گزشتہ دنوں مشہور نام نہاد سماجی تنظیم آر ایس ایس کے قائد موہن بھاگوت صاحب نے بھارت کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو ”گھر واپسی” کی دعوت دی ہے۔ گھر واپسی سے ان کی مراد ہے: اِن مذہبی اکائیوں کا ہندو دھرم اور نئی اصطلاح میں ”سناتن دھرم” کو قبول کرلینا، ملک کے دستور میں جو مذہبی آزادی کا حق رکھا گیا ہے، اس کے تحت ہر شخص کو اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ لیکن اس سے یہاں کے فرقہ پرست عناصر کو بہت تکلیف ہے۔ وہ جس مذہب کی پیروی کرتے ہیں وہ انسانوں کے درمیان نابرابری پر مبنی ہے۔ اس میں عورتوں کو سماجی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، مذہبی فرائض کو صرف برہمن اور اعلیٰ ذات کے افراد ہی انجام دے سکتے ہیں۔ دوسرے لوگ مذہبی رہنمائی کا فریضہ تو کیا انجام دیں گے وہ بعض مندروں میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ اس کی تعلیمات قدم قدم پر عقل اور فطرت سے ٹکراتی ہیں۔ جو مورتیاں بولنے سے اور حرکت کرنے سے محروم ہیں اور خود اپنے آپ سے ایک مکھی کو نہیں بھگا سکتیں، ان کو خدا قرار دیتے ہیں۔ جو عورت بیوہ ہو جائے خواہ وہ کتنی ہی کم عمر ہو، اس پر نکاح کا دروازہ بند کر دیا جاتا ہے۔ انسانوں کے ایک طبقہ کو اتنا حقیر سمجھا جاتا ہے کہ اگر کھانے یا پانی کے برتن میں ان کا ہاتھ لگ جائے تو اس کو ناپاک اور ناقابل استعمال باور کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے مذہب کے بارے میں کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ نئے اور سمجھ دار لوگ اس کو قبول کریں گے!
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ صدیوں سے بہت سے پرانے لوگ اس گھر سے باہر آتے رہے ہیں اور نئے لوگ اس ”گھر” میں داخل نہیں ہو رہے ہیں۔ ایران وافغانستان سے لے کر مشرقی ایشیا انڈونیشیا، ملیشیا، کمبوڈیا، تائیوان وغیرہ کو دیکھیں تو لاکھوں لوگوں نے اپنی مرضی سے اس گھر کو چھوڑ دیا ہے اور جو لوگ اس گھر میں ہیں، وہ کسی عقل اور منطق کے تحت نہیں ہیں بلکہ موروثی روایت کے تحت ہیں۔ یہ صرف موجودہ ہندو ازم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تاریخ میں تمام بت پرست قوموں کے پاس اپنے عمل کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ ان کا ایک ہی نعرہ تھاکہ ہمارے باپ دادا اس کو کرتے آئے ہیں اس لیے ہم بھی اس کو کرتے رہیں گے: قالوا اِنا وجدنا آبانا علی اُمة و اِنا علیٰ آثارِہِم مہتدون۔ (الزخرف: 22) اُن کا کہنا تھا: ہم نے اپنے آباء واجداد کو اسی پر پایا ہے اور ہم ان کے نقش قدم پر چل کر ہی فلاح یاب ہوں گے’۔ اس لیے اگر کوئی گروہ آپ کے گھر سے نکل گیا تو پہلے خود اپنے گھر کی کمزوریوں کو تلاش کرنا چاہیے۔
اب یہی دیکھیے کہ اس وقت مغرب سے لے کر مشرق تک اسلاموفوبیا کا بازار گرم ہے۔ پورا میڈیا اسلام کے خلاف محاذ جنگ کھولے ہوئے ہے لیکن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 2010ء سے 2020ء کے درمیان مسلمانوں کی آبادی ایک اشاریہ سات ارب سے بڑھ کر تقریباً دو ارب ہوگئی۔ عالمی مذہبی تناسب میں مسلمانوں کی تعداد چوبیس فیصد سے بڑھ کر چھبیس فیصد ہوگئی۔ (بحوالہ پیو ریسرچ سنٹر، بھارت ایکسپریس) مغربی تجزیہ نگاروںکا اندازہ ہے کہ 2050ء تک مسلمانوں کی تعداد دو اشاریہ اٹھ ارب ہو جائے گی جو عالمی سطح پر آبادی کا تیس فیصد ہوگا۔ یہ سب ”گھر واپسی” جیسی کسی تحریک کی وجہ سے نہیں ہو رہا ہے بلکہ اسلام کی کشش، اسلامی تعلیمات کی عقل وفطرت سے ہم آہنگی اور مساوات وبرابری پر مبنی منصفانہ تعلیمات کی وجہ سے ہے۔ آر ایس ایس کے حامی کتنی بھی نفرت انگیز مہم چلائیں، فسادات برپاکریں اور ملک کے امن وامان کو تباہ کرنے کی کوشش کریں مگر اِن شاء اللہ وہ مسلمانوں کو اپنی راہ سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ دل و دماغ کا سودا ہے جسے دھمکیوں سے اور پیسوں سے خریدا نہیں جا سکتا۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ان بھائیوں کو دعوت دیں کہ وہ اپنے ”حقیقی گھر” کی طرف واپسی کریں۔ جس فرضی گھر میں ابھی وہ وقت گزار رہے ہیں اس کے بارے میں خلوص کے ساتھ غورکریں۔
