہے جہاں صرف چند بڑی طاقتیں شامل ہیں، جیسے امریکا، روس اور چین جو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل رکھتے ہیں۔ اگرچہ اس کی 6000 کلومیٹر رینج اسے مکمل کلاسیکل ICBM کی اعلیٰ ترین سطح پر نہیں لے جاتی مگر یہ واضح طور پر اس سمت میں ایک بڑا قدم ہے اور مستقبل میں مزید ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ ترکیہ نے گزشتہ دہائی میں دفاعی برآمدات کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے۔ ڈرونز کے بعد اب میزائل ٹیکنالوجی بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ بن چکی ہے جس سے ترکیہ عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک بڑا کھلاڑی بن سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول یلدریم خان صرف ایک ہتھیار نہیں بلکہ ایک اعلان ہے، ایک ایسا اعلان جو یہ بتاتا ہے کہ ترکیہ اب دفاعی پوزیشن تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل اسٹرٹیجک طاقت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ میزائل اس بات کی علامت ہے کہ جدید دنیا میں طاقت صرف ٹینکوں اور فوجیوں سے نہیں بلکہ فاصلے کو عبور کرنے والی ٹیکنالوجی سے ماپی جاتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جو ملک ہزاروں کلومیٹر دور تک اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو وہی عالمی سیاست میں کھیل کے اُصول طے کرتا ہے۔

