جنگ کے بدلتے چہرے کے ساتھ ہمیں بھی بدلنا پڑے گا

پچھلے دنوں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر سے ملاقات ہوئی۔ بریگیڈیئر رینک سے ریٹائر ہوئے ہیں، آرمرڈ کور میں سروس کی۔ ٹینکوں کے آدمی ہیں۔ چائے کے دوران ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا ذکر چھڑا تو ایک لمحے کے لیے خاموش ہوئے، پھر کہنے لگے، ”خاکوانی صاحب، میں نے پوری زندگی ٹینکوں کے ساتھ گزاری۔ آج جو کچھ ایران میں ہو رہا ہے وہ دیکھ کر لگتا ہے کہ دنیا بھر کے عسکری ماہرین جس قسم کی روایتی جنگوں کی تیاری کرتے رہے ہیں، مستقبل میں شاید وہ جنگیں لڑی ہی نہیں جائیں گی۔” یہ جملہ سن کر میں بھی سوچ میں پڑ گیا۔

اٹھائیس فروری 2026ء کو جب امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران پر آپریشن ”ایپک فیوری” شروع کیا تو یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، دراصل یہ جنگ کے پورے تصور کو بدل دینے والا واقعہ تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اہم لیڈر، وزرا، پاسداران انقلاب کے کمانڈر، درجنوں اعلی فوجی افسر بھی نشانہ بن گئے۔ ایرانی ایئر ڈیفنس کو پہلے ہی گھنٹوں میں ناکارہ کر دیا گیا۔ اسرائیلی موساد نے تہران کے قریب خفیہ ڈرون بیس قائم کر رکھا تھا جس سے ایئر ڈیفنس سسٹمز تباہ کئے گئے۔ ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیاروں ایف پینتیس وغیرہ نے وہ کام کیا جو روایتی بمباری سے ممکن نہیں تھا۔ پہلے چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار سے زیادہ ٹارگٹس پر حملے ہوئے۔ کہانی مگر یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ایران نے جوابی حملے کئے اور یہ جوابی حملے بھی اتنے ہی دلچسپ ہیں جتنا خود حملہ۔ ایران نے سینکڑوں اور شاید ہزار کے قریب بیلسٹک میزائل اور دو سے تین ہزار ایرانی ساختہ”شاہد” ڈرونز خلیجی ممالک، اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر فائر کئے۔ متحدہ عرب امارات کے بقول انہوں نے صرف پہلے ہفتے میں سولہ سو سے زیادہ ڈرونز اور تین سو سے زائد میزائل انٹرسیپٹ کئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک شاہد ڈرون کی قیمت بیس سے اسی ہزار ڈالر ہے۔ اسے مار گرانے والے پیٹریاٹ میزائل کی قیمت چالیس لاکھ ڈالر ہے۔ یعنی ایک سستا ڈرون گرانے کے لیے آپ کو پچاس گنا زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ امریکیوں نے پہلے تین دنوں میں تقریبا چار سو ٹوم ہاک کروز میزائل استعمال کئے – یہ ان کے پورے ذخیرے کا دس فیصد تھا۔ ایک ٹوم ہاک کی قیمت پینتیس لاکھ ڈالر ہے۔ اسی رقم میں تیرہ ہزار شاہد ڈرونز بنائے جا سکتے ہیں۔ یوں دنیا بھر کے عسکری ماہرین پر یہ حقیقت کھل گئی اس نئے سٹائل آف وار میں دو ہوائی جنگیں بیک وقت لڑی جا رہی ہیں۔ اوپر والی جنگ میں امریکی اور اسرائیلی طیارے جیت رہے ہیں، ایران کے ایئر ڈیفنس تباہ کر رہے ہیں، عمارتیں اڑا رہے ہیں، قیادت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بظاہر کمزور ایران بھی بیک وقت لڑی گئی دوسری جنگ میں اپنے سستے ڈرونز سے تباہی مچا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہے، تیل کی قیمتیں آسمان پر ہیں، خلیجی ممالک کے تیل کے کارخانے نشانے پر ہیں، دبئی میں عمارتیں ڈرون حملوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔

