خیمہ اسکول سے آغوشِ شہادت تک، ننھی ریتاج کی المناک داستان

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
غزہ کے شمالی افق پر ویسے بھی غموں کے بادل ہر وقت چھائے رہتے ہیں مگر 9 اپریل جمعرات کی صبح نے ایک ایسا سانحہ اپنے اندر سمیٹ رکھا تھا جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ غزہ کا ہر دل مغموم تھا۔ بیت لاہیا کے ملبے میں ڈوبے ایک علاقے میں نو سالہ ریتاج ریحان اپنے چھوٹے سے تعلیمی خیمے میں بیٹھی تھی۔ اس کے ہاتھ میں نہ کوئی ہتھیار تھا، نہ وہ کسی محاذ پر تھی۔ وہ صرف ایک طالبہ تھی، ایک بچی جو جنگ کے اندھیروں میں علم کی ایک کرن تلاش کر رہی تھی۔ مگر قسمت نے اس کے لیے کچھ اور لکھ رکھا تھا، ایک گولی اور ایک ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانے والی کہانی۔ الجزیرہ نے ریتاج کی اس دلخراش کو نہایت موثر انداز میں بیان کیا ہے۔
صبح کا وقت تھا۔ سورج ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوا تھا مگر ریتاج کے چہرے پر اُمید کی روشنی پہلے ہی جھلک رہی تھی۔ وہ ان بچوں میں شامل تھی جو طویل عرصے بعد دوبارہ تعلیم کی طرف لوٹ رہے تھے۔ جنگ نے اس کے خواب چھین لیے تھے مگر اس دن وہ دوبارہ اپنی کاپی اور قلم کے ساتھ بیٹھی تھی، جیسے زندگی کو ایک اور موقع دینا چاہتی ہو۔ وہ اس خیمے میں موجود تھی جو تباہ شدہ ’ابوعبیدہ بن الجراح اسکول‘ کے ملبے پر قائم کیا گیا تھا، ایک عارضی درسگاہ، جہاں کتابیں تو تھیں مگر دیواریں نہیں، اُمید تو تھی مگر تحفظ نہیں۔اسی دوران اچانک فضا کا سکون ٹوٹ گیا۔ گولیوں کی آواز نے ماحول کو چیر دیا۔ کسی کو اندازہ نہ تھا کہ اگلے چند لمحوں میں کیا ہونے والا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ریتاج اپنی نشست پر کھڑی تھی، اپنی کاپی درست کروانے کے لیے منتظر۔ یکایک ایک گولی خیمے کو چیرتی ہوئی آئی اور اس کے منہ میں لگی۔ وہ وہیں زمین پر گر گئی۔ اس کے اردگرد بیٹھے بچے چیخ اٹھے، اساتذہ دوڑے مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔اسے فوری طور پر ایک گدھا گاڑی کے ذریعے قریبی طبی مرکز لے جایا گیا، جی ہاں، غزہ میں ایمبولینس سروس کی خدمت جانوروں سے ہی لی جاتی ہے۔ علاقے کے بیشتر اسپتال پہلے ہی تباہ کیے جا چکے تھے مگر ڈاکٹرز نے ہاتھ کھڑے کردیے۔ گولی براہِ راست جان لیوا تھی۔ یوں ایک معصوم جان، جو چند لمحے پہلے تک مستقبل کے خواب دیکھ رہی تھی، ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
ریتاج کے والد عبدالروف ریحان کے لیے یہ لمحہ قیامت سے کم نہ تھا۔ وہ کہتے ہیں میں نے اسے اپنے قدموں پر اسکول چھوڑا تھا، وہ خوش تھی مگر واپس وہ لاش بن کر آئی۔ ان کی آواز میں وہ درد تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ اپنی بیٹی کی خون آلود کاپی کو دیکھتے ہیں جس میں اس کی آخری تحریر درج ہے: ہماری بستی صاف ہے۔ یہ الفاظ اب ایک المیے کی علامت بن چکے ہیں، ایک ایسے خواب کی جو پورا ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا۔ریتاج کی ماں علا ریحان کی حالت اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والی ہے۔ وہ بار بار ایک ہی جملہ دہراتی ہیں: مجھے میری ریتاج واپس لا دو مگر اس صدا کا کوئی جواب نہیں۔ خیمے میں اس کے کپڑے، اس کی مسکراہٹوں کی تصویریں اور اس کے ادھورے خواب باقی رہ گئے ہیں۔اس کے نئے ڈریس جو وہ اپنے ماموں کی شادی میں پہننے والی تھی، اب ایک یاد بن چکے ہیں۔ ایک ایسی یاد جو ہمیشہ ماں باپ کے کلیجے پر تیشے چلاتی رہے گی۔ریتاج کی کہانی مزید تکلیف دہ اس لیے بھی ہے کہ وہ اپنے والدین کو پانچ سال کی طویل جدوجہد اور علاج کے بعد ملی تھی۔ اس کی پیدائش ایک معجزے سے کم نہ تھی مگر اس کا اختتام ایک سانحہ بن گیا۔ اس کا چھوٹا بھائی جو ابھی زندگی کی حقیقتوں سے ناواقف ہے، اپنی بہن کو ڈھونڈ رہا ہے، مگر اسے یہ نہیں معلوم کہ اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی۔
اس خیمہ اسکول کا منظر آج بھی دل دہلا دیتا ہے۔ وہ جگہ جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، اب سنسان پڑی ہے۔ خون کے دھبے، ٹوٹے ہوئے بستے اور خاموشی، یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہاں کچھ ایسا ہوا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وہ خیمہ جو علم کا مرکز بننے والا تھا، ایک مقتل میں بدل چکا ہے۔ریتاج پر بیتنے والی داستان صرف ایک بچی کی کہانی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی تباہی کی علامت ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس جاری جنگ میں اب تک 21 ہزار سے زائد بچے شہید ہوچکے ہیں۔ اسی طرح وزارت تعلیم غزہ کے مطابق لاکھوں طلبہ تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ 95 فیصد تعلیمی ادارے تباہ یا ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں۔تعلیمی مرکز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ محفوظ زون قرار دیا گیا تھا مگر اس کے باوجود یہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر محفوظ مقامات بھی غیرمحفوظ ہوجائیں تو پھر عام شہری کہاں جائیں؟ ریتاج کی شہادت اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ جنگ میں اب کوئی جگہ واقعی محفوظ نہیں رہی۔بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے نے تشویش پیدا کی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داران کا تعین کیا جانا چاہیے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں روزانہ ایسے سانحات پیش آ رہے ہیں اور ہر نیا دن ایک نئی کہانی لے کر آتا ہے؛ درد کی، نقصان کی اور بے بسی کی۔ریتاج کی کہانی ان ہزاروں کہانیوں میں سے ایک ہے مگر اس کی معصومیت، اس کے خواب اور اس کا انجام اسے ایک علامت بنا دیتے ہیں۔ وہ صرف ایک بچی نہیں تھی، وہ ایک امید تھی، ایک خواب تھا، ایک مستقبل تھا، جو ایک لمحے میں ختم کر دیا گیا۔
آج غزہ میں اسکول صرف تعلیم کی جگہ نہیں رہے بلکہ پناہ گاہیں بھی نہیں۔ وہ اب ایسے مقامات بن چکے ہیں جہاں زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ صرف ایک گولی کا رہ گیا ہے۔ ریتاج کا خون اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ جنگ صرف عمارتیں نہیں گراتی بلکہ نسلوں کے خواب بھی مسمار کر دیتی ہے۔ ریتاج چلی گئی مگر اس کی یاد، اس کی کاپی اور اس کا ادھورا سبق باقی ہے۔ وہ سوال چھوڑ گئی ہے کیا دنیا اس خون کو دیکھ کر بھی خاموش رہے گی؟ کیا کبھی ایسا وقت آئے گا جب بچے جنگ سے دُور سکون سے پڑھ سکیں گے؟ غزہ کے مظلوم باسیوں کا کہنا ہے کہ ریتاج کی شہادت ایک پکار ہے انصاف کے لیے، امن کے لیے اور اس حق کے لیے جو ہر بچے کو حاصل ہونا چاہیے: جینے کا حق، سیکھنے کا حق اور خواب دیکھنے کا حق۔ مگر فی الحال غزہ میں خواب دیکھنا بھی ایک خطرہ بن چکا ہے….!!