اسلام آباد:ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو سے رہائشیوں کی بیدخلی کے معاملے کا ، وزیر اعظم نے نوٹس لے لیا۔معاملے پر وزیراعظم کے حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے کی طرف سے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ معاملے پر اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان ہونگے۔
کمیٹی آئندہ ایک ہفتے میں پورے معاملے کا جائزہ لے کرے ایک جامع رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔اس دوران اس معاملے میں کوئی بھی متاثرہ شخص اپنی معروضات کمیٹی کو پیش کر سکے گا اور کمیٹی بلا کسی تفریق کے فریقین اور متاثرین کو سنے گی۔
وزیراعظم کے اس معاملے پر حتمی فیصلے تک اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی طرف سے کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔وزیرِ اعظم نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کی ہدایات جاری کی ہیں۔
واضح رہے کہ شاہراہ دستورپر قائم کانسٹی ٹیشون ون بلڈنگ کے حوالے گزشتہ روزاسلام آبادہا ئیکورٹ نے فیصلہ جاری کیا تھا۔رہائشی نے کہا کہ مسئلہ سی ڈی اے اور بلڈرکمپنی کاہے،ان سے پوچھاجائے، بلڈنگ کا نقشہ اوردیگردستاویزات سی ڈی اے نے پاس کیے، سی ڈی اے کی جانب سے این او سی کے بعد ہی اپارٹمنٹ خریدے۔