ہمارے ہاں فوج کے حوالے سے بات کرنا ایک حساس معاملہ ہے، میں خود بھی بہت محتاط رہتا ہوں۔ ویسے بھی الحمدللہ ہماری عسکری کمان مضبوط اور قابل اعتماد ہاتھوں میں ہے۔ پچھلے سال مئی میں پاک بھارت جنگ نے یہ بتا دیا کہ افواج پاکستان نے دشمن کے مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کر رکھی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان سے بہتر پوزیشن میں یہ تھے۔ اللہ کا فضل شامل حال ہوا اور پاکستان سرخرو ہوا۔ یہ بنیادی نکتہ ذہن میں رہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ایران کی جنگ نے جو سبق دیا ہے وہ اتنا اہم ہے کہ اس پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔ اس لیے کہ اس نئے اسٹائل کی جنگ میں اب عوام اور سول محکموں کی شمولیت بھی زیادہ ضروری اور اہم ہوگئی ہے۔

بات یہ ہو رہی تھی کہ جنگ کے پرانے تصورات اب قص پارینہ بن رہے ہیں۔ بڑی فوجیں، سینکڑوں ٹینکوں کے بریگیڈ، توپ خانے کی لمبی قطاریں، یہ سب بیسویں صدی کی جنگ کے آلات ہیں۔ اکیسویں صدی کی جنگ ڈرونز، ہائپرسونک بیلسٹک میزائل، سپر سونک کروز میزائل، سائبر وار فیئر، ملٹی لیئرڈ ائیر ڈیفنس اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے لڑی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟ یہ سوال اہم بھی ہے اور فوری بھی۔ پاکستان کے حریف صرف بھارت اور افغانستان نہیں۔ اسرائیل بھی ایک حقیقت ہے اور امریکا کے ساتھ رشتے کتنے ہی اچھے ہوں، لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی نہ کبھی یہ عالمی قوت ہمارے خلاف بھی کھڑی ہوگی۔ ہمارے منصوبہ ساز اس سے واقف ہیں، اس لیے انہوں نے کبھی اس بڑی قوت پر بھروسہ نہیں کیا، ہمیشہ اسے شک کی نظر سے دیکھا اور اس کے لیے تیاری بھی کر رہے ہوں گے۔ ہم پاکستانی ویسے ابھی تک 2011کی ایبٹ آباد کارروائی بھی نہیں بھولے۔ ایک دفاعی تجزیہ نگار جن سے پچھلے ہفتے بات ہوئی، کہتے تھے کہ ایران سے سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مہنگے ہتھیاروں کا زمانہ ختم ہو رہا ہے۔ ایک ٹوم ہاک کی قیمت میں تیرہ ہزار سے زیادہ حملہ آور ڈرونز بن سکتے ہیں۔ پاکستان نیوی نے حال ہی میں ایک کامی کازی (خود کش) ڈرون متعارف کرایا ہے جو شاہد ڈرون سیریز سے ملتا جلتا ہے۔ یہ درست سمت میں ایک قدم ہے۔ مگر سوال پیمانے کا ہے۔ ایران مہینے میں چار سو سے زائد ڈرونز بنا رہا تھا، روس روزانہ ایک ہزار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں بھی اپنا پوٹینشل اور کیپسٹی بڑھانا ہوگی۔

دوسری طرف ائیر ڈیفنس کا معاملہ ہے۔ ایران کا ائیر ڈیفنس کمزور تھا اور اسی لیے وہ پہلے ہی گھنٹوں میں تباہ ہو گیا۔ اسرائیل کا آئرن ڈوم، ڈیوڈز سلنگ اور ایرو تھری ملٹی لیئرڈ سسٹم ہے – یہ مہنگا ہے مگر کام کرتا ہے۔ پاکستان کو بھی ملٹی لیئرڈ ائیر ڈیفنس چاہیے جو بیلسٹک میزائل سے لے کر چھوٹے ڈرون تک سب کو روک سکے۔ چینی ایچ کیو نائن اور ایل وائی ایٹی سسٹمز ہمارے پاس ہیں مگر ہمیں چین سے زیادہ جدید ائیر ڈیفنس سسٹمز لینے ہوں گے۔ ایران نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ صرف بیلسٹک میزائل جمع کرنا کافی نہیں۔ ایرانی میزائلز کے وار ہیڈز چھوٹے تھے، مگرنفسیاتی اثر بہت تھا مگر فوجی نقصان محدود رہا۔ پاکستان کو اپنے فتح سیریز کے ٹیکٹیکل میزائلز کو مخصوص اہداف ریڈار، پل، کمانڈ نوڈز کے لیے تیار رکھنا چاہیے۔ ہمارے پاس ایران سے زیادہ صلاحیت اور قوت ہے، ہم الحمدللہ اپنے دشمن کو تباہ وبرباد کر سکتے ہیں، صرف نفسیاتی دباو ڈالنے تک ہم نہیں رہیں گے۔

