میرے سخن کا عنوان محمد ﷺ

(مضمون: سیدہ آمنہ محمد الیاس)
میرے قلم کی روشنائی جب بھی حرکت میں آتی ہے تو اُس کے حروف کی پہلی آرزو، پہلا خیال اور پہلی صدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بن جاتی ہے۔
یہی وہ مقدس نام ہے جو دل کی دھڑکنوں میں اُتر کر روح کو سکون عطا کرتا ہے، جو اندھیروں میں چراغ اور مایوسی میں اُمید کی روشن کرن بن کر اُبھرتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم محض ایک ہستی نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہیں۔ آپ علیہ السلام کی سیرت انسانیت کے لیے ایسا روشن چراغ ہے جس کی روشنی میں ہر دور، ہر زمانہ اور ہر معاشرہ اپنی راہ تلاش کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کا سلیقہ سکھایا، عدل کی بنیاد رکھی، صبر و برداشت کا درس دیا اور انسان کو انسان سے جوڑنے کا ہنر عطا فرمایا۔ غرض یہ کہ زندگی کے ہر گوشے کی باریکیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے سکھائیں جیسے کوئی مشفق باپ محبت سے اپنے بچوں کی رہنمائی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارش کی بوندیں اور خیالات کا وہ نورانی سفر
میرے سخن کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہر خوبی کا سرچشمہ اور ہر کمال کا منبع ہے۔ جب میں اخلاق کی بات کرتی ہوں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے ہیں، جب میں صبر کی مثال ڈھونڈتی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے جلوہ گر ہوجاتے ہیں۔ جب دل پر شبِ غم چھا جاتی ہے اور اُمت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بے قراری یاد آتی ہے تو دل بے اختیار تڑپ اٹھتا ہے۔ جب ساتھی سب کھو جاتے ہیں، جب میں تنہائی کے سناٹوں میں بے بسی کے سمندر میں ڈوب جاتی ہوں، جب انجانے دُکھ کی لہریں دل کو گھیر لیتی ہیں اور طبعِ حزیں مضطرب ہوجاتی ہے تو ایسے میں بس ایک ہی سہارا رہ جاتا ہے…. اور وہ ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد اور جب محبت کی انتہا کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت رہنمائی کرتی ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا روشن کردار اس محبت کی زندہ تصویر بن کر سامنے آجاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر لمحہ، ہر عمل اور ہر قول ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ علیہ السلام نے دشمنوں کو معاف کرکے یہ سکھایا کہ عظمت طاقت میں نہیں بلکہ درگزر میں ہے اور یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر یہ بتایا کہ اصل رفعت کمزوروں کا سہارا بننے میں ہے۔
مزید پڑھیں: کچھ توجہ یہاں بھی ہو !
اگر میں اپنے جذبات کو لفظوں میں سمیٹنا چاہوں تو وہ کم پڑ جاتے ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت الفاظ کی محتاج نہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ میرا کلام ہی اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج ہے، کہ شاعر کے بقول
ما اِن مدحتُ محمداً بمقالتی
ولکن مدحتُ مقالتی بمحمدٍ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کی بنیاد ہے اور آپ علیہ السلام کا ذکر دِلوں کی حیات۔ میرے سخن کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہی عنوان میری پہچان، میرا فخر اور میری عقیدت کی معراج ہے۔ میری تحریر کی ہر سطر اِسی نامِ مقدس کی خوشبو سے مہکتی ہے اور میرا دل اِسی نسبت سے روشنی پاتا ہے۔ جب تک قلم میں جان باقی ہے، لفظوں میں تاثیر کی رمق ہے اور دِل میں دھڑکن کی صدا قائم ہے، تب تک میرے ہر خیال، ہر تحریر اور ہر دُعا کا مرکز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی رہیں گے۔ اِن شاءاللہ تعالیٰ! کیونکہ یہی نسبت میری زندگی کی زینت، میری روح کا سکون اور میرے عشق کی انتہا ہے۔