پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیوں؟

”زبان پھسلنا”بظاہر ایک سادہ محاورہ ہے مگر اس کے پیچھے انسانی نفسیات، انسانی سوچ اور انسان کے دل میں چھپے ہوئے حقائق واشگاف ہو جاتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں زبان پھسلنے سے کئی دفعہ تاریخی واقعات رونما ہو ئے۔ ایک دفعہ ایک ملک کے سفیر نے ایک تقریب میں اپنے میزبان ملک کی تعریف کرنی چاہی مگر غلط لفظ کے انتخاب سے معنی الٹ ہو گئے۔ بعد میں اسے وضاحتیں دینا پڑیں کہ یہ محض زبان کی لغزش تھی مگر اس کے باوجود دونوں ملک جنگ کے قریب پہنچ کر پیچھے ہٹے۔ زبان پھسلنا انسان کے ذہنی دباؤ اور دل کی اصل کیفیت کا اظہار بھی ہو تا ہے۔ زبان پھسلنے سے کہا گیا جملہ صرف جملہ نہیں رہتا وہ سوچ اور فکر کے پورے دھارے کی نمائندگی بن جاتا ہے اور اگروہ جملہ کسی ایسے شخص کی طرف سے سامنے آئے جو خود فکری رہنمائی کا دعویدار ہو تو اس کے اثرات لا محدود ہو جاتے ہیں۔ چند دن پہلے جواد نقوی صاحب کی طرف سے شجاعت اور دفاعِ وطن کے حوالے سے جو نئی تعریف پیش کی گئی وہ بھی کچھ ایسی ہی مثال ہے۔

جواد نقوی صاحب نے پاکستانی فوج کاایرانی فوج کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج میں اگر جرات و بہادری کا اظہار ہوا بھی اور اس کے نتیجے میں اگر کسی کو نشان حیدر ملا بھی تو وہ صرف سپاہی رینک کے لوگ تھے، جبکہ ایران میں آرمی چیف اور جنرلز تک نے اپنی جانیں پیش کیں۔ جواد نقوی صاحب کا یہ تقابل نہ صرف حقائق سے متصادم ہے بلکہ قومی شعور کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ اصل مسئلہ یہاں اختلافِ رائے نہیں بلکہ تقابل کا وہ انداز ہے جس میں اپنی ہی قوم، اپنی ہی فوج اور اپنے ہی شہداء کو کمتر دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہر ملک کی فوج اپنی روایات، اپنے حالات اور اپنے تجربات کے مطابق قربانیوں کی داستان رقم کرتی ہے لیکن یہ کہنا کہ کسی ایک فوج کی قربانیاں محض اس بنیاد پر برتر ہیں کہ وہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد شہید ہوئے ایک سطحی اور غیر منطقی تجزیہ ہے۔

دنیا کی عسکری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی بھی فوج کی اصل طاقت اس کے مجموعی نظم، تربیت، قیادت اور ہر سطح پر موجود جذبہ قربانی میں ہوتی ہے۔ پاکستانی فوج اس حوالے سے منفرد ہے کہ یہاں صرف سپاہی ہی نہیں بلکہ کیپٹن سے لے کر جنرل رینک تک کے افسران نے اپنی جانیں قربان کیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا روایتی محاذ، اس فوج نے ہر سطح پر نقصان اٹھایا ہے۔ افسران کی شہادت کا تناسب بھی یہاں غیر معمولی ہے۔ یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے۔ میدانِ جنگ میں دی جانے والی شہادت اور سیکورٹی ناکامی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکت میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ جنگ میں لڑتے ہوئے جان دیناجرات، شجاعت اور بہادری کا مظہر ہوتا ہے جبکہ اپنی ہی سرزمین پر، اپنے ہی حفاظتی نظام کی کمزوریوں کے باعث نقصان اٹھانا ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے جس پر افسوس اور شرمندہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان دونوں حقیقتوںکو ایک ہی ترازو میں تولنا حقیقت کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

دور جدید میں جنگیں صرف میدان میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ انٹیلی جنس، سائبر وارفیئر اور اندرونی سیکورٹی کے محاذ بھی اتنے ہی اہم ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی ملک کے اندر اعلیٰ سطح کی شخصیات نشانہ بنتی ہیں تو یہ بہادری کا نہیں بلکہ سیکورٹی خلا کا اشارہ ہوتا ہے۔ اسے اعزاز بنا کر پیش کرنا دراصل اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ پاکستانی فوج کے حوالے سے یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ اس نے نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کیا بلکہ مشکل حالات میں علاقائی استحکام میں بھی کردار ادا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی گئیں وہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا بوجھ کم کرنے کے مترادف تھیں۔ ایسے میں اس فوج کے شہداء کے بارے میں غیر محتاط الفاظ استعمال کرنا دراصل ان خاندانوں کے زخموں کو تازہ کرنا ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس ملک کے لیے کھویا۔ یہ کیسی حب الوطنی ہے کہ آپ اپنے ممدوح ملک کی فوج کو بہتر ثابت کرنے کے لیے اپنی ہی فوج اور اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیں؟

جواد نقوی صاحب آپ جس فوج کی محبت میںپاکستانی فوج کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں اس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ گھر آئے مہمانوں کی حفاظت تک کر نہیں سکی۔ اسماعیل ہانیہ کو ایران میں شہید کر دیا گیا مگر آ پ کی ممدوح فوج کچھ نہ کر سکی۔ آپ کے سپریم لیڈر ماردیے گئے مگر آپ کی ممدوح فوج دشمن کا تعاقب نہ کر سکی۔ حد تو یہ ہے کہ آپ کے ممدوح ملک کا جب سفارتی وفد پاکستان آتا ہے تو یہی پاکستانی فوج انہیں مکمل تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان کو بحفاظت پاکستان لاتی اور واپس تہران چھوڑ کر آتی ہے۔ عین حالت جنگ میں پاکستانی فوج کا چیف آپ کے ممدوح ملک میں جا کر بیٹھ جاتا اور آپ کی ممدوح ملک کی فوج کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اکثر کمانڈر زیر زمین چھپے ہوتے ہیں اور اس ڈر سے باہر نہیں آتے کہ ان کی لوکیشن ٹریس ہو جائے گی، جبکہ پاکستانی آرمی چیف وہاں کھلے عام ملاقاتیں اور تین دن گزارتے ہیں۔ آپ اپنے ملک میں مہمانوں کو نہ بچا سکنے والی فوج اور حملوں کے ڈر سے زیر زمین چلے جانے والی فوج کی بہادری کا تقابل اس پاکستانی فوج کے ساتھ کررہے ہیں جس نے صرف ایک سال پہلے دشمن کے چھ رافیل جہاز گرادیے تھے اور دنیا اس پر انگشت بدندان تھی۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ جواد نقوی صاحب پاکستانی فوج کے بارے وہ زبان استعمال کررہے ہیں جو شاید دشمن بھی نہ کرے۔ شہداء کا مقام کسی بھی قوم میں مقدس ہوتا ہے۔ فوج کے بارے میں اختلافِ رائے ہو سکتا ہے، پالیسیوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن ان کی قربانی کو کمتر قرار دینا اخلاقی حدود کو عبور کرنے اور ملک دشمنی کے مترادف ہے۔