ایک اور پہلو بھی ہے جس پر بات ضروری ہے۔ بحری جنگ۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو عملا بند کر دیا۔ دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل رک گئی۔ ایرانی بحریہ نے ایکسپلوسو ڈرون بوٹس سے حملے کئے یا کہہ لیں اس کا ڈراوا دیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ریاست نے خودکش ڈرون کشتیوں سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سوچا۔ پاکستان نیوی نے آپریشن محافظ البحر شروع کیا ہے مگر اس سے اب آگے کا سوچنا ہوگا۔ ہنگور کلاس آبدوزیں آ رہی ہیں، یہ اچھی بات ہے، مگر آبدوزوں کے لیے محفوظ زیرزمین اڈے بھی چاہئیں ورنہ وہ بندرگاہ میں ہی نشانہ بن سکتی ہیں۔ ہمارے منصوبہ ساز اس حوالے سے بھی سوچ رہے ہیں، مگر عوام کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ ان سب کیلیے دفاعی بجٹ میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرنا پڑے گا۔ یاد رہے کہ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ روایتی فوج بالکل بے معنی ہو گئی ہے، بس اتنا کہ نئی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیارے، جیسے ایف پینتیس اس جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ بھارت کے پاس رافال ہے مگر سٹیلتھ فائٹر ابھی نہیں، اگرچہ وہ امریکا یا اسرائیل سے ایف پینتیس لینا چاہتا ہے۔ پاکستان چین سے جے پینتیس سٹیھلتھ طیارے لے رہا ہے، ترکی کے ساتھ ففتھ جنریشن طیارے کان میں بھی پاکستان پارٹنر ہے۔ اس سے بڑا فرق پڑے گا۔ ڈرونز کی بڑے پیمانے پر پیداوار، الیکٹرانک وار فیئر کی صلاحیت، سائبر ڈیفنس، اور سب سے اہم مضبوط تباہ کن ائیر ڈیفنس جو سستے ڈرونز کو بھی روک سکے اور مہنگے میزائلز کو بھی۔ یہ سب آج کی ضرورت ہے۔

میں دفاعی ماہر نہیں ہوں، ان معاملات میں بہت کچھ ہے جو میری سمجھ سے باہر ہے۔ مگر اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ جنگ کا چہرہ بدل چکا ہے اور جو اسے نہیں پہچانے گا وہ اگلی جنگ ہار جائے گا۔ ایران نے یہ سبق اپنے خون سے لکھا ہے۔ پاکستانی عوام کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ایرانی عوام کی طرح ان نئی جنگوں میں فوج کے ساتھ مل کر لڑنا ہوتا ہے۔ ایران میں بھی حکومت کے خلاف ایک بڑے حلقے کو تحفظات تھے، دشمن کے خلاف مگر پوری ایرانی قوم متحد اور یکجان ہوگئی۔ پاکستانی عوام بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ اب بھی ہمیں اپنے اندر موجود ایک سیاسی حلقے کو سمجھانا اور قائل کرنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات، لڑائیاں چلتی رہتی ہیں، مگر جب ملک اور قومی سلامتی کو خطرہ ہو تو سب کچھ بھلا کر ریاست کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ ہمارا مشرقی پڑوسی سازشوں میں مصروف ہے، ہمارے مغربی پڑوسی افغانستان کو اس نے آلہ کار بنا رکھا ہے۔ مڈل ایسٹ کی غاصب ریاست اسرائیل بھی ہماری جانی دشمن ہے۔ ان سب سے خبردار رہنا، ان کے مقابلے کے لیے بھرپور تیار رہنا ہوگا۔ ان شاء اللہ ہماری افواج ماضی میں بھی سرخرو رہی ہیں، آج اور آنے والے کل میں بھی نئے اسباق سیکھ کر کامیاب اور سربلند ہوں گے۔