انبیاء و رسل میں ایک اہم تالسلام رین ہستی سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہے، مسلمان، عیسائی اور یہودی گویا دنیا کی آبادی کا قریب قریب تین چوتھائی حصہ آپ علیہ کی عظمت پر متفق ہے اور آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ صرف خود نبی تھے بلکہ ابوالانبیاء تھے۔ آپ کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام بھی نبی تھے۔ پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت یعقوب علیہ السلام نبی ہوئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی نبی بنائے گئے جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے فرزند تھے۔ یہی حضرت یعقوب جن کے آبا واجداد تین پشت سے پیغمبر تھے اور آئندہ بھی بنی اسرائیل کے تمام انبیا آپ ہی کی نسل میں پیدا ہوئے۔ قرآن مجید نے ان کی وفات کا واقعہ ذکر کیا ہے، جو اس طرح ہے(ترجمہ) :’کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب پر موت آئی ؟ جب اس نے اپنے بیٹوں سے دریافت کیا : تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : ہم آپ کے رب اور آپ کے باپ دادا ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام کے رب کی جو ایک ہی معبود ہے، کی عبادت کریں گے اور اسی کے فرماں بردار ہوکر رہیں گے، یہ کچھ لوگ تھے جو گذر چکے، ان کے لیے ان کے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ (البقر ہ)
یہ آیت بظاہر حیرت میں ڈالتی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام جیسی شخصیت جن کے یہاں چار پشتوں سے نبوت چلی آرہی تھی، جن کی اولاد میں بھی نبی تھے اور آئندہ سلسلہ اولاد میں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیاء کو پیدا ہونا تھا، ایسا شخص اپنی موت کے وقت اس بارے میں فکر مند ہے کہ خانوادہ نبوت کے چشم و چراغ کس کی پرستش کریں گے ؟ جب ان کے بچے اطمینان دلاتے ہیں کہ وہ توحید، تعلق مع اللہ اور خدا کی اطاعت و فرماں برداری کے رویہ پر قائم رہیں گے، تو اب ان کو اطمینان ہوتا ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔ اس میں امت ِمسلمہ کے لیے حیرت و موعظت کا سامان ہے کہ ایک صاحب ایمان کو کبھی بھی اپنے بچوں کی دینی کیفیت کے بارے میں غافل نہ ہونا چاہیے۔ جیسے ایک تاجر چاہتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ تجارت چھوڑ کر جائے، جیسے ایک کارخانہ دار کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے بچے صنعت کے میدان میں ترقی کریں، جیسے ایک ملازم کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے بچے اعلی سے اعلی سرکاری عہدے پر فائز ہوں بلکہ انسان کا بس چلے تو وہ آئندہ کے لیے سات پشتوں کی معیشت کا انتظام کر جائے، ٹھیک اسی طرح بلکہ اس سے بہت بڑھ کر ایک مسلمان کو اپنی اولاد کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے کہ ایمان اور عمل صالح کے اعتبار سے اس کی اولاد صحیح راہ پر گامزن ہو اوروہ خدا کی پرستار اور اس کی فرماں بردار ہو۔
اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کتنا بھی دین دار خاندان ہو، خاندان میں علماء اور حفاظ ہوں، دین کی دعوت و اشاعت کا کام کرنے والے لوگ ہوں، اسلامی شعور رکھتے ہوں لیکن اپنی اولاد کی طرف سے مطمئن نہ رہیں اور یہ نہ سمجھیں کہ یہ بہر حال دین پر قائم رہیں گے ؛ کیوں کہ انبیاء سے بڑھ کر خدا ترس خانوادہ اور کون ہو سکتا ہے ؟ لیکن اس کے باوجود انبیاء اپنے خاندان او راہل و عیال کے بارے میں کبھی بے فکر نہیں رہے۔ خود پیغمبر اسلام ۖ اپنی پھوپھی اور اپنی صاحبزادی کو خطاب کر کے فرماتے کہ آخرت سے پہلے کچھ کر لو، ورنہ مجھ سے قرابت بھی تم کو کام نہیں آئے گی، اسی لیے قرآن مجید نے حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد متنبہ فرمایا ہے کہ ان کے اعمال ان کے ساتھ گئے اور تم بھی گو انھیں کی نسل سے ہو ؛ لیکن تمہارے بارے میں فیصلہ تمہارے اعمال کے مطابق ہوگا۔
جو لوگ خدا اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، جن کا یقین اس بات پر ہے کہ یہی دنیا آخری دنیا ہے، وہ اگر اپنے بال بچوں کے لیے صرف مال و متاع اور سیم و زر کی فکر کریں، تو مقام تعجب نہیں کہ ان کے نزدیک تو اس مادی دنیا کے آگے کوئی منزل ہی نہیں لیکن اگر مسلمان بھی اسی راہ پر چلیں، تو یہ ایسا ہی ہوگا کہ جیسے کوئی مسافر راستہ کو اپنی منزل سمجھنے لگے۔ ہندوستان کے موجودہ حالات میں اس وقت ہم لوگوں کا حال کچھ ایسا ہی ہے۔ ہمارے بچے بہت ہی نو عمری میں مشنری اسکول یا ان کے طرز پر چلنے والے دوسرے اسکولوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں، یا جو عام طور سے دین سے بالکل بے بہرہ اور اپنی تاریخ سے قطعا ناواقف ہوتے ہیں۔ مزید بد قسمتی یہ ہے کہ یہ مادری زبان سے بھی کٹ جاتے ہیں۔ اسلامی علوم کا بہت بڑا سرمایہ اردو زبان میں ہے، اس پورے سرمایہ سے ان کا رشتہ ٹوٹ کر رہ جاتا ہے، گھر میں دین کا ماحول پہلے سے نہیں، ٹی وی نے صورتِ حال اتنی خراب کر دی ہے کہ الفاظ ان کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ ان حالات میں آپ کیوں کر اطمینان کر سکتے ہیں کہ آپ کی نسل آپ کے بعد کچھ اس دینی امانت کوتھامے رہے گی، جس کے آپ حامل ہیں اور گمراہ کن نظریات ان کو اپنا اسیر نہ بنا سکیں گے !
