چند دن پہلے ایک نمازی اپنی مرحومہ والدہ کا ذکر کرتے ہوئے اچانک خاموش ہوگیا۔ پھر دھیرے سے بولا: سر! انسان کو ماں کی قدر اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب وہ گھر میں موجود نہیں رہتی، پلیز آپ میری والدہ کیلئے دعا کیجیے، وہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔ اس قسم کے المناک چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ بعض اوقات پوری زندگی کا خلاصہ بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اس جمعہ کو متحدہ عرب امارات میں خطبہ جمعہ ماں کے مقام ومرتبے کے حوالے سے تھا۔ جب میں منبر پر کھڑا خطبہ دے رہا تھا تو اسی دوران میری نظر سامنے بیٹھے ایک ادھیڑ عمر عرب شخص پر پڑی۔ وہ کرسی پر بیٹھا خاموشی سے رو رہا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی ٹوٹ پھوٹ تھی۔ معلوم نہیں اس نے حال ہی میں اپنی ماں کو کھویا تھا یا پردیس میں رہتے ہوئے ماں کی جدائی اسے اندر سے توڑ رہی تھی، لیکن ایک بات واضح تھی کہ وہ ماں ہی کے حوالے سے رو رہا تھا… اس منظر نے مجھے عجیب بے چینی میں مبتلا کردیا۔ انسان دنیا کے ہر غم پر خود کو مضبوط ظاہر کر لیتا ہے، مگر ماں کا ذکر بعض اوقات اندر کے بند دروازے بھی کھول دیتا ہے۔
آج ہم سب اپنی زندگیوں میں بہت مصروف ہو چکے ہیں۔ ملازمت، کاروبار، موبائل فون، سوشل میڈیا، دوست احباب، تقریبات، سفر، اور منصوبے۔ انسان کے پاس ہر چیز کے لیے وقت ہے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اس کے لیے وقف کردی، اور ظاہر ہے کہ ان میں سب سے پہلی ہستی ماں ہے۔ ماں کتنا عجیب رشتہ ہے جو بچے کی پیدائش سے پہلے بھی اس کے لیے تکلیف اٹھاتی ہے اور زندگی بھر بھی۔ قرآن مجید نے ماں کی قربانی کو چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا کہ انسان رک کر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے: اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری اٹھا کر پیٹ میں رکھا۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ اس میں صرف ایک حمل کی کیفیت بیان کی گئی ہے تو آپ غلط سمجھ رہے ہیں، کیونکہ یہ صرف حمل کی نہیں بلکہ ایک ماں کی پوری جدوجہد کی کہانی ہے۔ وہ اپنی نیند قربان کرتی ہے، اپنی صحت قربان کرتی ہے، اپنی خواہشات تک قربان کر دیتی ہے تاکہ اس کا بچہ بہتر مستقبل دیکھ سکے۔ بچہ چھوٹا ہو تو ماں رات بھر جاگتی ہے اور جب بچہ بڑا ہوجائے تو وہ اس کے انتظار میں جاگتی رہتی ہے۔ شاید اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کے حق کو تین مرتبہ باپ پر مقدم رکھا۔ ایک شخص نے پوچھا: میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے دوبارہ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہاری ماں۔ تیسری بار پوچھا تو پھر فرمایا: تمہاری ماں۔ چوتھی بار فرمایا: تمہارا باپ۔
دین اسلام میں ماں کا مقام کتنا بلند ہے، اس کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے کہ سیدنا حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی، اویس قرنی رحمہ اللہ سے دعا کی درخواست کرتے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ اپنی والدہ کے بے مثال خدمت گزار تھے۔ یعنی ایک انسان کو ماں کی خدمت وہاں پہنچا دیتی ہے جہاں بڑے بڑے لوگ بھی اس کے مقام کے معترف ہوجاتے ہیں۔ لیکن اب ذرا اپنے معاشرے کو بھی دیکھئے۔ ہم میں سے کتنے لوگ روزانہ اپنی ماں کے پاس چند منٹ بیٹھتے ہیں؟ کتنے لوگ ماں کی بات پوری توجہ سے سنتے ہیں؟ کتنے لوگ اپنی ماں کے علاج اور ادویات کا خیال رکھتے ہیں؟ اور کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے آخری بار اپنی ماں کو صرف اس لیے گلے لگایا ہو کہ وہ ماں ہے؟
ماں کو وقت نہ دینے کے لیے حد سے زیادہ مصروفیت اگر عذر بن سکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر ہم دنیا بھر کے لوگوں کو پیغامات کیونکر بھیج دیتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر گھنٹوں کیسے ضائع کرلیتے ہیں؟ کیا یہ سوال ہم میں سے ہر ایک نے کبھی خود سے کیا ہے؟ اصل بات وقت نہیں بلکہ ہماری ترجیحات ہیں، جب کبھی ماں جی کو ہم نے اپنی ترجیحات میں شامل کیا تب ان کے کمرے تک جانے میں سستی محسوس نہیں کریں گے۔ تب ان کے ہاتھ چومنا اور پیشانی پر بوسہ ہمیں زندگی کی سب سے بڑی سعادت محسوس ہوگی۔ پاکستانی معاشرے کی خوبصورتی ہمیشہ اس کا خاندانی نظام رہا ہے، جہاں ماں صرف ایک فرد کے بجائے پورے گھر کی روح ہوتی ہے۔ افسوس کہ آہستہ آہستہ یہ روح کمزور پڑ رہی ہے۔ کہیں بوڑھی مائیں تنہائی کا شکار ہیں، کہیں وہ اولاد کے ہوتے ہوئے بھی اجنبی زندگی گزار رہی ہیں، اور کہیں ان کی موجودگی کو صرف ایک ذمہ داری سمجھ لیا گیا ہے۔ انسان ایک غلط فہمی میں جیتا ہے کہ ماں ہمیشہ موجود رہے گی۔
وہ سوچتا ہے کہ ابھی وقت ہے، بعد میں خدمت کرلیں گے، بعد میں بات کرلیں گے، بعد میں ساتھ بیٹھ لیں گے۔ مگر ایسے شاید بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کو زندگی بعد میں کا موقع دیتی ہے۔ جی ہاں! ایک دن اچانک گھر وہی ہوتا ہے، کمرے وہی ہوتے ہیں، دروازے وہی ہوتے ہیں ماں مگر نہیں ہوتی۔ تب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ گھر میں سب سے بڑی نعمت کیا تھی۔ سو جس کی ماں بقید حیات ہے وہ اس کے ساتھ حسن سلوک کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دے۔
وہ یہ یاد رکھے کہ دنیا میں صرف ماں ہی ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کو اْس وقت بھی اچھا سمجھتی ہے جب پوری دنیا آپ سے مایوس ہو چکی ہو۔ اس لیے جلدی کیجیے۔ وقت نکالیے۔ اس کے پاس بیٹھئے۔ اس کی باتیں سنیے۔ اس کے ہاتھ پاؤں دبائیے۔ اسے محسوس کرائیے کہ وہ اب بھی آپ کی زندگی کی سب سے اہم شخصیت ہے۔ اور جن کی مائیں فوت ہو چکی ہیں وہ بھی مایوس نہ ہوں۔ ایسا انسان اپنی ماں کے لیے دعا کر سکتا ہے، صدقہ کر سکتا ہے، اس کے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کر سکتا ہے، اس کے ادھورے کام پورے کر سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ نیک اولاد کی دعا والدین تک پہنچتی رہتی ہے۔ بہرحال یہ تلخ ہے مگر سچ ہے کہ ایک دن ماں نہیں ہوگی۔