پوری انسانیت کا اصل گھر عقیدہ توحید ہے۔ پہلے انسان سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے توحید کی ہی تعلیم دی تھی۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ جب خالق کائنات نے ان کو وجود بخشا تو ان سے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت جس کی وہ نمائندگی کر رہے تھے، نے کہا: ‘ہاں! کیوں نہیں’۔ فکر و نظرکا یہی وہ گھر ہے جو سب سے پہلے انسانیت کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ عقیدہ توحید کا گھر۔ آج بھی دنیا کی مذہبی کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔
٭ چنانچہ رگ وید میں ہے: جو ایک انسانوں کو دیکھنے والا ہے اسی ایک کی تعریف کرو۔ (رگ وید)
٭اتھر وید میں ہے: وہ ایشور ایک ہے اور حقیقت میں وہ ایک ہی ہے۔ (اتھروید)
٭رگ وید میں نہ صرف ایک خدا کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے بلکہ شرک کی صاف طورپر نفی بھی کی گئی ہے، کہا گیا ہے: اے لوگو! پرمیشور کے سوا کسی اور عبادت نہ کرو، اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔ (رگ وید)
٭یجروید میں شرک کے ارتکاب پر عذاب کی خبر دی گئی ہے: جو کوئی اسمبھوتی (خدا کی بنائی چیزیں جو انسانوں کے لیے ناممکن ہیں، جیسے: آگ، ہوا، پانی اور مٹی، انسان اور حیوان) کی پوجا کرتے ہیں، انہیں اندھیری جہنم میں داخل کیا جائے گا اور جو لوگ سمبھوتی (انسانوں کے لیے ممکن جیسے مکان، گاڑی اور مورتی وغیرہ) کی پوجا کرتے ہیں وہ مزید گہرے اور اندھیرے جہنم میں گرایا جائے گا۔ (یجروید)
ہندو مذہبی کتابوں سے یہ چند مثالیں ہیں، لیکن ان کی کتابوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں توحید کا بیان کثرت اور تکرار کے ساتھ منقول ہے: پنڈت دیانند سرسوتی جی جو ویدوں کے بڑے عالم تھے، ان کی کتاب سیتیارتھ پرکاش کئی زبانوں میں نقل کی گئی ہے۔ اُن سے پوچھا گیاکہ وید میں ایشور بہت ہیں، اس بات کو تم مانتے ہو یا نہیں؟ جواب دیا: نہیں مانتے! کیونکہ چاروں ویدوں میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی ہے جس سے کئی ایشور ثابت ہوں۔ لیکن یہ تو لکھا ہے کہ ایشور ایک ہے’۔ عیسائیت جس کو ماننے والوں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا مذہب کہا جاتا ہے، میں بھی قدم قدم پر توحید کی تعلیم ملتی ہے۔ بائبل کے ایک صحیفہ میں فرمایا گیا ہے: خداوند، تیرا فدیہ دینے والاہے، جس نے رحم میں تجھے بنایا، یوں فرماتا ہے کہ خداوند سب کا خالق ہوں، میں اکیلا ہی زمین کو تاننے اور بچھانے والا ہوں، کون میرا شریک ہے۔ (یسعیاہ) نیز فرمایا گیا ہے: خداوند فرماتا ہے: تم میرے گواہ ہو اور میرے خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا، تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لائو اور سمجھوکہ میں وہی ہوں، مجھ سے پہلے کوئی خدا نہیں تھا اور نہ میرے بعد بھی کوئی ہوگا۔ (مصدر سابق) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شہادت ہے: زمین پر کسی کو اپناباپ نہ کہو، تمہارا باپ ایک ہی ہے، جو آسمانی ہے۔ (متی)
غرض کہ عقیدہ ومذہب کے اعتبار سے انسانیت کا حقیقی گھر اسلام ہے۔ ہر مذہب نے بنیادی طورپر اسی کی دعوت دی لیکن مذاہب کے پیروکاروں نے اس میں ردوبدل کرکے شرک کو شامل کر دیا۔ عیسائیوں نے تین خدا بنا لیے اور جو لوگ اپنے آپ کو سناتنی کہتے ہیں، انہوں نے 33کروڑ معبود بنائے ہوئے ہیں لیکن ان سب کا اصل دھرم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اسلام ہی پوری انسانیت کا ”حقیقی گھر” ہے۔ آر ایس ایس کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو فرضی گھر کی طرف بلانے کی بجائے ان کے حقیقی گھر کی طرف آنے کی دعوت دیں۔ اس وقت ہمارے ملک میں جومسائل ہیں وہ بنیادی طورپر ذات پات اور اونچ نیچ کی وجہ سے ہیں۔ اگر سارے لوگ اس حقیقی گھر کی طرف آجائیں تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ کاش’ آر ایس ایس کے سربراہ فراخ دلی سے کام لیں اور یا تو ملک کے دستور پر قائم رہیں یا گھر واپسی کی ہی دعوت دینا ہو تو حقیقی گھر کی طرف بلائیں۔

