واشنگٹن:امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی سات بڑی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ ان کی جدید ٹیکنالوجی کو خفیہ دفاعی نیٹ ورکس میں شامل کیا جا سکے۔
پینٹاگون کے مطابق اس اقدام کا مقصد فوج میں اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اس فہرست میں اسپیس ایکس، اوپن اے آئی، گوگل، این ویڈیا، ریفلیکشن، مائیکرو سافٹ اور ایمازون ویب سروسز شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو محکمہ دفاع کے امپیکٹ لیول 6 اور 7 جیسے حساس نیٹ ورکس میں شامل کیا جائے گا، جس سے فوجی اہلکاروں کو جدید اے آئی ٹولز تک وسیع رسائی حاصل ہوگی۔تاہم اس فہرست میں اینتھروپک شامل نہیں، کیونکہ پینٹاگون اور اس کمپنی کے درمیان اے آئی کے استعمال کے قواعد و ضوابط پر تنازع جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے رواں سال کے آغاز میں اینتھروپک کو سپلائی چین رسک قرار دیتے ہوئے اس کی ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔پینٹاگون کے مطابق فوجی اہلکار مصنوعی ذہانت کو منصوبہ بندی، لاجسٹکس، اہداف کے تعین اور دیگر اہم امور میں استعمال کر رہے ہیں، جس سے بڑے فوجی آپریشنز کو تیز اور موثر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
پینٹاگون نے بتایا کہ اس کا مرکزی اے آئی پلیٹ فارم جین اے آئی گزشتہ پانچ ماہ میں 13 لاکھ سے زائد دفاعی اہلکار استعمال کر چکے ہیں، جو فوج میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

