غزہ،اسرائیلی حملے،4شہید،پانی کی قلت کو جنگی ہتھیاربنانے کا انکشاف

غزہ/تل ابیب/بیروت:غزہ پراسرائیلی حملے جاری،9سالہ بچے سمیت4 افرادشہید ہوگئے،صہیونی حکومت کی جانب سے پانی کی قلت کو جنگی ہتھیاربنانے کا انکشاف ہوا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قابض صہیونی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے کمزور معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ 201 ویں روز بھی جاری رہا۔

قابض فوج مشرقی محلوں میں فضائی حملے، توپ خانے سے گولہ باری اور مکانات کو بارود سے اڑانے کے علاوہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل پر پابندیاں لگا کر محاصرے کو مزید سخت کر رہی ہے۔غزہ شہر کے مغرب میں حیدر عبدالشافی چوک کے قریب ایک گاڑی پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں 3 فلسطینی شہری شہید ہو گئے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی ڈرون نے گاڑی کو نشانہ بنایا۔اس سے قبل جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں ابو حمید چوک پر اسرائیلی فضائی حملے میں 9 سالہ بچہ عادل لافی النجار شہید ہو گیا۔

مزید برآں شمالی اور مشرقی غزہ کی پٹی کے علاقوں بشمول بیت لاہیا،جبالیا کیمپ اور جنوبی غزہ میں خان یونس کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک فلسطینی خاتون زخمی ہو گئیں۔

یہ حملے قابض فوج کی جانب سے شدید عسکری نقل و حرکت کے دوران کیے گئے۔علاوہ ازیں مسلح یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور ان کے مال و اسباب پر وحشیانہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

یہ حملے قابض اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جس کے جواب میں عوامی سطح پر ہر ممکنہ ذریعے سے مزاحمت کرنے اور ان غاصبوں کے سامنے ڈٹ جانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔

مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقوں میں شرپسند آباد کاروں نے چرواہوں کا پیچھا کیا اور انہیں ہراساں کیا تاکہ انہیں اپنی زمینوں پر جانے اور معاش کے ذرائع تک رسائی سے روکا جا سکے۔الخلیل کے جنوبی حصے میں آباد کاروں نے السموع نامی بستی کے قریب واقع خربہ الخرابہ پر دھاوا بولا جو اس علاقے پر ہونے والے پے در پے حملوں کا تسلسل ہے۔

مغربی کنارے کے وسطی علاقے میں واقع گاؤں دیر جریر میں انتہا پسند آباد کاروں نے ایک شہری کے گھر پر حملہ کیا اور اشتعال انگیزی کے طور پر اس کی چھت پر قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرادیا۔نابلس گورنری میں آباد کاروں نے اپنی سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے جالود گاؤں میں ایک معصوم بچے پر حملہ کیا اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے چہرے پر مرچوں والا اسپرے کیا۔

اس کے علاوہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع بستیوں جالود اور قصرہ کے درمیانی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران آباد کاروں نے فلسطینی نوجوانوں پر براہ راست فائرنگ کی۔رام اللہ کے مغرب میں واقع بیت لقیا کے مقام پر آباد کاروں نے ایک داخلی راستہ بند کر دیا۔ رام اللہ کے شمال مشرق میں المغر گاؤں کے جنوب میں کسانوں کی زمینوں پر بھی دھاوا بولا گیا۔

ادھرعالمی طبی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے خبردار کیا ہے کہ قابض صہیونی حکام غزہ کی پٹی کے مکینوں کو زندگی کے لیے ناگزیر پانی سے دانستہ طور پر محروم کررہے ہیں۔ تنظیم نے اس عمل کو فلسطینیوں کے خلاف اجتماعی سزا کی مہم قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

تنظیم نے اپنی رپورٹ جس کا عنوان ”پانی ایک ہتھیار ہے” میں کہا ہے کہ پانی کے بنیادی شہری ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی اور اس تک رسائی میں رکاوٹیں اس نسل کشی کا اٹوٹ حصہ ہیں جو غزہ کی پٹی میں جاری ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ پانی کی مصنوعی قلت اور شہریوں کا قتل عام، صحت کی سہولیات اور گھروں کی تباہی ایک ساتھ ہو رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق 2024ء اور 2025ء کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار اور شہادتوں کی بنیاد پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ غزہ کے مکینوں پر تباہ کن اور غیر انسانی زندگی مسلط کی جا رہی ہے۔

تنظیم کی ایمرجنسی ڈائریکٹر کلیئر سان فیلیپو نے کہا کہ قابض حکام بخوبی جانتے ہیں کہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے اور ساتھ ہی اس سے متعلقہ سپلائی کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رکھا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے غزہ کی پٹی سے مصر تک طبی انخلاء کے آپریشنز کو تاحکم ثانی معطل کر دیا ہے، یہ فیصلہ مشرقی غزہ کے محلوں میں پانی کی فراہمی کے دوران تنظیم کے ایک ٹھیکیدار کی قابض فوج کی فائرنگ سے شہادت کے بعد کیا گیا۔