اس لیے موجودہ حالات میں یہ بات ضروری ہوگئی ہے کہ مسلمان بنیادی دینی تعلیم کا اپنا آزادانہ نظام قائم کریں اور اس نظم کو خود کفیل بنائیں۔ اس سلسلہ میں گجرات کا علاقہ ایک نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں بہت ہی مستحکم بنیادوں پر دینی مکاتب کا نظم قائم ہے۔ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ مکتب کے جال بچھے ہوئے ہیں، مکاتب کے اوقات تعلیم ایسے ہوتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں میں جانے والے بچے یا تو اسکول جانے سے پہلے مکتب میں وقت لگائیں، یااسکول سے واپسی کے بعد، مکتب کی تعلیم سماج میں ایک لازمی تعلیم سمجھی جاتی ہے۔ یہی نظام پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو کر نا ہوگا تا کہ ہمارا کوئی بچہ بنیادی دینی تعلیم سے نا آشنا نہ رہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کی صورت میں ہمیں ایسا مرکز دیا ہے، جس سے بہتر کوئی اور مرکز نہیں ہو سکتا۔ یہی مسجد مدرسہ ہے وہاں جو ائمہ، موذنین اور مسجد کے خدام ہیں، جو مدرس و معلم ہیں، اگر ہر مسجد میں صباحی اور مسائی تعلیم کا ایک مستحکم نظام قائم کریں، بچوں کے لیے ایک ایسا کورس مرتب کریں جس میں ناظرہ قرآن اور اذکار و ادعیہ کے علاوہ اردو زبان، سیرت نبوی اور اسلامی تاریخ کی بھی مناسب تعلیم ہو جائے اور بچوں کی فکری تربیت بھی ہو اور وہ شعوری طورپر اسلام کو سمجھ سکیں، تو یہ بہت بڑا کام ہوگا اور اس طرح ہم آنے والی نسل کی حفاظت کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ یہ زمانہ گرمائی تعطیلات کا ہے، جس میں ڈیڑھ ماہ، یا اس سے زیادہ طلبہ کو فرصت ملتی ہے، دن کا عرصہ کم نہیں ہے، اگر ہم ان اوقات کا صحیح استعمال کریں تو اس تعطیل سے بھی بڑا کام لیا جاسکتا ہے۔ اس میں مڈل اسکول، ہائی اسکول اور کالج کی سطح کے طلبہ کے لیے اسلامیات کا علاحدہ علاحدہ مختصر کورس ترتیب دینا چاہیے، جس میں ناظرہ، قرآن مجید، کچھ سورتوں کا حفظ، سیرت نبوی، اسلامی تاریخ، فقہ اسلامی وغیرہ موضوعات پر اسباق دیے جائیں، تعارف اسلام خطبات کانظم کیا جائے اور ان کو اخلاقی تعلیمات سے بھی مزین کیا جائے۔ ایسی گرمائی درس گاہ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، کچھ ادارے اس سلسلہ میں کوشش کر رہے ہیں ؛ لیکن ضرورت اس سے بہت زیادہ کی ہے اور جہاں کہیں گرمائی کلاسس قائم کیے جا رہے ہیں، گو لوگوں کا رجوع حوصلہ افزا ہے لیکن اتنا نہیں، جتنا ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ نوجوانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانا چاہیے اور سر پرستوں کو اس سلسلہ میں اپنے بچوں کو بھیجنا چاہئے ؛ کیوںکہ جب انسان اپنے ماحول سے باہر نکلتا ہے او رکسی چیز کو حاصل کرنے میں یکسو ہو جاتا ہے تو کم وقت میں بھی زیادہ کچھ حاصل کر سکتا ہے، نوجوان طلبہ کو اسلام سے قریب کرنے اور موجودہ مسموم ماحول سے بچانے کیلیے اور بھی وسائل اختیار کیے جاسکتے ہیں۔
موجودہ حالات میں مخالف اسلام طاقتیں پوری طرح اس بات کیلیے سرگرم ہیں کہ وہ مسلمانوں کی اگلی نسل کو اپنی فکر اور اپنی تہذیب کے ساتھ جذب کرلیں اوران کو ان کی فکری میراث سے محروم کر دیں، ان حالات میں اگر ہم نے غفلت، بے شعوری، خدا فراموشی اور خود فراموشی سے کام لیا تو اندیشہ ہے کہ خدا نخواستہ ہمارا فکری اور ملی وجود ایک قصہ پارینہ بن جائے، ان شاء اللہ کفر کے پھونکوں سے نورِ حق بجھایا نہ جاسکے گا لیکن ضرورت ہے کہ ہم اس کیلیے فانوس بن کر زندہ رہیں اور اس حقیقت کو سمجھیں کہ جو نعمتِ ایمان ہمیں حاصل ہے، وہ تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے اور ہمیں اس امانت کو اپنی اگلی نسلوں تک پوری ذمہ داری اور دیانت کے ساتھ پہنچاناہے۔

