اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے کی تیاری

اسلام آباد:قطر فورس میجور کے بعد اسپاٹ کارگوز پر انحصار بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جب کہ علاقائی کشیدگی کے باعث اسپاٹ کارگوز مہنگے ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے جی ٹو جی معاہدوں کو ترجیح دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

ایران میں جاری جنگ کے باعث ایل این جی کی درآمد میں تعطل کے پیش نظر حکومت نے ملک کی ایندھن ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔

وزیر پٹرولیم علی پرویز نے غیر رسمی گفتگو میں بتایا کہ حکومت اسپاٹ کارگوز کے ذریعے ایل این جی خریدنے کے آپشن کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم مہنگے داموں سے بچنے کے لیے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (حکومت سے حکومت) معاہدوں کو ترجیح دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ قطر کی جانب سے فورس میجور کے اعلان کے بعد اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ پریمئیم سے بچنے کے لیے حکومت براہِ راست حکومتی سطح پر معاہدوں کو ترجیح دے گی۔

وزیر پٹرولیم کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث اسپاٹ کارگوز کی قیمتیں بڑھ کر 20 سے 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہیں، اس لیے خریداری کرتے وقت پاور سیکٹر کی مالی استطاعت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

علی پرویز نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایل این جی پر انحصار کم کیا ہے، تاہم گرمیوں میں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے گیس اب بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے خام تیل کی کچھ ترسیل سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے ذریعے شروع کر رکھی ہے، جہاں انشورنس لاگت آبنائے ہرمز کے مقابلے میں کم ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