مئی کا دامن بھی کیا ہی خوب ہے، اس کو اپنو ں کے تیر بھی لگے، غیروں کے خنجر بھی، اس میں سسکیوں کے مناظر بھی ہیں، قہقہوں کی برسات بھی، آسمان سی بلندی بھی ہے اور زمین سی پستی بھی۔ پہاڑوں سی مضبوطی بھی رکھتا ہے اور روئی سی نرمی بھی۔ پاکستان کی تاریخ کے چھوٹے بڑے بہت سے اہم وا قعات مئی سے جڑے ہوئے ہیں چند واقعات اور مناظر بہت ہی تاریخی ہیں اور ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
٭٭٭
2007کا 12مئی اہل کراچی کو نہیں بھول سکتے۔ دارالحکومت کی اتحادی جماعت اور اس کے حریفوں کے درمیان دھما چوکڑی ہوئی، اہل وطن کی لاشیں گریں لیکن وطن کے رکھوالے نے ان لاشوں پر افسوس کی بجائے اسے اپنے چہیتوں کا فخریہ کارنامے کے طور پر بیان کیا۔ اس کے دامن میں1988 کا 29مئی بھی ہے۔ پیر پگارا کی کرامات اور جنرل ضیا کی عنایات کو بھول جانے والے بظاہر سادہ لوح وزیر اعظم نے جب خود کو اختیار کا منبع سمجھ لیا تو طاقت کے اصل سرچشمے نے چشمے کے پیچھے سے گھوری لگائی۔ وزیر اعظم کی کابینہ سمیت تو چھٹی ہوئی ہی، ایوان کے سینکڑوں ارکان بھی گھر سِدھارے۔
2006 کا 14مئی بھی خوب تھا۔ 80کی دہائی کے آخر سے 90کی دہائی کے آخر تک آگ و پانی کی طرح رہنے والے میاں اور بی بی شیر وشکر ہوئے۔ لندن میں میثاق جمہوریت کی میز سجی۔ اس سے ملک کو فائدہ ہوایا نہیں، سیاستدانوں نے ماضی سے سبق سیکھا، یاد رکھا یا بھلا دیا لیکن مئی کے دامن میں یہ نقش تو موجو د ہے جب چاہے تازہ کرلیں۔
7مئی 2025 ہندوستان نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں اللہ کے گھرو ں کو نشانہ بنایا، معصوم بچوں سمیت متعدد افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہوئے۔ یہ ایسا واقعہ نہیں جسے بھلا دیا جائے۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کا جشن ضرور منانا چاہیے، ہر سال منانا چاہیے، پوری شان اور قوت سے لیکن 7مئی کا دن بھولنا نہیں چاہیے۔ یہ ایسا سستا خون نہیں کہ بھلا دیا جائے۔
1998 کا28 مئی بھی کیا دن تھا، پاکستان نے امریکا کی پیش کش کو جوتے کی نوک پر رکھا اور ہندوستان کے ایٹمی غرور کا، کاری جواب دیا، 6ایٹمی دھماکوں نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند کیا، اسلام اور پاکستان کے ہر دشمن کو پیغام مل گیا، جس کو مزہ چکھنے اور ملیا میٹ کا شوق ہو اسے صرف چھٹی کا دودھ نہیں نانی و دادی بھی یاد کروائی جائیں گی۔ اس دن کو یوم تکبیر کا نام دیا گیا اور کیا خوب دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ وطن کو ہمیشہ ایسے رکھوالے دے جو یوم تکبیر کی شا ن سلامت رکھیں۔ پاکستان کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کاٹ دیں، گھورنے والی آنکھیں پھوڑ دیں۔
9مئی 2023 پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے تاریک دن، جب یہودیوں کے ایک پروردہ کے تیار کردہ جتھوں نے پاکستان کی شان اور عزت کو مٹی میں ملانے کے لیے اپنے تئیں وہ سب حرکتیں کردیں جس پر یہود و ہنود نے اسے داد دی اور تسلیم کیا کہ جو ہم دونوں مل کے نہ کرسکے وہ ہمارے بچے نے کردیا۔ اس سانحے کو تین سال ہو گئے لیکن نہ وہ نادم ہے، نہ اس کا دم بھرنے والے، انھیں شیطان کی ہم نوائی پہ فخر ہے۔ آدم کی اولاد ہو کر آدم کی خو نہیں ابلیس کی بو بلکہ بدبو ان کے دماغ میں رچی بسی ہوئی ہے۔
٭٭٭
اطلاعات ہیں ایک بار پھر اسرائیل کی شہ میں آکر مودی سرکار دانت تیز کر نے میں مشغول ہے۔ اگر چہ اس کی فوج اسے دہائی اور رام کا واسطہ دے رہی ہے، لیکن مودی سرکار پاکستان کے ہاتھوں دانت کھٹے کروانا کافی نہیں سمجھ رہی۔ اگر اب دانت تڑوانے کا شوق چرایا ہے تو چشم ماروشن دل ماشاد! انتظار کس بات کا، اگر اپنے ساتھ اسرائیلی بتیسی بھی نکلوانا چاہے تو اسے بھی لے ہی آئے تاکہ دونوں کو ایک ساتھ ان کی اوقات دکھا دی جائے۔ گو بظاہر کسی کھلی جنگ کا امکا ن نظر نہیں آرہا لیکن وطن کے رکھوالوں نے تیاری پوری کر رکھی ہے۔ نہ صرف تیاری پوری ہے بلکہ اسے باربار للکار بھی ر ہے ہیں لیکن دشمن بار بار اپنی پراکسیو ں اور کٹھ پتلیوں کو سامنے لا رہا ہے، اسے قربانی کے بکرے اور دنبے بڑی تعداد میں دستیاب ہیں لیکن دنبے بکرے آئیں یا خود آئے۔ اب کی بار پار اور پھاڑ کی لہریں کسی چیخ و پکار کو خاطر میں نہیں لائیں گی ان شاء اللہ!