دریں اثناء فلسطینی وزارت صحت نے غزہ اور شمالی گورنریوں میں کام کرنے والے آکسیجن کی پیداوار کے واحد پلانٹ کے بند ہونے کے خطرے سے خبردار کیا ہے جو مریضوں بالخصوص دائمی امراض میں مبتلا افراد کو آکسیجن کی فراہمی کا بنیادی ذریعہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ پلانٹ صحت کے شعبے میں کام کرنے والے نجی اداروں کی طبی آکسیجن کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔

وزارت صحت نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں اور ناکہ بندی کے باعث متبادل ذرائع کی عدم دستیابی کے نتیجے میں اس پلانٹ پر کام کا شدید دباؤ ہے اور اسے طویل وقت تک چلانے کی وجہ سے یہ بار بار خرابی کا شکار ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال طبی آکسیجن کی فراہمی میں تعطل پیدا کر سکتی ہے جس سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب ایک نئی تحقیق کے مطابق اسرائیل سے تعلیمی اور پیشہ ور افراد کی بڑی تعداد میں نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ملک کے لیے سماجی اور معاشی خطرات کو جنم دے رہا ہے۔تحقیق کے مطابق حالیہ برسوں میں اسرائیل سے خاص طور پر ہنر مند پیشہ ور افرادکی نقل مکانی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں ڈاکٹروں کا تناسب سب سے زیادہ متاثر ہونے والے گروپوں میں شامل ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی کی اس تحقیق نے گزشتہ 15 سالوں کے دوران خاص طور پر 2023ء کے بعد کے واقعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نقل مکانی کے رجحانات کا جائزہ لیاجن میں غزہ میں اسرائیلی نسل کشی کی جنگ، عدالتی اصلاحات اور عوامی احتجاج کے اثرات شامل ہیں۔

نتائج کے مطابق 2023ء اور 2024ء میں تقریباً 950 ڈاکٹروں نے اسرائیل چھوڑ دیا، واپس لوٹنے والوں کو شامل کرنے سے یہ تعداد 510 بنتی ہے۔ان میں سے دو تہائی وہ تھے جو اسرائیلی میڈیکل اسکولوں کے فارغ التحصیل تھے جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب ہے۔

تحقیق نے اسرائیل کے مرکزی شماریاتی دفتر، ہائر ایجوکیشن کونسل، وزارتِ صحت اور ٹیکس اتھارٹی کے اعداد و شمار استعمال کیے اور نقل مکانی ، تعلیم، لائسنسنگ اور آمدنی کے رجحانات کا تجزیہ کیا۔مطالعہ کا اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر 2023ء اور 2024ء میں تقریباً 100,000 اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جو طویل عرصے تک نسبتی استحکام کے بعد ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

محققین نے کہا ہے کہ ان میں معالجین، پی ایچ ڈی یافتگان اور دیگر اکیڈمک، انجینئر اور زیادہ آمدنی والا طبقہ شامل ہے جو کہ ایک نمایاں اور تشویشناک اضافہ ہے۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ واپسی میں سست روی انسانی سرمائے کے اخراج کو بدتر بنا رہی ہے۔

نتائج بتاتے ہیں کہ جانے والے بہت سے ڈاکٹر تجربہ کار پیشہ ور ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ ہم نے دیکھا ہے کہ40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے معالجین جن کے پاس علم اور تجربہ ہے ، ملک چھوڑ رہے ہیں۔

تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل اضافے سے سنگین معاشی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔محققین نے کہامزید اقتصادی جھٹکے ممکنہ طور پر تارکینِ وطن کی تعداد میں اچانک اور تیز اضافہ کر سکتے ہیں اور خبردار کیا کہ یہ رجحان ملک کے لیے انتہائی بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

ادھرحماس نے عالمی برادری، متعلقہ ممالک اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں گھروں کی مسماری اور قتل عام کو روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور قابض اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ان روزمرہ کے جرائم کا سلسلہ بند کرے۔

حماس نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض صہیونی افواج کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں انہدام کی کارروائیوں میں تیزی لانا اور القدس کی بستیوں بالخصوص الرام، کفر عقب اور قلندیہ پر جاری جارحیت کے سائے میں درجنوں تجارتی و رہائشی تنصیبات کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کرنا ایک سنگین جرم ہے۔

یہ شہر میں فلسطینیوں کے وجود کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے جس کا مقصد القدس کو اس کے اصل باسیوں سے خالی کرنا اور انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔حماس نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسماری کی کارروائیاں اور بڑھتے ہوئے نوٹس تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

