اسلام آباد:پاکستان میں صحافیوں کے خلاف واقعات میں ایک سال میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کی اسلام آباد سے رپورٹ کے مطابق11 ماہ میں 142واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق آزادی صحافت کے لیے ماحول بدتر ہوتا جا رہا ہے، صحافیوں پر حملے، مقدمات، ہراساں اور سنسرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔ فریڈم نیٹ ورک رپورٹ کے مطابق 30 صحافیوں پر پیکا اور پی پی سی کے تحت 36 مقدمات درج ہوئے، صحافیوں کے خلاف زیادہ تر مقدمات پنجاب میں درج ہوئے، پیکا ترامیم پر انسانی حقوق تنظیموں نے اظہار تشویش کیا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پیکا کے غلط استعمال کی تردید کرتی رہی، تنقیدی آوازوں کے خلاف قانونی فریم ورک کا استعمال بڑھ گیا۔ رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024 کے بعد صحافت مزید غیر محفوظ قرار دیدی گئی، پنجاب اور اسلام آباد صحافیوں کے لیے خطرناک ترین علاقے ہیں۔
صحافیوں کے خلاف 28 فیصد واقعات پنجاب اور اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی وی چینلز کے صحافی سب سے زیادہ نشانہ بنے، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے صحافی بھی زد میں آئے۔