یہ منظم طریقے سے شہر کو یہودیانے، نسل کشی اور نسلی تطہیر کی کارروائیوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے مقدس شہر کو انتہائی خطرناک طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بیان کے اختتام پر حماس نے واضح کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی سرزمین خالصتاً فلسطینی سرزمین رہے گی اور اس پر قابض اسرائیل کو کوئی حقِ حاکمیت حاصل نہیں ہے۔

فلسطینی عوام اپنی زمین اور مٹی پر مضبوطی سے جمے رہیں گے اور وہ اپنی تمام تر دستیاب صلاحیتوں کے ساتھ اس کھلی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ قابض اسرائیل کتنی ہی زیادتی کیوں نہ کر لے، فلسطینی قوم یہودیانے اور جبری بے دخلی کے تمام منصوبوں کو ناکام بنادے گی۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں اس کی فورسز نے آپریشنز کے دوران تقریباًایک ہزار ایسی تنصیبات کو تباہ کیا ہے جنھیں اس نے دہشت گردوں کا انفرااسٹرکچر قراردیا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایلا واویہ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ انفرااسٹرکچر حزب اللہ کے کارکن اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کے دوران فوج نے سینکڑوں ہتھیار بھی برآمد کیے جن میں مشین گنز، کلاشنکوف رائفلیں، دستی بم، بارودی سرنگیں، پستول، اینٹی ٹینک میزائل، آر پی جی گولے اور مارٹر شیلز شامل ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ علاقے میں اس کی کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ ان کا خاتمہ کیا جا سکے جنہیں اسرائیلی فوج خطرہ قرار دیتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے پاس اب اپنے اسلحہ ذخیرے کا صرف 10 فیصد باقی رہ گیا ہے۔غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کے دوران کہی۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے یہ اندازہ جنگ کے آغاز میں موجود میزائلوں کے مقابلے کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، امریکا اور لبنان کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں نے اسرائیل کو فوری اور ابھرتے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی کی آزادی فراہم کی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مزید کہنا ہے کہ ہم سیکورٹی زون اور دریائے لیطانی کے شمال میں کارروائیاں کر رہے ہیں جبکہاسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ممکنہ طور پر 2026ء کے دوران پورا سال متعدد محاذوں پر لڑائی جاری رکھے گی۔

یہ بات انھوں نے شمالی اسرائیل میں واقع رامات ڈیوڈ ایئر بیس پر ہونے والے ایک اجلاس کے دوران کہی جس میں فوج کی اعلیٰ قیادت نے شرکت کی۔اجلاس میں ایران کے ساتھ جنگ کے تناظر میں اب تک کی فوجی کارروائیوں کے نتائج اور لبنان میں اسرائیلی فوجی آپریشنز کا جائزہ لیا گیا۔

ایال زامیر نے کہا کہ سات اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیلی فوج متعدد محاذوں پر مسلسل لڑ رہی ہے اور افواج ہر وقت تیار اور چوکس ہیں تاکہ اگر تمام محاذوں پر شدید لڑائی دوبارہ شروع ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے برسوں میں فوج پر ذمہ داریوں میں اضافے کے پیشِ نظر اسرائیلی فوج کو مزید فوجیوں کی شدید ضرورت ہے۔غزہ، شام اور لبنان میں محاذ جنگ کے ساتھ دفاعی علاقے قائم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے سربراہ نے یہ عندیہ بھی دیا یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی افواج کو ان علاقوں میں موجود رہنا چاہیے تاکہ طویل المدت بنیادوں پر اسرائیلی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ادھرلبنان کے جنوب میں حزب اللہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر کیے جانے والے دھماکا خیز ڈرون حملوں کی شدت میں اضافے نے قابض اسرائیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اندر تشویش کی لہر دوڑادی ہے، ان حملوں نے قابض افواج کے مابین شدید افراتفری پیدا کر رکھی ہے۔

قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق رامات دافید ایئربیس پر ہونے والے اعلیٰ قیادت کے اجلاس میں اس خطرے کو سر فہرست رکھا گیا جبکہ قابض فوج نے منگل کے روز حزب اللہ کے ڈرون حملے میں اپنے دو فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

قابض اسرائیلی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے دو بڑے خطرات کا سامنا ہے جن میں گراڈ میزائل اور خودکش ڈرونز شامل ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ محاذ آرائی میں ان جنگی ذرائع کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کو جنگ میں دھکیلنا غداری کے مترادف ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، تاہم کسی ذلت آمیز معاہدے کو قبول نہیں کریں گے۔

صدر جوزف عون نے کہا کہ جن عناصر نے لبنان کو جنگ میں دھکیلا، وہی آج مذاکرات کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کرنا غداری نہیں بلکہ قومی مفاد میں ایک قدم ہے جبکہ اصل غداری وہ ہے جب بیرونی مفادات کے حصول کے لیے ملک کو جنگ میں جھونکا جائے۔